RSS

Category Archives: ہنسی غم کا علاج

تصویر

چودہ فروری کو کیا ہے ؟

L-172

 

ماہر لوگ

 

وظیفہ

 

تم جیتو یا ہارو ، ہمیں تم سے پیار ہے

 کرکٹ گئی بھاڑ میں ! 

مجھے اُس بندے کی تلاش ہے ، جس نے کہا تھا  !
تم جیتو یا ہارو ، ہمیں تم سے پیار ہے !
 

پاکستانی کہاوتیں

٭-  ہمارا ایٹمی پروگرام امریکی ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور محفوظ ہے، ہماری نمبر ون نمبر ون ہے۔
٭- ہمارا ایک فوجی دس امریکی فوجیوں پر بھاری ہے اور سو انڈین فوجیوں پر- 
٭-مولانا فضل الرحمن کی حکومت آنے سے یہودی بہت ڈرتے ہیں انہوں نے باقی سارے سیاست دان خرید لیے ہیں-
 ٭-دو تین کشمیری مجاہد انڈیا میں گھس کر ہزاروں فوجیوں کو واصل جہنم کر دیتے ہیں، ان کی مدد ان دیکھی مخلوق کرتی ہے-
٭- پاکستان خلائی مخلوق  کی نگرانی میں چل رہا ہے ۔
٭- پاکستانی مرد میں مردانہ طاقت دنیا میں سب سے زیادہ ہے ،اسے ختم کرنے کے لیے پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں-

٭- چائنہ نے 300 روپے فی گھر، بجلی آفر کی تھی جو ہمارے کرپٹ حکمرانوں نے نہیں لی- ٭-اگر فوج سیاست میں مداخلت نہ کرے تو سیاست دان ملک بیچ کر کھا جائیں، پر مسلسل خسارے میں جانے والا ملک خریدے گا کون یہ کوئی نہیں بتاتا-
٭-  انڈین سیاست دان اپنے ملک کے ساتھ مخلص ہیں اور ہمارے سیاست دان انڈیا کے ساتھ مخلص ہیں پاکستان کے ساتھ نہیں- 
٭- چاند سے خانہ کعبہ نظر آتا ہے، فیس بُکی  مجاہدین کا فوٹو شاپ  اعلان- 
٭-اسرائیل کا قیام پاکستان کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا  تھا ۔
٭- اسلام   میں  خون دینا  مکروہ  اور اعضا کی پیوند کاری حرام ہے  ۔
٭- میرا گردہ خراب ہو گیا ہے ۔  کہاں سے ملے گا ۔
٭-  100 طاقت ور یہودی امریکا اور یورپ کو چلاتے ہیں،  دو ارب عیسائی اور ڈیڑھ ارب مسلمان بیوقوف ہیں-
٭-  مسلمانوں نے طب کے میدان میں ترقی کی  اور طب یونانی   میں نام پیدا کیا ۔
٭-  مغرب کی ترقی کا راز ، ہماری کتابوں  سے  چوری ہے، جو اُس نے اندلس سے لوٹی  ۔
٭- اگر  ہلاکو  بغداد کی لائبریری کو نہ جلاتا تو  چاند پر ہماری بستیاں ہوتیں ۔

٭-  ترقی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں. سب نے مر جانا ہے. دنیا سے محبت نہیں ہونی چاہیے-
٭- سائنس کی کوئی بات یقینی نہیں ہوتی بلکہ گمان پر منحصر ہیں  جبھی وہ گمراہ ہوجاتے ہیں ، عبدالسلام مردہ باد!
٭-اچھا مسلمان وہ ہے جو افغانستان ایران اور بنگلہ دیش کو بھی برا سمجھے اور انڈین مسلمانوں کو منافق- 
٭-ایک رات علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا اور صبح اپنے دوست قائداعظم کو بتایا تو قائد اعظم نے پاکستان بنا دیا-
٭-  مطالعہ پاکستان میں جو بھی لکھا ہے وہی سچ ہے جو اسے نہ مانے وہ غدار ہے اسے غوری میزائل پر بٹھا کر انڈیا بھیج دینا چاہیے- 
٭- مکہ میں ملنے والی پیرا سیٹا مول بابرکت ہے ایک گولی کھانے سے سردرد دور ہوجاتا ہے ، یہاں دس بھی کھالو فائدہ نہیں ۔ 
٭- سنا ہے زمزم کے پانی کو ہر وقت فرشتے سجدہ کرتے ہیں  ، میں اپنا کفن خالص زمزم میں دھلوا کر لایا ہوں ۔

٭-ہم اپنی تمام کمینگیوں اور حرام زدگیوں کے باوجود بہت جلد سپر پاور بن جائیں گے۔
٭- زیادہ پڑھنے لکھنے سے دماغ خراب ہو جاتا ہے-
٭- 72 فرقے ، جہنم میں، میرا فرقہ جنت میں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

اپنے سامان کی خود حفاظت کریں !

 

حسبِ حال

 پٹھان : میں اِ س سے اپنا ڈرائیونگ لائیسنس بنواؤں گا ۔

پٹھان کی ماں بولی  : اِس کی بات کا یقین مت کرو یہ ہیروئین پی کر کچھ بھی بول سکتا ہے ۔


پٹھان کا باپ نیند سے جاگ کر بولا : مجھے پتہ تھا کہ چوری کی کار میں ہم زیادہ دور نہیں جاسکتے ۔

ڈگی سے آواز آئی : خان صاحب ہم نے باڈر کراس کیا کہ نہیں ؟

 

تہذیبِ گُم گَشتہ !

 

بوڑھا، بڑھیا اور چھوٹی چھوٹی تفریحات !

اکثر نوجوان پوچھتے ہیں ،
کہ ریٹائرڈ زندگی کیسے گذرتی ہے ؟
آپ دونوں بور نہیں ہوتے ؟
کیا آپ کی زندگی میں کوئی تفریح ؟
کوئی ہلا گُلّہ یا کوئی ایڈ ونچر ہے ؟
اب اُنہیں کیا بتایا جائے ، کہ ہماری زندگی کیسے گذرتی ہے ، مثلاً
ایک دن ہم اپنی ہاوسنگ کالونی سے  صدر کی طرف گئے وہاں ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں ہفتہ بھر کا سامان خریدا ، ہم چاہیں تو پورے مہینہ کا سامان بھی خرید سکتے ہیں یا کالونی کے سٹور سےروزانہ یہی سامان خرید لیں  جو گھر سے صرف دوسو میٹرز پر ہے ، لیکن پھر وہاں روزانہ وہی شکلیں وہی بات ،
کیسا حال ہے ؟
بچے کیسے ہیں ؟
تمھاری بیوی کل پارک میں ملی  تھی بیمار لگ رہی تھی ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے ؟
ارے ، تم پرسوں لنگڑا کر چل رہے تھے ، کیا ہوا تھا ؟
وغیرہ وغیرہ !
انسان روزانہ یہ باتیں سُن کر بور ہوجاتا ہے ۔
ہم دونوں سٹور سے نکلے ، تو دیکھا پولیس والا ، کار کے پاس کھڑا چالان کاٹ رہا تھا ۔
میں آگے بڑھا۔ بولا ،
"نوجوان کچھ رعایت ہو سکتی ہے ؟”
اُس نے بالکل توجہ نہ دی،  میں نےآہستہ سے کہا ،
” گدھے کا بچہ "
اُس نے دوسرا چالان بنانا شروع کر دیا ۔
بڑھیا نے میری طرف دیکھ کر کہا ،
” بندر کی اولاد بہرا لگتا ہے "
پولیس والے نے دوسرے چالان کے بعد تیسرا چالان کاٹنا شروع کیا ۔
اُس دن ہم دونوں نے بلا مبالغہ 30 چالان کٹوائے اور وہ بھی اتنا ہٹ دھرم تھا کہ ٹکٹ پر ٹکٹ کاٹے جا رہا تھا ، گویا اُسے اور کوئی کام نہیں وہ اپنا پورے مہینے کا کمیشن شاید آج ہی بنا لے ۔
 ہم نے بھی تہیہ کیا کہ آج اُس بے چارے کا چالان پر چالان کاٹنے کو شوق پورا کردیں –
 
کہ اتنے میں ہارن کی آواز آئی    اور بس آکر رکی میں اور ماریا بس میں سوار ہوئے اور اپنے گھر کے پاس اتر گئے !
ہم دونوں روزانہ ایسے ہی چھوٹے موٹے مزاح سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔
کہتے ہیں، بوڑھا  اور بچہ ایک جیسا ہوتا ہے ۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ بوڑھے تجربہ کار ہوتے ہیں !
 

ازواجیات کا خلوص !