RSS

Tag Archives: أَفَلَا يَتَدَبَّرُ‌ونَ الْقُرْ‌آنَ

انسانی مذہبی ظنّی افعال ، الحق کے متضاد اور کذب ہے !

روح القدّس نے محمد ﷺ کو اللہ کا انسانوں کا اللہ کی آیات میں موضوع ” ظن” کی بابت یہ پیرا گراف اور اِس سے متعلقہ آیات بتائیں ۔

1- اللہ کے علاوہ کائینات  او ر اِس میں موجود اشیاء کی تخلیق  یا اُس کو ری پروڈیوس نہیں کر سکتا نہیں کر سکتا :

 

قُلْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ قُلِ اللَّـهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ ﴿10:34﴾

2- الحق بھی اللہ کی تخلیق ہے ، لہذا اللہ کا کوئی شریک  اللہ کی آیات کے علاوہ  انسانی ہدایت کے لئے الحق  نہیں گھڑ سکتا اور نہ اُس کی طرف ہدایت  پر لا سکتا  ہے –

قُلْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ ۚ قُلِ اللَّـهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ ۗ أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّي إِلَّا أَن يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ﴿10:35﴾ 

3- تمام انسانی ہدایات ، انسانی ظنّی افعال ہیں ، یہ ظنّی افعال الحق میں کسی بھی چیز کا اضافہ نہیں کر سکتے ۔

 

وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّاظَنًّا ۚ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ ﴿10:36﴾


4- انسان کو ہدایت صرف الحق ہی سے مل سکتی ہے ، جو عربی  میں تفصیل الکتاب ، ربّ العالمین کی طرف سے صرف القرآن میں ہے ۔ انسانی کُتُب میں نہیں ۔ اُن سے بچو !!!!

وَمَا كَانَ هَـٰذَا الْقُرْآنُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿10:37﴾

 

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿10:38

  انسان ، اللہ کی آیات کے جُز بنا کر اللہ کی آیات کے موضوع انسانوں کو کذب بول کر بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور اللہ کے مقابلے میں اپنی آیات اپنی زبان میں تفسیر کی آڑ لے کر گھڑتے ہیں ۔دعاؤں اور بدعاؤں کی بہت سی آیات اپنے ظن سے  گھڑ لیں ہیں اور اُنہیں اپنے متبعین میں یہ کہہ کر پھیلا دی ہیں کہ یہ  ہمیں ” صحاح تسع  عشر ” سے ملی ہیں –

4- جب انسان کا علم اللہ کی آیات کا احاطہ نہیں کر سکتا یا اُس کے فہم و ادراک میں نہیں آتیں تو وہ اللہ پر کذب بولتا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ، یہ تو اُن  کے سلف   کا  صدیوں سے وطیرہ رہاہے ۔

بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ ﴿10:39﴾

5-جو الحق پر ایمان لایا  وہ مؤمن اور جو ظن پر ایمان لایا وہ مفسد ۔ 

وَمِنْهُم مَّن يُؤْمِنُ بِهِ وَمِنْهُم مَّن لَّا يُؤْمِنُ بِهِ ۚ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِينَ ﴿10:40﴾

6- ظن کی اتباع کے لئے کذب بولنے والوں سے دور ہٹ جاؤ اور اللہ کی عربی میں آیات پر عمل کرو !

وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ ﴿10:41﴾

 

 وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا لَا يَعْقِلُونَ ﴿10:42

٭٭٭٭٭٭٭٭

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 12 فروری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز:

عوراتِ النساء کا چھپانا

 روح القدّ س نے محمد ﷺ کو اللہ کاحتمی حکم  ، المؤمنات   کے لئے بتایا جس میں قسم کے ردّوبدل کی کوئی گنجائش نہیں : 
 وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ:

 اور المؤمنات کے لئے کہہ :
a- يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ 

وہ اپنی أَبْصَارِ میں غضض کرتی رہیں ۔
b- وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ 

وہ اپنی فُرُوجَکی  حفاظت کرتی رہیں ۔
c- وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا 

اوروہ اپنی زینت کو  بَدِي مت  کرتی رہیں سوائے  اُس کے کہ جو اُس میں سے ظاہر ہو جائے ۔
d- وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ 

اور اُنہیں چاہیئے  کہ وہ  اپنی    خُمُر کے ساتھ اپنی  جُيُوبِ کے اوپر ضرب لگاتی رہیں   ۔
 تاکہ المؤمنات کی زینت (عورات  النساء   ) درج ذیل( ایک شوہر ،    10 مرد اور ایک بچّے ) کے علاوہ باقی مردوں سے  لازماًخفی  رہیں :   
e- وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا :

 اوروہ اپنی زینت کو   بَدِي مت  کرتی رہیں سوائے:

1. لِبُعُولَتِهِنَّ –  ان کے بُعُول  (شوہروں) کے لئے   ،( اپنی زینت  کو  بَدِي    کرتی رہیں )
2. أَوْ آبَائِهِنَّ –   یاان کےآبَائِ   (والدین)   ہیں
3.أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّیا ان کے  بُعُول     (شوہروں)  کےآبَائِ(والدین)   ہیں
4. أَوْ أَبْنَائِهِنَّ –  یا ان کےأَبْنَائِ   (بیٹے)     ہیں
5. أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ – یا ان کے  بُعُول  کے أَبْنَائِ   (بیٹے)  ہیں
6. أَوْ إِخْوَانِهِنَّ – یا ان کے إِخْوَانِ   (بھائی )    ہیں
7. أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ یا ان کےإِخْوَانِ   (بھائیوں)  کے بَنِي ( بیٹے)   ہیں 
8. أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ یا ان کے   أَخَوَاتِ    (بہنوں)  کے بَنِي ( بیٹے)   ہیں 
9. أَوْ نِسَائِهِنَّ  – یا ان کی      نِسَائِ 
10. أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّیا  جوان کے   مَلَكَتْ أَيْمَانُ ( قسموں کی ملکیت)   ہیں –
11. أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُوْلِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ

  یا     التَّابِعِينَ ( خاص اتباع کرنے والے) جو  الرِّجَالِ میں غَيْرِ أُوْلِي الْإِرْبَةِ ( فائدہ اُٹھانے  والوں کے علاوہ  )    ہوں 
12. أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ 

  یا     الطِّفْلِ (بچے )  وہ جو عورات النساء    پر ظاہر نہ ہوتے ہوں
f- وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ 

 اوروہ اپنے  أَرْجُلِ پر ضرب نہ لگائیں تاکہ اُن(مردوں) کے لئے  علم   ہو 
جو وہ خفی رکھتی ہیں    اُن  کی  زینت میں۔

g- وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ [24:31]

  وہ سب (غضض البصر نہ کرنے والے مرد) مل کر اللہ کی طرف توبہ کریں ۔
أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ تاکہ تم فلاحون میں ہو جاؤ !
 قارئین آپ نے g پر غور کیا ؟
 آیت شروع ہے قُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ سے اور ختم ہو رہی ہےتُوبُوا اورأَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ پر !
کیوں کہ، اِس سے پہلے  کی آیت  میں  ، الْمُؤْمِنِينَ کو اپنی أَبْصَارِ میں غضض کر نے اور اپنی فُرُوجَ کی حفاظت کا حکم اللہ نے بتا دیا ہے ، جو اُن کے لئے أَزْكَىٰ ہے، باقی سب اُن (مُفسّروں مُفتیوں اور ملّاؤں ) کی کہانیاں ہیں ، جن کا اللہ کو پہلے سے علم ہے :

قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ [24:30]

اور المؤمنین کے لئے کہہ :

وہ اپنی أَبْصَارِ میں غضض کرتے رہیں  اور وہ اپنی فُرُوجَکی  حفاظت کرتے  رہیں ۔یہ اُن کے لئے  أَزْكَىٰ ہے، صرف اللہ ،  اُن کی صنعت گری  سے خبیر ہے !

غضض أَبْصَارِکیا نظریں نیچا کرنے کو کہتے ہیں ؟

یا اُن نظروں کو کہتے ہیں ، جن سے ایک بھائی اپنی جوان بہن کو 
یا ایک باپ اپنی جوان بیٹی کو دیکھتا ہے ۔
یاد رکھیں ، ہر مؤمن عورت  ایک مؤمن مرد کے لئے محرم ہے ۔ اسی طرح  ہر مؤمن مردایک مؤمن عورت کے لئے محرم ہے ۔

صرف نکاح ، اُنہیں غیر محرم بناتا ہے !

 










 
تبصرہ کریں

Posted by پر 4 دسمبر, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز:

تصویر

وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 5 نومبر, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

کیا اللہ نے مجرموں کے لئے NRO بنایا ہے ؟

زانی صرف زانیہ یا مشرکہ سے نکاح کرے گا ۔اور زانیہ صرف زانی یا مشرک سے نکاح کرے گی۔

اللہ نےزانی اور زانیہ  مؤمنین پر حرام کر دیئے گئے ہیں !  

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 17 اگست, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

مجرموں کی قوم

  اچھائی اور برائی کا تعلق زبان ، رنگ ، قبائل یا علاقے سے نہیں، بلکہ قوم سے ہوتا ہے ۔

 جیسے ، مؤمنوں کے لئے الکتاب میں درج ہے :
 1- لونڈے بازوں کی قوم ۔ (سنگساری کی حقدار۔ [11:82])
 2- زانیوں کی قوم ۔( سو دُرّوں کی حق دار۔ [24:2])
 3-مؤمنات پر تہمت لگانے والوں کی قوم ( اسی کوڑوں کی حقدار۔ [24:4])
 4- چوروں کی قوم ۔( قطع ید کی حقدار۔ [5:38])
 5- قاتلوں کی قوم ۔(اذیت ناک موت کی حق دار۔ [5:33])
 6- انسانی جسم کو مثلہ کرنے والوں کی قوم ( قصاص مثل کی حق دار۔[5:45])
 7- ہم جنس پرست عورتوں کی قوم ( قید تا حیات کی حقدار۔ [4:15])

وَيُحِقُّ اللّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ  [10:82]
اور اللہ حق  کو    اپنے کلمات کے ساتھ الحق کرتا  رہتا  ہے، اگرچہ المجرمون کو کتنی ہی کراہت ہو !

لہذا   انسانی دنیا میں جتنی سچائیاں دکھائی دیتی ہیں وہ صرف اللہ کے کلمات کے طفیل  آفاقی سچ  یعنی  الحق  بنتی  ہیں ۔

ورنہ  مجرموں کی قوم جھوٹ  کے انبار کو  الفاظوں کی مٹھاس سے ڈھانپتی ہے ۔
 
 
تبصرہ کریں

Posted by پر 4 اگست, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

انسانی جبلّی خامیاں !

روح القدّس نے  محمدﷺ کو  انسانی  خامیاں ،  اللہ کی طرف سے بتائیں :

خامی – 1: ضعیف ہے !
 يُرِيدُ اللّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا [4:28]

خامی – 2: لالچی !
إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا [70:19]

خامی – 3: بے جا بحث کرنے والا   ہے !
أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ ﴿36:77 

إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّـهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا ﴿4:105 

خامی – 4: عُجلت پسند ہے !

وَيَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولاً [17:11] 

خامی – 5: تنگ دست  ہے !
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَّأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنفَاقِ وَكَانَ الإنسَانُ قَتُورًا [17:100] 

خامی – 6: فجور پسند ہے !
بَلْ يُرِيدُ الْإِنسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ [75:5]


خامی – 7: کُفر کرنے والا   ہے !
قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ [80:17] 


سوال پیدا   ہوتا ہے کہ :
کیا بالا خامیاں انسان کی جبلّت  (ڈی  این اے ) میں روزِ ازل سے ہیں ، یا خودبخود  انسانی معاشرت کی وجہ سے پیدا ہوگئیں اور  جبلّت میں  پیوست ہو گئیں ۔ 
اگر اللہ کی آیت  پر تدبّر کیا جائے  ، تو  روح القدّس  نے محمدﷺ  کو اللہ  کی طرف سے بشر کے ہر طرح سے مکمل اور روح پھونکے جانے   کی  نباء  بتائی   :


وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ ﴿15:28 

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ ﴿15:29  
فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ ﴿15:30 
إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ ﴿15:31

تخلیق  ہونے والے بشر پر لگائی جانے والی ایک قدغن نے اُس میں     انسان کی پیدائش کر دی  ۔
قدغن:

وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ ﴿2:35

انسان کا جنم ہوتے ہی اُس میں  بھولنے کے مرض نے  بالا خامیاں در خامیاں  پیدا کرنا شروع کر دیں، اور اُس کا عزمِ عہد اللہ  کمزور پڑجاتا ہے  :  
 وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَىٰ آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا ﴿20:115

انسان  کی خامیوں کی بنیادی وجہ  انسانی معاشرت   اور معاشرت کا پھیلاؤہے :
  فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ  ﴿2:36﴾


  فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِن سَوْءَاتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَـذِهِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ [7:20]
 
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ۚ وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿64:14  

إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۚ وَاللَّـهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ ﴿64:15

 
يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا ﴿4:120

  کیا انسان  ، بالا خامیوں پر قابو پا سکتا ہے ؟

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 6 جولائی, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

المسجد الحرام اور المساجد کے العاکفین

 روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کا لفظ  ” عکف " کی تفصیل درج ذیل آیات میں بتائی : 
1-قَوْمِ إِبْرَاهِيمَ، أَصْنَامً اور  التَّمَاثِيلُ   کے لئے عَاكِفِينَ ہوتی ہے  اور اُنہیں ابراھیم  اِس عَاكِفُونَ  ہونے پر ٹوکتے ہوئے  ضَلَالٍ مُّبِينٍ   پرگردانتے ہیں :

 وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِيمَ ﴿26:69
 اور اُن  کے اوپر  ابراہیم  کی بریکنگ نیوز دے ۔
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ
﴿26:70
 جب اُن نے اپنے باپ اور قوم کے لئے کہتا ہے ،” تم کس کی عبادت کرتے رہتے  ہو”
قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ ﴿26:71
 وہ کہتے ہیں ،” ہم اصنام کی عبادت کرتے ہیں  پس ہم اُن کی چھاؤں کے لئے عاکفین ہیں ۔”
وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ ﴿21:51  
 اور حقیقت میں ہم نے ابراہیم کو (اِس سے ) قبل      رُشد      دی جب  ہم نے  اِ  س (رُشد )   کے ساتھ عالمین کو  کُن  کہا ۔
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ ﴿21:52
 جب وہ  اپنے باپ اور قوم کے لئے کہتا ہے ،”یہ کیسی خصوصی(مؤنث)  تماثیل ہیں  جن کے لئے تم عاکفون   ہو”
   قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ ﴿21:53  
  وہ کہتے ہیں ،” ہم نے اپنے  آباء  کو اُن کے لئے عابدین پایا ہے  ۔”
قَالَ لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿21:54
 وہ کہتا ہے  ،” حقیقت میں  تُم اور تمھارے آباء   واضح  ضلالت میں  ہو   ۔”
قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ ﴿21:55
وہ کہتے ہیں ،”کیا تو ہمارے پاس کوئی حق لایا ہے یا تو ہم سے صرف کھلواڑ کرنا چاہتا ہے   ۔”
قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ ﴿21:56
 وہ کہتا ہے  ،”بلکہ تمھار ربّ ، ربّ السماوات اورالارض ہے ، وہ  جس نے اُن دونوں کا فطر (جدا) کیا ، اور میں  اُس  (ربّ) پر تمھارے ساتھ  شاہدین ہوں ۔

2-قَوْمِ موسیٰ و ہارون ، أَصْنَامً کے لئے عَاكِفِينَ ہوتی ہے  اور اُنہیں موسیٰ و ہاروناِس عَاكِفُونَ  ہونے پر ٹوکتے ہوئے، اُنہیں جاہل ، باطل اور ضلالت پر گردانتے  ہیں، اُن سے یہ عمل سامری کرواتا ہے  :
  
 وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلَىٰ قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَىٰ أَصْنَامٍ لَّهُمْ قَالُوا يَا مُوسَى اجْعَل لَّنَا إِلَـٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ﴿7:138
 اور  ہم نے  بنی اسرائیل کے ساتھ البحر کو جواز بنایا ، پس وہ ایک قوم کے اوپر آئے  ، جواُن کے اپنے  اصنام کے اوپر عاکفون رہتے ہیں ۔ (بنی اسرائیل) بولتے ہیں  ،” اے موسیٰ ہمارے لئے ایک اِلہہ قرارد ے جیسا اُن  کے لئے الہا ہیں ۔  (موسیٰ) کہتا ہے ،” یقیناً تم جہالت کرنے والی قوم ہو !
إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿7:139 
 یقیناً  وہ تو  تباہ ہو جانے والے ہیں  جن کے ساتھ وہ ہیں ! اور جوکچھ عمل وہ کرتے رہتے ہیں وہ باطل ہے "۔
 قَالَ أَغَيْرَ اللَّـهِ أَبْغِيكُمْ إِلَـٰهًا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ ﴿7:140 
  (موسیٰ) کہتا ہے ،”کیا میں تمھارے لئے اللہ کے علاوہ کسی اور الہا   کی بغاوت کروں ، وہ (اللہ) جس نے تم پر العالمین پر فضل کیا ؟”
   
وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِن قَبْلُ يَا قَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَـٰنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي ﴿20:90 
  ۔اور حقیقت میں اِس سے قبل اُن کے لئے     ہارون   کہتا ہے ،” اے میری قوم !  یقیناً تم اِس کے ساتھ  دلفریبی میں مبتلا ہو ، اوریقیناً تمھارا ربّ رحمٰن ہے ، پس میری اتباع کرو  اور میری امر کی اطاعت کرو !”
قَالُوا لَن نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عَاكِفِينَ حَتَّىٰ يَرْجِعَ إِلَيْنَا مُوسَىٰ ﴿20:91 
وہ  کہتے ہیں ،” ہم  اُن پر  عاکفین ہونے سے  اب   ہٹ نہیں سکتے ، جب تک ہم پر موسیٰ کا رجوع نہ ہو تا رہے !”  
قَالَ يَا هَارُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوا ﴿20:92
   (موسیٰ) کہتا ہے ،”اے ہارون  جب تو نے اُنہیں  ضلالت پردیکھا تو تجھے کس نے منع کیا ؟
أَلَّا تَتَّبِعَنِ ۖ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِي ﴿20:93 
کیا تو نے میری اتباع نہ کی ، پس تونے میرے امر سے معصیت کی ! "

 قَالَ فَاذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِي الْحَيَاةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّن تُخْلَفَهُ وَانظُرْ إِلَىٰ إِلَـٰهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا لَّنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفًا ﴿20:96

   (موسیٰ ، سامری سے ) کہتا ہے ،”تو نکل یہاں سے  اب یقیناً تیرے لئے حیات ہے ، یہ کہ تو کہے گا  ، مجھے  مساس مت کر ، اور تیرے لئے  مدت ہے  جس کی خلاف ورزی نہ ہو گی ۔ اور نظر ڈال اپنے الہا پر جس کے سائے کے اوپر تو عاکف ہے ،اِس لئے  ہم اُسے جلائیں گے ، پھراِس لئے  ہم اُسے ریزہ ریزہ کریں گے   بہتے پانی میں  ریزہ ریزہ !د

3-اللہ ، البیت کو عاکفین کے لئے ابراہیم اور اسماعیل سے پاک رکھنے کا عہد کرواتا ہے ۔

وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ ﴿2:125
 ہم نے البیت کو انسانوں کے لئے ایک  ثوا ب اور امن   (کی جگہ)    بنادیا ۔ اور مقامِ ابراہیم سے  مصلّی  (مکمل صلّی) اخذ کرو ! اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل سے عہد لیا ، یہ میرے بیت کو الطائفین کے لئے اور العاکفین  اور الرکع  السجود کے لئے پاک کرتے رہو !
أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللَّـهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴿البقرة: ١٨٧﴾

تمھارے لئے حلال کی گئی لَيْلَةَ الصِّيَامِ میں الرَّ‌فَثُ (اٹھکیلیاں) تمھاری نساء کی طرف ۔ وہ تمھارا لباس ہیں اور تم اُن کا لباس ہو ۔ اللہ کو علم ہے جو تم اپنے نفسوں میں چھپاتے ہو ، وہ تم پر تاب (توبہ قبول کرنے والا) ہوا اور تم پر عفا (معافی دینے والا) ہو ۔ پس اب انہیں چاھئیے کہ اَب وہ اُن (اپنی نساء) سے مباشرت کر سکتے ہیں ، اور جو اللہ نے لکھا ہے ہے پس تم اُس کی ابتغاء ( خواہش) رکھو ۔ اور کھاؤ پیو ، حتیٰ کہ الفجر میں ،تمھارے لئے سفید دھاگا ، کالے دھاگے سے واضح ہو جائے۔ پھر اتمامِ الصیام ، رات کی طرف کرو ۔اور تم مباشرت مت کرو جب تم المساجد میں عاکفون ہو ، وہ اللہ کی حدود ہیں ۔تم اُن کے قریب مت جاؤ۔ اِس طرح اللہ انسانوں کے لئے اپنی آیات واضح  کرتا رہے گا ۔ تاکہ وہ ، متقی ہوتے رہیں ۔

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ ۚ وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿22:25  
 یقیناً  وہ لوگ جو کُفر کرتے ہیں اور سبیل اللہ اور المسجد الحرام  سے روکتے ہیں ۔وہ جسے انسانوں کے لئے  اُس کےعاکف اور  الباد (بادیہ نشین) کے لئے برابر قرار دیا ہے  اور جو الحاد  کے ظلم کے ساتھ  اِس میں (روکنے کی ) خواہش رکھتا ہے ۔ ہم اُسے عذاب الیم میں سے ذائقہ دیں گے !
وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ ﴿22:26 
 جب ہم نے ابراہیم کو البیت میں مکان کی بنیاد دی ، کہ  تو  میرے ساتھ کسی شئے کا شرک نہ کرنا اور میرے بیت کو الطائفین   اور القائمین اور الرکع  السجود کے لئے پاک رکھنا !

وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ﴿22:27 

اور الناس میں الحج کے ساتھ اذان دو ، وہ تیرے (ابراہیم)  کے پاس لائیں    مرد  اوروہ  سب ضامر   پر ،وہ  کُل عمیق راستوں    سے  لائیں !

لِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۖ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ ﴿22:28
تاکہ وہ  اپنے اوپر منافع کے شاہد ہوں اور وہ ایامِ معلومات میں اسم اللہ کا ذکر کرتے رہیں  اُس  (منافع) پر  جو اُنہیں بھیمۃ الانعام سے رزق ملا ہے ، پس اُس (رزق) میں سے کھاؤ  اور مصیبت زدہ فقیر کو بھی طعام کرواؤ ۔
 

هُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِن بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا ﴿48:24  
وہ جس نے  اُن کے ہاتھ تم پر اور تمھارے ہاتھ اُن پر   اپنے  مکّہ کے بطن میں اُن پر تمھاری کامیابی کے بعد  کفّ کر دیئے ۔ اور تمھارے کئے جانے والے اعمال پر بصیر  ہوتاہے ۔
 هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ۚ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ لِّيُدْخِلَ اللَّـهُ فِي رَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿48:25 
 وہ جنہوں نے کفر کیا اور تمھیں مسجد الحرام سے روکتے ہوئے،  الھدی کومعکوف کیا    تاکہ اُس کا  اپنے محلّ (قربانی کی جگہ)    میں ابلاغ نہ  ہو ! اور کیوں کر ایسا نہ ہو کہ   رجال مؤمنین اور نساء مؤمنات  جن کا تمھیں علم نہیں  تم اپنے اقدام سے اُنہیں مصیبت پہنچائےبغیر اُن کو کم تر کر دو ۔ وہ تو  اللہ کی یشاء سے اُس کی رحمت میں داخل ہوتے رہیں  گے ، اگر تم (مسجد الحرام کی طرف  جانے سے )  رُک جاتے تو کافروں  میں سے اُن کو  ہم عذاب  الیم کا عذاب  دیتے  ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عَاكِفِينَ(2) ۔ الْعَاكِفِينَ ۔ عَاكِفُونَ(2) ۔ يَعْكُفُونَ ۔ عَاكِفًا ۔ الْعَاكِفُ ۔ مَعْكُوفًا  ۔ 

اللہ کے 7 الفاظ جو  9  آیات میں آئے ہیں ۔  جن کا مفہوم  ، اصنام ، تمثیل  سے  بنائے گئے  اللہ کے علاوہ ، الہہ یا الہاہوں کی خوشنودی حاصل کرنے   کے لئے  ،کسی ایک مخصوص  جگہ یعنی عبادت خانوں میں  بیٹھ کر خود کو دنیاوی کاموں سے روکنا  ۔ 
 اللہ نے ابراہیم اور اسماعیل    کو   نگہبان بناتے ہوئے ، عاکفین کےاِس فعلِ معروف کو مسجد الحرام اور مساجدا للہ   میں الدین کا    اللہ کی آیات   میں حصہ بنا دیا ۔ جس کو ایمان والوں نے اعتکاف سے موسوم کر دیا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
تبصرہ کریں

Posted by پر 15 جون, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

اللہ کی آیات سننے والوں سے تین سوالات !


روح القدّس نے  ، محمدﷺکے قلب پر ، الکتاب  میں  اللہ کے احکامات وحی کئے ۔ جن پر محمدﷺ نے سوفیصد   عمل کرنے کے بعد  ، محمدﷺ نے   اپنے سامنے سننے والے تمام انسانوں پر تلاوت کیئے ، محمدﷺ کی زبان سے ادا ہونے والے اللہ کے احکامات   پر :
1-کیا  ایمان والوں نے محمدﷺسے اللہ کی آیات  سُن کر اللہ کے     احکامات پر ایمان لائے اور فعل و عمل شروع کر دیا؟

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ [47:2]
 اور ایمان لانے والوں اور عمل ِ صالح  کرنے والوں اور جو محمدﷺ پر نازل ہوا  اور جو الحق ہے اُن   کے ربّ کی طرف سے ایمان لانے والوں  کی  برائیوں کا کَفَّر  کرتا ہے  اور اُن کے حال  (Status)  کی اصلاح کرتا ہے ۔

2۔کیا اللہ کے احکامات کو محمدﷺ کے احکامات سمجھ کر ، ایمان نہ لانے والے محمدﷺ کے سامنے سے یہ کہتے ہوئے  اُٹھ جاتے ہیں ؟ 
 وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ‌ ۗ لِّسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَـٰذَا لِسَانٌ عَرَ‌بِيٌّ مُّبِينٌ ﴿16:103﴾

اور بے شک ہم (ربّ) جانتے ہیں۔ یقینا وہ کہتے ہیں، بے شک اُس ( قرءت  ) کا علم ایک بشردیتا ہے وہ اس کی طرف ”الحاد“ کرتے  ہیں کہ وہ  (بشر)عجمی ہے اور یہ (الکتاب) واضح عربی زبا ن میں ہے۔

 وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۚ وَإِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْآنِ وَحْدَهُ وَلَّوْا عَلَىٰ أَدْبَارِهِمْ نُفُورًا ﴿17:46﴾ 
  اور ہم نے اُن کے قلوب کو أَكِنَّةً قراردیا ہے یہ کہ وہ اِس میں فقہ کریں اور اُن کے کانوں پروَقْرً ہے۔ اور جب تو القرآن میں اپنے ربّ واحد کا  ذکر کرتا  ہے تو وہ نفرت سے پیچھے مُڑ گئے ۔

ربّ  کی طرف سے  اعتراض کرنے والوں کے لئے  تفصیل و احکامات ۔
قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ ﴿16:103﴾ 
توکہہ  !  اُس( قرءت  )کو روح القدّس نے تیرے ربّ کی طرف سے بالحق نازل کیا ہے ۔ کہ وہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھے  اور مسلمین کے لئے ھدایت اور بشارت ہے ۔

إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ لَا يَهْدِيهِمُ اللَّـهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿16:103﴾ 
 یقیناً جو اللہ کی آیات کے ساتھ ایمان نہیں لاتے ، اللہ اُن کو ہدایت نہیں دے گا اور اُن کے لئے عذابِ الیم ہے ۔ 

  3-کیا  وہ جن کے قلب میں  زیغ (کجی )تھی اُنہوں نے،  اللہ کے احکامات کو محمدﷺ کے احکامات سمجھ کر ، عملی   و فعلی تفصیلات کا مطالبہ کر دیا ؟

وَإِذَا رَأَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوضُونَ فِیْ آیَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْہُمْ حَتَّی یَخُوضُواْ فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہِ وَإِمَّا یُنسِیَنَّکَ الشَّیْطَانُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرَی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ  ﴿6:68﴾
اور جب تجھے نظر آئے کہ لوگ ہماری آیات میں جرح کرنے لگے ہیں تو ان سے اعراض کر۔ حتی کہ وہ کسی غیر کی حدیث میں  جرح شروع کر دیں۔ اگر تجھ سے شیطان  (یہ حکم) بھلا دے۔ تو پھر الذکر کے بعد ظالمین کی قوم کے ساتھ مت بیٹھ۔

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوا مَا هَـٰذَا إِلَّا رَجُلٌ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ وَقَالُوا مَا هَـٰذَا إِلَّا إِفْكٌ مُّفْتَرًى ۚ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ ﴿34:43﴾

    اور جب ان پر ہماری واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں یہ کیا ہے ؟  سوائے ایک مرد کے، جو چاہتا ہے تمھیں اِن روک دے جس کی تمھارے آباء و اجداد عبادت کرتے تھے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ کیا ہے سوائے ایک اِفک مفتریٰ  ؟  ا ور کفر کرنے  والے   الحق کے لئے ، جب اُن کے پاس لایا ، توکہتے ہیں  ،  یقیناً  یہ تو حیران کُن ہے ۔
وَمَا آتَيْنَاهُم مِّن كُتُبٍ يَدْرُسُونَهَا ۖ وَمَا أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلَكَ مِن نَّذِيرٍ ﴿34:44﴾
    اور  ہم نےاُنہیں  کُتُب  میں سے کچھ نہیں دیا ، جس سے وہ درس  دیتے ہیں اور نہ تجھ سے قبل اُن  کی طرف  نذیر میں سے کچھ   ارسال کیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
تبصرہ کریں

Posted by پر 10 جون, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

تصویر

حلال و حرام !

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 11 اپریل, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: , ,

تصویر

آپ کا مولا کون ؟

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 11 اپریل, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: , ,