RSS

Tag Archives: تحاریرِ دیگراں

مرد کہانی

 

  مرد کى ہینڈلر صرف عورت ہے۔

 عورت ہی اس کو پیدا کرتی ہے۔

 زنانہ وارڈ میں اس کا نزول ہوتا ہے۔

عورتیں ہی اس کو خوش آمدید کہتی ہیں۔

 عورت ہی اسے پالتی اور اس کی تربیت کرتی ہے اچھی ہو یا بری۔

پھر ہار سنگھار کر کے اسے دوسری عورت کو سونپ دیتی ہے۔

عورت کے بگاڑے کو عورت ہی سدھار سکتی ہے۔

 ماں کے بگاڑے ہوئے کو بیوی ہی سدھار سکتی ہے اور ماں کے سدہارے ہوئے کو بیوی ہی بگاڑ سکتی ہے۔

 اس کا پاس ورڈ (Password) ازل سے عورت کے پاس ہے اور۔ ۔  ۔!

 یہ ہمیشہ ماں بہنوں اور بیوی کے درمیان فٹ بال بنا رہتا ہے جو اپنی اپنی مرضی کا گیم اس پر کھیلتی اور اس کی سیٹنگز تبدیل کرتی رہتی ہیں۔

 ماں کی سیٹنگز  رات کو چپکے سے بیوی تبدیل کر دیتی ہے۔

 مگر صبح اماں چہرے کے رنگوں سے پہچان کر ،  ایک پھونک سے  دوبارہ فیکٹری سیٹنگز ری سٹور کر لیتی ہے۔

بس اتنی ساری مرد کہانی ہے۔

 

(منقول)

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 5 فروری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز:

بابے ٹھرکی کیوں ہوتے ہیں؟

 عبدالمنان ایک دکاندا ر تھا۔ یہ کپڑے کی دکان کر تا تھا۔ یہ ایک متوسط درجے کا خوشحال انسان تھا۔ اس کی شادی اوائل جوانی میں ہی ہوگئی تھی۔ 
یہ چونکہ فکر معاش سے آزاد تھا ۔ لہذا ہرسال ایک نو مسلم  اس دنیا میں لانا اس نے اپنا شرعی، اخلاقی، قومی اور خاندانی فریضہ سمجھ لیا تھا۔ خاندانی فریضہ اِس طرح  کے اُس کے بعد  12  بہن بھائی اِس دنیائے فانی میں تشریف لائے ۔
 عبدالمنان کی زندگی ایک خوشگوار معمول کے مطابق گزرتی رہی۔ یہ اپنے بچوں اور بیوی سے بڑی محبت کرتاتھا۔ یہ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا۔ یہ ایک خوش مزاج اور   مزاح ی طبیعت کا انسان تھا۔ غصہ اِس کبھی چھو کر نہیں  گیا تھا ۔ اس کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی جو اس کی فطرت بھی تھی اور دکانداری مجبور ی بھی۔ کیونکہ غصیلے دکاندار کے تو آئی فون بھی نہیں بکتے۔
وقت گزرتا گیا۔ عبدالمنان کے بچے بڑے ہوگئے یہ نویں دسویں کلاس تک پہنچ گئے۔ یہ چونکہ کم عمری میں ہی شادی کرچکا تھا لہذا اس کی عمر بھی “کھیلنے کھانے” کی تھی۔ یہ وہ اہم مقام تھا جہاں سے عبدالمنان کی زندگی نے ٹریجک ٹرن لیا۔
یہ جب بھی اپنی بیوی کے پاس بیٹھتا ، یہ جب بھی اس سے کوئی رومانوی چھیڑ چھاڑ کرتا ۔ اس کی زوجہ اسے ڈانٹ دیتی۔
” حیاکرو، بچے وڈّے ہوگئے نیں، تہانوں اپنے ای شوق چڑھے رہندے نیں”۔ 
عبدالمنان کی زندگی کے “معمولات” درہم برہم ہوگئے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر طیش میں آ جاتا  چنانچہ  اس کا بلڈ پریشر ہائی رہنے لگا۔ اُس کے بچّے اس کے ڈر سے گھر میں سہمے رہتے ۔ اس کی دکانداری پر بھی اثر پڑنے لگا۔ یہ گاہکوں سے بھی  الجھنے لگا۔ یہ معمولی باتوں پر تو تکار کرنے لگا۔ لوگ حیران تھے کہ عبدالمنان ، جو ایک خو ش مزاج اور جولی انسان تھا ، اس کی یہ حالت کیونکر اور کیسے ہوئی؟
یہی وہ المیہ ہے جو پاکستانی بابوں کو ڈیسنٹ بابے کی بجائے چاچا کرمو ٹائم پیس جیسے بابوں میں بدل دیتا ہے۔
 یہ جیسے ہی ادھیڑ عمری کی منزل پار کرتے ہیں۔ ان کی زوجہ ، بیوی سے مزار کا روپ دھار لیتی ہے۔ 
اُس کے پاس سے اگربتیوں کی خوشبو اور قوالیوں کی گونج سنائی دینے لگتی ہے۔ اُس کے پاس بیٹھنا تو درکنا ر اس کی طرف پشت کرنا بھی بے ادبی شمار ہوتا ہے۔
 یہ وہی بیوی ہوتی ہے جوشادی کے پہلے سال خاوند کے گھر آنے پر مور نی کی طرح “پیلیں” پارہی ہوتی تھی۔
اب یہ خانقاہ کا مجاور بن جاتی ہے ۔یہ بابے کی زندگی میں ایک ایسی “کسک” بھردیتی ہے جس کی وجہ سے بابا، کپتّا، سڑیل اور ٹھرکی ہوجاتا ہے۔
آپ کسی محلّے میں چلے جائیں ۔ آپ گلیوں میں تھڑوں پر بیٹھے بابوں کو چیک کرلیں۔ یہ سب زندگی سے بے زار بیٹھے ہوتے ہیں۔ 
یہ ہر بچے کو جھڑکتے ہیں اور ہر بچّی کو تاڑتے ہیں۔
 یہ بابے بے قصور ہیں۔ ان کی مائیوں نے ان کا یہ حال کیا ہے۔
 آپ دبئی چلے جائیں، آپ بنکاک چلے جائیں۔ آپ ملائشیا چلے جائیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے ۔ آپ دیکھیں گے کہ گورے   مائیاں  اور بابے کیسے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے سیریں کرتے ہیں۔

 یہ سر عام “اظہار محبت” بھی کرتے ہیں۔یہ ایک دوسرے کی باہوں میں باہیں ڈالے عاشقی ٹُو جیسے سین بناتے ہیں۔
 جبکہ پاکستانی بابوں کو یہ موقع تنہائی میں بھی نہیں ملتا۔ ان کی آخر ی عمر تبلیغی جماعت میں  حوروں کی امید پر گزرجاتی ہے۔
جب تک ہم بابوں کے مسائل کو سمجھیں گے نہیں۔
 جب تک ہم ان کو حل کرنے کے لیے ان کی مائیوں کو کنونس نہیں کریں گے۔
 پاکستان کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔
 خواہ ، بجٹ کا خسارہ ہویا لوڈشیڈنگ۔
 ڈرون حملے ہوں یا کیبل پر انڈین چینلز۔
 امن و امان کا مسئلہ ہو یا پرویز خٹک کی صحت۔
 عائلہ ملک کی دوسری شادی ہو یا شہباز شریف کی چوتھی  شادی ۔ 
کیوں کہ بابوں کے دماغوں میں اُٹھتے ہوئے  بھانبڑ   پر محبت کا عرقِ گلاب نہ چھڑکا جائے ۔ 
یہ  بابے اپنے اپنے پروفیشن میں ماہر ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی مائیوں کی بے اعتنائی انہیں ہر چیز سے متنفر کرکے سڑیل اور کوڑا کردیتی ہے۔
 یہ کچھ بھی نہیں کرسکتے یہ صرف تھڑوں پر بیٹھ کر سڑ سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بالا مضمون وٹس ایپ ہوا تھا اور جس نے وٹس ایپ کیا  وہ  تقریباً چالیس سالہ نوجوان  ۔
حیرت ہوئی سوال کیا ،” لیکن نوجوان  آپ تو ابھی  بابے نہیں بنے  ؟ ”
” بنا تو نہیں البتہ بنا دیا گیا ہوں ” جواب ملا 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 24 جنوری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

صحافت اور صحافی

 میں روزنامہ "لکیر” کا صحافی ہوں۔
 میں ایک دن گوشت والے کے پاس گیا اور دو کلو گوشت طلب کیا۔ اور اس پر رعب ڈالنے کےلئے تا کہ وہ مجھے اچھا گوشت دے، میں نے اسے اپنا پریس کارڈ دکھایا، کارڈ دیکھ کر اس نے اپنا چھرا سائیڈ پر رکھا اور اپنی جیب سے روزنامہ "روشناس” کا کارڈ نکال کے دکھایا جس میں موصوف نامہ نگار تھے۔چنانچہ میں کھسیانا سا ہو کر رہ گیا۔
 اس کے بعد میں ایک موچی کے پاس گیا، اس کو جوتا پالش کرنے کےلئے دیا اور حسب سابق رعب ڈالنے کےلئے تاکہ اچھا جوتا پالش کرے ، میں نے اسے اپنا کارڈ دکھایا، کارڈ دیکھ کر اس نے اپنا برش سائیڈ پر رکھا، اور اپنی صندوقچی سے اپنا چیف ایڈیٹر روزنامہ "تحقیق” کا کارڈ نکال کر دکھایا جسے دیکھ کر دن میں میری آنکھوں کے آگے تارے جھلملانے لگ گئے۔ مرتا کیا نہ کرتا شرمندگی کی حالت میں جوتا وصول کیا 

اور آگے سبزی والے کی طرف رخ کیا۔ اس کو سبزی کا آرڈر دے کر ڈرتے ڈرتے میں نے اپنا کارڈ اسکو دکھایا تاکہ سبزی خراب نہ دے، اس نے کارڈ دیکھ کر شاپر سائیڈ پر رکھا اور جیسے ہی اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا!!!!!
میں نے اپنا سامان سنبھالا اور بھاگنے میں ہی غنیمت سمجھی۔
( منقول) 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محلّے کی تازہ ترین خبریں  سنانے والی خالہ  صحافت میں یدِ طولیٰ رکھتی ہے ، مگر کارڈ نہیں !
 
تبصرہ کریں

Posted by پر 28 دسمبر, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز:

آئی لو یو آل !

 پچھلا مضمون پڑھیں شخصیت کے ستون
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

 ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﺷﮩﺮ ﮔﺎﺭﻟﯿﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﺍﺋﻤﺮﯼ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﻼﺱ 5 ﮐﯽ ﭨﯿﭽﺮ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﻼﺱ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ 

” ﺁﺋﯽ ﻟﻮ ﯾﻮ ﺁﻝ ” ﺑﻮﻻ ﮐﺮﺗﯿﮟ۔
ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﭻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﮐﻼﺱ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﭽﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﭘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔

ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﭽﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ آنکھ ﻧﮧ ﺑﮭﺎﺗﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺟﯿﮉﯼ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﯿﮉﯼ ﻣﯿﻠﯽ ﮐﭽﯿﻠﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺁﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﺑﮕﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﺗﮯ، ﺟﻮﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺴﻤﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ، ﻗﻤﯿﺾ ﮐﮯ ﮐﺎﻟﺮ ﭘﺮ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻥ۔ ۔ ۔ ﻟﯿﮑﭽﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ۔
ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﮯ ﮈﺍﻧﭩﻨﮯ ﭘﺮ ﻭﮦ ﭼﻮﻧﮏ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺗﻮ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺻﺎﻑ ﭘﺘﮧ ﻟﮕﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮐﮧ ﺟﯿﮉﯼ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﮯ۔
ﺭﻓﺘﮧ ﺭﻓﺘﮧ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﺟﯿﮉﯼ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﺳﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺟﯿﮉﯼ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﯽ ﺳﺨﺖ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻨﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ۔ ﮨﺮ ﺑﺮﯼ ﻣﺜﺎﻝ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ۔ ﺑﭽﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮭﻠﮑﮭﻼ ﮐﺮ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺬﻟﯿﻞ ﮐﺮ ﮐﮧ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﯿﮟ۔ ﺟﯿﮉﯼ ﻧﮯ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﮕﺘﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﮨﺮ ﮈﺍﻧﭧ، ﻃﻨﺰ ﺍﻭﺭ ﺳﺰﺍ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﺲ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻋﺎﺭﯼ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﺍﺏ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﭼﮍ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﭘﮩﻼ ﺳﯿﻤﺴﭩﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺭﭘﻮﺭﭨﯿﮟ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﻧﮯ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺮﺍﺋﯿﺎﮞ ﻟکھ ﻣﺎﺭﯾﮟ۔ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯿﮉ ﻣﺴﭩﺮﯾﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﺑﻼ ﻟﯿﺎ۔
” ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﮐچھ ﺗﻮ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺑﮭﯽ ﻧﻈﺮﺁﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺟﻮ کچھ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮨﯽ ﻧﺎ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿں گے ”
” ﻣﯿﮞﻤﻌﺬﺭﺕ ﺧﻮﺍﮦ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺟﯿﮉﯼ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮨﯽ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰ ﺍﻭﺭ ﻧﮑﻤﺎ ﺑﭽﮧ ﮨﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ کچھ لکھ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔ ”
ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻝ ﮐﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍُٹھ ﺁﺋﯿﮟ۔

ﮨﯿﮉ ﻣﺴﭩﺮﯾﺲ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯽ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﭙﮍﺍﺳﯽ ﮐﮯ ہاتھ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﯽ ﮈﯾﺴﮏ ﭘﺮ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭨﺲ ﺭﮐﮭﻮﺍ ﺩﯾﮟ۔ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺭﭘﻮﺭﭨﺲ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﯼ۔ ﺍﻟﭧ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭨﺲ ﮨﯿﮟ۔
” ﭘﭽﮭﻠﯽ ﮐﻼﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﯾﮩﯽ ﮔﻞ ﮐﮭﻼﺋﮯ ﮨﻮﻧﮕﮯ۔ "
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻼﺱ 3 ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﮭﻮﻟﯽ۔ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﻤﺎﺭﮐﺲ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﮨﮯ۔
” ﺟﯿﮉﯼ ﺟﯿﺴﺎ ﺫﮨﯿﻦ ﺑﭽﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ”
” ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺣﺴﺎﺱ ﺑﭽﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭨﯿﭽﺮ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻟﮕﺎﺅ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ ”

ﺁﺧﺮﯼ ﺳﯿﻤﺴﭩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﯿﮉﯼ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯽ ﮨﮯ۔
 ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﻧﮯ ﻏﯿﺮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻼﺱ 4 ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﮭﻮﻟﯽ۔
” ﺟﯿﮉﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺍﺛﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﮨﭧ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ”
” ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﺍﺳﭩﯿﺞ ﮐﺎ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﺗﺸﺨﯿﺺ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ۔ ۔ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﮯﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﺍﺛﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ۔ ”
"ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻣﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﮨﯽ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺭﻣﻖ ﺑﮭﯽ ۔ ۔ ﺍﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔ ”
ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﭘﺮ ﻟﺮﺯﮦ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﮐﺎﻧﭙﺘﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺑﻨﺪ ﮐﯽ۔ ﺁﻧﺴﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﺟﻤﻠﮧ
” ﺁﺋﯽ ﻟﻮ ﯾﻮ ﺁﻝ ” ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ ۔
ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﯽ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﮯ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﻭﮦ ﺁﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻟﯿﮑﭽﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺴﺐِ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﺟﯿﮉﯼ ﭘﺮ ﺩﺍﻏﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﯿﮉﯼ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﮐﭽھ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﻮئی ﮉﺍﻧﭧ ﭘﮭﭩﮑﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﮨﻨﺴﯽ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭼﮭﻨﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔
ﺧﻼﻑِ ﺗﻮﻗﻊ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﺁﺝ ﺑﻞ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ، ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﺘﺎ ﮐﺮ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﺩﮨﺮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮩﺎ۔

ﺟﯿﮉﯼ ﺗﯿﻦ ﭼﺎﺭ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﺧﺮ ﺑﻮﻝ ﮨﯽ ﭘﮍﺍ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯽ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺧﻮﺩ پرﺟُﻮش اﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﻟﯿﺎﮞ ﺑﺠﺎﺋﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺎﻗﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺠﻮﺍﺋﯿﮟ۔
ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺭﻭﺯ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮨﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﺑﺘﺎﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺏ ﭘﺬﯾﺮﺍﺋﯽ ﮐﺮﺗﯿﮟ۔ ﮨﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺟﯿﮉﯼ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔
ﺭﻓﺘﮧ ﺭﻓﺘﮧ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﺟﯿﮉﯼ ﺳﮑﻮﺕ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮧ ﭘﮍﺗﯽ۔ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﺑﻼ ﻧﻘﺺ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ نت ﻧﺌﮯ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﭘﻮچھ ﮐﺮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﺍﺏ ﮐﺴﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺳﻨﻮﺭﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﺗﮯ، ﮐﭙﮍﮮ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺻﺎف ہوﺗﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺳﺎﻝ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﮉﯼ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﯽ۔
ﺍﻟﻮﺩﺍﻋﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺑﭽﮯ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﺤﻔﮯ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﮯ ﭨﯿﺒﻞ ﭘﺮ ﮈﮬﯿﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﺍﻥ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﭘﯿﮏ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﺪ ﺳﻠﯿﻘﮧ ﻃﺮﺯ ﭘﺮ ﭘﯿﮏ ﮨﻮﺍ ﺍﯾﮏ ﺗﺤﻔﮧ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﭽﮯ ﺍﺳﮯ ﺩیکھ ﮐﺮ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﮮ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﮧ ﻟگی کہ ﺗﺤﻔﮯ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﭼﯿﺰ ﺟﯿﮉﯼ ﻻﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﻧﮯ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻟﭙﮏ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ۔ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﯾﮏ ﻟﯿﮉﯾﺰ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﮐﯽ ﺁﺩﮬﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺷﺪﮦ ﺷﯿﺸﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮨﺎتھ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﺳﺎ ﮐﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﻣﻮﺗﯽ ﺟﮭﮍ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﻧﮯ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺍﺱ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ ﭼﮭﮍﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺎتھ ﻣﯿﮟ ﮐﮍﺍ ﭘﮩﻦ ﻟﯿﺎ۔ ﺑﭽﮯ ﯾﮧ ﻣﻨﻈﺮ ﺩیکھ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ ۔
ﺧﻮﺩ ﺟﯿﮉﯼ ﺑﮭﯽ۔ ﺁﺧﺮ ﺟﯿﮉﯼ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ-
ﮐچھ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭨﮏ ﺍﭨﮏ ﮐﺮ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ
” ﺁﺝ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﺟﯿﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ”

ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﮌﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺩﻥ ﮨﻔﺘﻮﮞ، ﮨﻔﺘﮯ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﺑﮭﻼ ﮐﮩﺎﮞ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ؟
ﻣﮕﺮ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻂ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻮﺻﻮﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ
” ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﻧﺌﮯ ﭨﯿﭽﺮﺯ ﺳﮯ ﻣﻼ۔ ۔ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ”
ﭘﮭﺮ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﺎ ﺍﺳﮑﻮل ﺨﺘﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﻮﻁ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺑﮭﯽ۔ ﮐﺌﯽ ﺳﺎﻝ ﻣﺰﯾﺪ ﮔﺰﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﺭﯾﭩﺎﺋﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮈﺍﮎ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﺎ ﺧﻂ ﻣﻼ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ": ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ۔۔ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻞ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔ ۔ ﺁﭖ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ – ﮈﺍﮐﮍ ﺟﯿﮉﯼ ﺍﻟﻔﺮﯾﮉ "
ﺳﺎتھ ﮨﯽ ﭨﯿﮑﺴﺎﺱ ﮐﺎ ﺭﯾﮍﻥ ﭨﮑﭧ ﺑﮭﯽ ﻟﻔﺎﻓﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻧﮧ ﺭﻭﮎ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﭨﯿﮑﺴﺎﺱ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔
ﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ کچھ ﺩﻥ ﺑﺎﻗﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮨﯽ ﺳﺮﭘﺮﺍﺋﺰ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍسﻠﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﻮﭨﻞ ﻣﯿﮟ ﺭﮎ ﮔئیں۔
ﻋﯿﻦ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ وقت ﺟﺐ ﻭﮦ ﭼﺮﭺ ﭘﮩﻨﭽﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﻟﯿﭧ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔
ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺩیکھ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﮈﺍﮐﮍ، ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮯ ﭼﺮﭺ ﮐﺎ ﭘﺎﺩﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﺘﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺟﯿﮉﯼ ﺭﺳﻮﻣﺎﺕ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﮔﯿﭧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭨﮑﭩﮑﯽ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻣﺪ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﮨﯽ ﺟﯿﮉﯼ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮨﺎتھ ﭘﮑﮍﺍ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﺳﺎ ﮐﮍﺍ ﭘﮩﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺍﺳﭩﯿﺞ ﭘﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﺎﺋﮏ ﮨﺎتھ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐچھ ﯾﻮﮞ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ

” ﺩﻭﺳﺘﻮ ﺁﭖ ﺳﺐ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣجھ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﻠﺪ ﺁﭖ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﻮﺍﺅﻧﮕﺎ
۔ ۔ ۔ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﮨﯿﮟ —–"!!

ﻋﺰﯾﺰ ﺩﻭﺳﺘﻮ ﺍﺱ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮐﺮ ﮐﮧ ﮨﯽ ﻣﺖ ﺳﻮﭼﯿﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﺩﯾﮑﮭﯿﮯ، ﺟﯿﮉﯼ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺌﯽ ﭘﮭﻮﻝ ﻣﺮﺟﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺗﻮﺟﮧ، ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﺷﻔﻘﺖ ﻧﺌﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﯽ ﻫﮯ-

 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 22 دسمبر, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

فیلڈمارشل مانک شا اورپاکستانی کیپٹن

 28 جولائی 1999ء کو بھارتی فوج کے فیلڈمارشل مانک شا کو ایک ٹی۔وی انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ مانک شا پارسی تھے اورتب ان کی عمر 85 برس تھی۔ وہ اس انٹرویو کے نو برس بعد 94 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ 1971ء کی جنگ میں جب بھارتی افواج نے بنگلہ دیش میں پاکستان کو شکست دی تو مانک شا اس وقت چیف آف آرمی سٹاف تھے۔ وہ اس جنگ کے دو برس بعد 1973ء میں سبک دوش ہوئے۔
کرن تھاپر نے ایک ایسا سوال مانک شا سے کردیا جس کے جواب نے ان کروڑوں لوگوں کو ششدر کردیا جو اس وقت ٹی۔وی پر ان کا انٹرویو دیکھ رہے تھے۔ کرن تھاپر نے پوچھا کہ فیلڈمارشل صاحب آپ کو یہ جنگ جیتنے کا کتنا کریڈٹ جاتا ہے کیونکہ پاکستانی فوج نے وہ بہادری نہیں دکھائی جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی۔
فیلڈمارشل مانک شا ایک لمحے میں ایسے پیشہ ور فوجی بن گئے جو اپنے دشمن کی تعریف کرنے میں بغض سے کام نہیں لیتے۔ مانک شا نے کہا، یہ بات غلط تھی۔ پاکستانی فوج بڑی بہادری سے ڈھاکا میں لڑی تھی لیکن ان کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ وہ اپنے مرکز سے ہزاروں میل دور جنگ لڑ رہے تھے جبکہ میں نے اپنی ساری جنگی تیاریاں آٹھ سے نو میل کے علاقے میں کرنا تھیں۔ ایک پاکستانی فوجی کے مقابلے میں میرے پاس پندرہ بھارتی فوجی تھے لہٰذا اپنی تمام تر بہادری کے باوجود پاکستانی فوج یہ جنگ نہیں جیت سکتی تھی۔
کرن تھاپر کو کوئی خیال آیا اور اس نے پوچھا کہ فیلڈمارشل ہم نے کوئی کہانی سنی ہے کہ پاکستانی فوج کا ایک کیپٹن احسان ملک تھا جس نے کومان پل کے محاذ پر بھارتی فوجیوں کے خلاف اتنی ناقابلِ یقین بہادری دکھائی کہ آپ نے جنگ کے بعد بھارتی فوج کا چیف آف آرمی سٹاف ہوتے ہوئے اسے ایک خط لکھا جس میں اس کی بہادری اور اپنے ملک کے لیے اتنے ناقابل یقین انداز میں لڑنے پر اسے خراجِ تحسین پیش کیا گیا تھا۔
مانک شا نے کہا کہ یہ بات بالکل سچ ہے۔ بھارتی افواج ڈھاکا کی طرف پیش قدمی کررہی تھیں اور یہ پاکستانی کیپٹن ہماری فوج کے آگے دیوار بن کر کھڑا ہوگیا۔ اس اکیلے نے محاذ پر موجود بھارتی فوج کومشکلات میں مبتلا کرنا شروع کیا۔ ایک زوردار حملہ کیا گیا جو اس نے اپنی حکمت عملی کی بدولت پسپا کیا۔ بھارتی فوج نے دوسری دفعہ باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے اس محاذ پر پہلے سے بھی بڑا حملہ کیا لیکن کیپٹن احسان ملک نے انھیں ایک انچ بھی آگے نہیں آنے دیا۔ بھارتی فوج نے آخر اس محاذ پر تیسرا حملہ کیا تو تب کہیں جاکر انھیں کامیابی ہوئی۔ مانک شا بڑا حیران تھا کہ آخر اتنی بڑی بھارتی فوج کے حملے کے سامنے کون تھا جو شکست ماننے کو تیار نہیں تھا۔ انھیں بتایا گیا کہ یہ ایک کیپٹن احسان ملک تھا جس نے ان کی تمام کوششوں اور حکمتِ عملی کو ناکام بنا دیا تھا۔ معلوم نہیں وہ زندہ بچا یا لڑتا ہوا مارا گیا۔
جنگ ختم ہوگئی۔ جنرل نیازی مانک شا کے آگے ہتھیار ڈال چکے تھے لیکن مانک شا کا ذہن اس پاکستانی کیپٹن کی بہادری کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ مانک شا ہتھیار ڈالنے کی تقریب سے ایک فاتح جنرل کی طرح بھارت واپس آیا۔ اپنے دفتر جاکر جو اس نے پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ کاغذ قلم اٹھا کر کیپٹن احسان ملک کے نام ایک ذاتی خط لکھا اور اسے اپنے ملک کے لیے اتنی بہادری اور بے جگری سے لڑنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ خصوصًا ان حالات میں کہ جب پاکستانی فوج کے پاس بھارت کے سامنے لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ یہ خط اس نے پاکستان کی فوج کو بھیجا کہ یہ اس بہادر کیپٹن کو دیا جائے۔
مانک شا نے اسی انٹرویو کے دوران انکشاف کیا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے انھیں بلا کر کہا تھا کہ آپ پاک فوج میں شامل ہو جائیں لیکن انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اب وہ بھارتی فوج کا حصہ تھے اور اپنے آپ کو بھارتی سمجھتے تھے ۔ سب سے بڑھ کر انھوں نے اب ایک بھارتی لڑکی سے شادی کرلی تھی۔

1971ء کی جنگ کو آج چالیس برس گزر گئے ہیں۔ آپ، میں اور ہماری نسلیں کیپٹن احسان ملک ستارہ جرءت کے نام سے واقف تک نہیں۔ جن کا 31 بلوچ رجمنٹ سے تعلق تھا، جو فل کرنل کے رینک سے ریٹائر ہوئے  اور    ایک ایسا کیپٹن جس کی بہادری نے فیلڈمارشل مانک شا کو اتنا متاثر کیا تھا کہ جنگ کے تیس برس بعد بھی 1999ء میں کرن تھاپر کو دئیے انٹرویو میں اس کا نام تک یاد تھا۔ جب کہ اس بہادر کیپٹن  کا نام ہم نے اپنی کسی تاریخ کی کتاب میں نہیں پڑھا اور نہ ہی ہمارے بچے پڑھیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان لوگوں کو ہیرو کا درجہ دے رکھا ہے جو اپنی ساری زندگی اس وطن کی دولت باہر کے ملکوں میں منتقل کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ جو جیتے ہیں تو دولت کی خاطر اور مرتے ہیں تو دولت کی خاطر۔ جو امیر سے امیر تر ہوتے جاتے ہیں اور عوام غریب سے غریب تر۔ اور جب وہ اقتدار کی ہوس میں لڑتے ہوئے ”شہید“ ہو جاتے ہیں تو ان کا نام تاریخ کی کتابوں میں سنہرے حروف میں لکھا جاتا ہے۔ جبکہ کیپٹن احسان جیسے سپاہیوں کی حب الوطنی اور بہادری کے قصے ہم دشمنوں کی زبان سے سنتے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 16 دسمبر, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

ایک کہانی ، سبق آموز !

ایک دن میں اپنے امی ابو کے ساتھ لاہور کے ایک ریسٹورنٹ میں کهانا کهانے گیا۔ وہاں دو ٹیبل چھوڑ کے ایک اُدھیڑ عمر بوڑھے میاں اور اُن کی بوڑھی محبوبہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اِسی دوران ایک نہایت ہی ڈیسنٹ اور خوش شکل بھائی صاحب ہوٹل میں داخل ہوئے اور واش بیسن پر ہاتھ دھو کر کچھ فاصلے پر اُن کے برابر والی ٹیبل پر بیٹھ گئے۔
چونکہ ہم نے اپنے کھانے کا آرڈر پہلے ہی دے دیا تھا تو اِس لیے ہم کهانے کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک اُس صاحب کے موبائل فون کی بیل بجی جس کے بعد وہ قدرے اونچی آواز میں موبائل پر کسی سے بات کرنے لگے، اُن کے بات کرنے کے انداز سے لگ رہا تھا کہ اُن کو اللہ نے کوئی بہت بڑی خوشی سے نوازا تھا۔
اور پھر موبائل پر بات ختم کرنے کے بعد وہ وہاں پر موجود سب لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے بلند آواز میں بولے، "خواتین و حضرات! آج میں بہت خوش ہوں کہ اللہ نے مجھے بیٹا عطا کیا ہے اور اِس خوشی میں، میں آپ سب کو مٹن کڑھائی کھلاؤں گا۔۔۔!” میں اپنی جگہ سے اٹها اور آگے جا کر انہیں مبارک باد دی اور کہا کہ "بھائی! ہم نے تو اپنے کھانے کا آرڈر پہلے ہی دے دیا ہے، یہ سنتے ہی اُنہوں نے کہا "اچها، چلو کوئی بات نہیں اِس خوشی میں آپکے کھانے کا بل میں ادا کروں گا۔۔۔!” اور پھر انہوں نے وہاں پر موجود باقی سب لوگوں بشمول اُن بوڑھے میاں جی اور اُن کی بوڑھیا کیلئے مٹن کڑھائی کا آرڈر کیا اور سب کا بل ادا کر کے اپنا کھانا کھا کے خوشی خوشی چلے گئے۔
چند دنوں کے بعد میں اپنے دوستوں کے ہمراه ایک سینما گیا تو کیا دیکھا کہ وہی صاحب وہاں پر ایک پانچ سال کے بچے کے ہمراہ ٹکٹ کے لیے لائن میں کھڑے تھے، میں اپنے دوستوں سے نظر بچا کر اُن کے پاس پہنچا، جونہی انہوں نے مجھے دیکھا، دیکھتے ہی مجھے پہچان گئے اور مسکرانے لگے۔
بہرحال سلام دعا کے بعد میں نے طنزیہ کہا کہ "ماشا الله! آپکا بیٹا تو چند ہی دنوں میں اتنا بڑا ہو گیا ہے۔۔۔!”
میری بات سن کر انہوں نے کہا، "بھائی! چھوڑو اِس بات کو، یہ بڑی عجیب کہانی ہے، پھر کسی دن ملو گے تو بتاؤں گا۔۔!”
جب اںہوں نے یہ کہا تو میرا تجسس اور بھی بڑھ گیا اور میں نے اصرار کیا کہ "وه مجهے یہ عجیب کہانی ابھی بتائیں۔۔!”، آخر میرے بہت اصرار پر انہوں نے جو بات بتائی اُس کے بعد میں اپنے آپ کو بہت چھوٹا سمجھنے لگا اور ان کا مقام میری نظروں میں قدرے بلند ہوگیا۔۔۔!!
دوستو! انہوں نے بتایا کہ "اس دن جب میں ریسٹورنٹ میں داخل تو ہاتھ دھونے کیلئے واش بیسن کی طرف گیا، اور وہاں ہاتھ دھوتے وقت میں نے اُن بوڑهے میاں اور بڑھی اماں جی کی باتیں سن لی تھیں، بڑھی اماں کہہ رہی تھی "آج میرا مٹن کڑهائی کھانے کو دل کر رہا ہے۔۔!”، تو اُس پر بوڑھے میاں نے بہت افسردہ لہجے میں کہا کہ "میرے پاس پورے مہینے کے لئے صرف دو ہزار روپے ہیں، اگر کڑهائی کهائیں گے تو پورے مہینے گزارہ کیسے ہوگا۔۔؟، ایسا کرتے ہیں آج دال روٹی کھا لیتے ہیں، کڑھائی پھر کسی دن کھا لیں گے۔۔!”
اُن صاحب نے کہا کہ "اسی وجہ سے میں نے اپنے موبائل کی خود ہی بیل بجا کر وہ بیٹے کی پیدائش کا ڈرامہ کیا تھا، تاکہ میں اپنی فرضی خوشی کے بہانے اُن کی دلی "خاموش خدمت” کر سکوں۔۔!”
میں نے کہا "تو بھائی! آپ صرف انہی بزرگوں کے پیسے دے دیتے، آپ نے خوامخواہ باقی سب لوگوں کو کھانا بھی کھلایا اور اُن کا بل بھی ادا کیا۔۔؟”
تو انہوں نے جواب دیا "ایسا کر کے میں ان بزرگوں کی عزتِ نفس مجروح نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔!”
(تحریر نا معلوم)

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 26 نومبر, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز:

لحم الخنزیر ، عیسائی نظریہ

پورک ، ہیم ، بیکن ، پپرونی  یہ وہ غذائیں ہیں جو بائبل کے مطابق کھانے کے لئے ممنوع ہیں ۔
 کیوں کہ یہ تمام مزیدار  کھانے  ، خنزیر سے بنتے ہیں ۔
لوگوں کو پور ک چاپ پسند ہیں ، ہیم چیز سینڈوچ مزیدار لگتے ہیں ،بیکن اور پیپرونی کے لوگ دیوانے ہیں ، لیکن میرے خیال میں ہمیں اپنی کھانے کی عادتیں تبدیل کرنا پڑیں گی خدا کو معلوم ہے کہ کون سی غذائیں ہمارے جسم کے لئے طیّب ہیں اور کونسی مضرِ صحت ۔ 
پرانے زمانے میں خنزیر کو بطور غذا گندہ تصوّر کیا جاتا تھا ۔ کیو ں کہ خنزیر ہر چیز کھا جاتا ہے  ،  کوڑا ، کچرا ، بیمار  اور مردار خور  جانورہے ، یہاں تک کے  اپنا مردہ بچہ تک کھا جاتا ہے ۔   
خنزیر کا نظامِ ہضم  نہ صرف دیگر جانوروں کے مقابلے میں سب سے تیز ہےبلکہ  مسام دار بھی ہے ۔ جو صرف چار گھنٹوں میں سب کچھ ہضم کر جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے خوراک میں موجود  Toxins یعنی زہریلے جراثیم  کو اُس کامعدہ ختم نہیں کرتا بلکہ وہ  خنزیر کی چربی میں  جمع ہوجاتے ہیں ۔ 
یوں سمجھیں کہ ایک خنزیر نے  جراثیم زدہ خوراک کھائی وہ 4 گھنٹے بعد ذبح ہو کر فریج میں چلا گیا  اُسی دن یا دو دن بعد وہ آپ کی پلیٹ میں پورک ، ہیم ، بیکن ، پپرونی  کی صورت میں آپ کی ڈائینگ ٹیبل پر آپ کے سامنے ہو گا۔جس میں موجود   Toxins یعنی زہریلے جراثیم کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا ہوگا ۔ 
دیگر جانور جو ہماری غذا کا حصہ بنتے ہیں وہ  تازہ چارہ   کھاتے ہیں ، جن میں گائے ،بیل ، بھینس ، سانڈ، بکرا ، بکری ، بھیڑ،  دنبے وغیرہ شامل ہیں ۔جگالی کرنے والے چوپائیوں کا  نظام ِ ہضم اعلیٰ قسم کا  ہوتا ہے ، اُن کے معدے کے تین حصے ہوتے ہیں ، جن کے ذریعے وہ 24 گھنٹوں میں اپنی خوراک ہضم کرتے ہیں ۔
اب اندازہ لگائیں کہ کہاں 24 گھنٹے اور کہاں 4 گھنٹے ؟
اب سوچیں کہ آپ کس جانور کا گوشت کھائیں گے ؟
وہ جانور جو گندگی کھاتا ہے یا وہ جانور جو تازہ چارہ کھاتا ہے !
جس اپنی خوراک کو کم وقت میں ہضم کرکے جسم کا حصہ بناتا ہے  اور تمام جراثیم اپنی چربی میں ذخیرہ کرتا ہے ۔ یا 

وہ جانور  جو  جراثیم  کو اپنے معدے میں مکمل تباہ کردیتے ہیں !
مجھے آپ کا تو معلوم نہیں ، لیکن میں ایسا کوئی چانس نہیں لے سکتا کہ ایک جانور جو اپنے جسم میں زہریلے جراثیموں کا ذخیرہ  لیے پھرتا ہو میرے جسم میں وہ میری خوراک بن کر منتقل کرے ۔
مجھے بیکن پسند تھا لیکن یہ جاننے کے بعد چند سال پہلے میں نے ٹرکی بیکن شرو ع کردیا جو اتنا ہی مزیدار تھا جتنا ہیم بیکن ۔  
میں پیزا کھاتا ہوں لیکن پیپرونی  نہیں ۔
میں نے نہ صرف اپنی صحت کے لئے اپنی خوراک میں تبدیلی کی بلکہ میں نے خدا کے حکم کی بھی عزت رکھی ۔
اگر میں اپنا خیال نہیں رکھتا  تو خدا میرا یقیناً خیال رکھے گا ۔
کیا بائیبل ہمیں کسی اور چیز سے بھی دور رہنے کا کہتی ہے ؟
کیا کسی قسم کی شیل فِش ، پران ،  کریب ، اوئسٹر ، لابسٹر ۔یہ سب جانور سمندر کی تہہ میں رہتے ہیں اور مردار خور جانورہیں ۔ 

یہ دوسرے جانوروں کا فضلہ اور گند بَلا کھاتے ہیں ۔ 
جب میں اِن کے بارے میں سوچتا ہوں تو میری بھُوک اُڑ جاتی ہے ۔ 
اِن کے بجائے ہمیں تازہ مچھلیاں کھانا چاہیئں ۔ سالمن بہترین ہے ۔ چکن بھی کھانا اچھا ہے ۔
وڈیو سے ترجمہ۔ مہاجرزادہ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 ٭٭٭٭٭٭

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 23 نومبر, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

صرف ایک مولوی

آئیے آج آپ کو اُس مردِ فساد و شر ،  سے مُلاقات کرواتے ہیں ۔
جس کے ایک الزام نے پاکستان کی سیاسی اور سماجی صورتحال ہی تبدیل کر کے رکھ دی۔
مولوی سالم سے ملیئے!

 جس نے ایک ‘عیسائی’ عورت کو محض سبق سِکھانے کے لئے آسیہ بی بی پر توہینِ رسالت کا الزام لگایا۔اور اس ایک الزام نے ۔۔
٭- ایک گورنر کی جان لی۔۔
٭- ممتاز قادری کا گھر برباد کروایا۔۔
افضل قادری نے،  تحریکِ لبیک کو جنم  دیا ۔۔
اِسی سے ہی ، فصاحت و بلاغت و دشنام طرازی  کے  امام ، خادم رضوی کو آواز مِلی۔۔
پورے کے پورے بریلوی مکتبہ فکر کی شکل ہی تبدیل ہو گئی ۔۔
اور متشدد تحریکِ لبیک ایک سیاسی قوت بن گئی۔۔

ایک مولوی نے  پوری دُنیا کو گُھما کر رکھ دیا ہے۔۔

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 9 نومبر, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

میتھی اور میتھی دانہ کے فوائد

  میتھی دانہ کو انگریزی زبان میں Fenugreek seeds کہا جاتا ہے اور کئی سالوں سے اسے فائدہ مند اثرات کے حصول کے لیے استعمال کیا جارہا ہے- میتھی دانہ صرف کھانوں کے ذائقے بڑھانے کے لیے کام نہیں آتا بلکہ یہ آپ کی جلد اور اندرونی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے- اگر آپ نہیں جانتے کہ میتھی دانہ آپ کتنے طبی فوائد پہنچا سکتا ہے۔
 تو آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں:
 میتھی کا قہوہ !
٭-  الرجی کی قسم جس کو پولن الرجی کہتے ہیں بہت مفید ھے – اس کے علاوہ سردیوں میں جو سانس کی پروبلم ہوتی ہیں ۔اس میں بھی مجرب ہے ۔

٭- پولن الرجی ، کھانسی، حلق کی سوجن اس کی جلن اور درد میں فائدہ کرتا ہے۔
٭- سانس کی گھٹن اور معدے کی جلن کیلئے مفید ہے۔
٭- انتڑیوں کی گندگیاں صاف کرتا اور نظامِ ہضم سے اضافی اور نقصان دِہ رطوبتیں خارِج کرتا ہے۔ 
٭- پسینہ لاتا ہے اور اگر خون میں کسی قسم کے جراثیم کی گندگی یا زہر ہے اور اس کے سبب بخار آرہا ہے تو اسے جسم سے خارج کرتا ہے۔
٭- بخار کا دَورانیہ بھی کم کردیتا ہے۔
 اَمراض نزلہ، زکام اور بخار میں خالی پیٹ دن میں تین چار مرتبہ ایک کپ میتھی کا قہوہ لیجئے- خشک میتھی کے پتے یا میتھی کے بیج ایک بڑا چمچہ یا تازہ میتھی کے مٹھی بھر پتے لے کر ایک گلاس پانی میں اتنا ابالئے کہ پانی ایک کپ رہ جائے-
 صبح شام پیجئے- چاہیں تو ایک چمچ خالص شہد سے میٹھا کرلیں- مستقل استعمال کیجئے-

٭- کیل مہاسے سے نجات :
 اگر آپ چہرے پر نکلنے والے کیل مہاسوں سے تنگ ہیں تو آپ کو چاہیے کہ میتھی دانہ استعمال کریں- اس کے استعمال کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ 4 کپ پانی میں 4 کھانے کے چمچ میتھی دانہ شامل کر کے رات بھر کے لیے چھوڑ دیں- صبح اٹھ کر پانی سے میتھی دانہ کو نکال دوسرے پانی میں شامل کر کے 15 منٹ تک ابالیں- اس کے بعد ابلے ہوئے پانی کو چھان لیں- چھنے ہوئے پانی میں روئی کو ڈبو کر دن میں دو مرتبہ جلد پر لگائیں- اس طرح آپ کو کیل مہاسوں سے نجات مل جائے گی- اس پانی کو قابلِ استعمال رکھنے کے لیے ریفریجریٹر میں محفوظ رکھیں-  

 صحت مند بال :
تھوڑا سا میتھی کسی ناریل کے تیل میں شامل کر کے ایسی بوتل میں ڈالیں جس میں ہوا داخل نہ ہوسکتی ہو- اس بوتل کو تین ہفتوں کے لیے ایسے مقام پر رکھ دیں جو ٹھنڈا ہو لیکن وہاں سورج کی روشنی نہ پہنچ سکے- اس کے بعد یہ تیل سر کی چوٹی میں لگائیں- آپ کے بال خوبصورت اور صحت مند ہوجائیں گے-

اپنے کھانے کے مصالحوں میں میتھی دانہ اور کلونجی کو عمر بھر شامل رکھیں کیوں کہ ہارٹ اٹیک عام ہوتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ ہماری غیر صحت بخش غذائیں ہیں- کلونجی اور میتھی دانہ عمر کے ساتھ ہونے والی بیماریوں  کو کنٹرول کرنے کے لئے بے حد فائدہ مند ہے ۔ 
ذیا بیطس :
میتھی دانہ کا استعمال جسم میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے ۔

ہارٹ اٹیک سے بچاؤ 

میتھی دانہ دل کے حملے کی صورت میں پہنچنے والے شدید نقصانات سے دل کو محفوظ بناتا ہے اور دباؤ کو کم کرتا ہے۔ دل کی صحت کے حوالے سے بہترین قرار دیا جاتا ہے-
 

جن کو بلڈ پریشر ہو -اُنہیں کڑی پتے کے دو ڈنٹھل   اور ایک بڑی الائچی  کو ایک کپ پانی میں ابالیں جب تین حصے رہ جائے تو   ٹھنڈا کر کے آدھا صبح پیئں اور آدھا شام کو  پیئں !

کولیسٹرول کی کمی
  جسم میں موجود، کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے کے حوالے سے بھی مددگار ثابت ہوتا ہے- اس کے علاوہ   دل کی بیماریوں کے لاحق ہونے کے خطرات کو بھی کم کرتا ہے۔

جگر کی حفاظت

جگر ہمارے جسم میں پائے جانے والے زہریلے مادوں کی صفائی کا کام کرتا ہے-

وزن میں کمی 
 روزانہ میتھی دانہ کے استعمال سے جسم میں موجود چربی کو کم کیا جاسکتا ہے- میتھی دانہ 2 سے 6 ہفتے تک روزانہ تین مرتبہ 329 ملی گرام کھانے سے بہترین نتائج حاصل ہوسکتے ہیں- یہ بھوک کو کم کرتا ہے اور آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ابھی آپ کو کچھ کھانے کی ضرورت نہیں ہے-  (سوہانجنا کی بھی یہی خاصیت ہے )
پڑھیں :
سوہانجنا( مورِنگا) ، غذائیت سے بھرپور درخت  

 میتھی دانے کی کھچڑی
سردی کے ہر مرض کا توڑ!
ترکیب
آدھا کپ میتھی دانہ رات کو بھگو دیں- صبح میتھی دانے سے پانی نتھار کر
پین میں تیل ڈال کر اسمیں میتھی دانہ ڈال کر ہلکاسافرائی کرلیں۔اسکے بعد اسمیں چاول ایک پائو ڈال کر مناسب پانی اور نمک شامل کریں اور ڈھک کر پکنے رکھ دیں۔جب پانی خشک ہونے لگے تو کھچڑی کو دم پرلگادیں۔اگر پتلی رکھنا چاہیں تو دگنا پانی اور ٹوٹا چاول استعمال کریں پکنے پر گھوٹ لیں- پیاز کا بگھار لگائیں دیسی گھی والا اور لہسن پودینے کی چٹنی کے ساتھ گرما گرم کھائیں- اگر آپ چاہیں تو اسی طرح میتھی کو کسی دال والی کھچڑی جیسے مونگ مسور یا ماش کے ساتھ شامل کر کے بھی پکا سکتے ہیں- سردی کے موسم میں صبح ناشتے میں آپ اسے اوپر سے مکھن یادیسی گھی ڈال کر سرو کرسکتے ہیں
سردی کے جملہ امراض جیسے کہ نزلہ کھانسی بلغم دمہ جسم میں درد جوڑوں میں درد کا بہترین علاج ہے-
بہت مزے کی بنتی ہے ۔
خواتین کے بہت سارے مسائل کا حل میتھی میں پوشیدہ ہے ۔
( بشکریہ ۔ ثنا اللہ خان احسن ) 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 6 نومبر, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

میرےپریوار کا ۔ کینسر

 بھارتی اور پاکستانی ڈرامے دیکھ دیکھ کر پاکستان کی عورتوں میں ایک خاص قسم کا کینسر پیدا ہو چکا ہے اور وہ کینسر ہے "میرےپریوار” کا کینسر ۔
پہلے تین تین خاندان اکٹھے رہتے تھے ۔اگر ایک بڑا بھائی سب سے زیادہ کمانے والا ہوتا،  تو وہ باقی بھائیوں کے بچوں کی سکول کی فیس دیتا، گھر کے بل جمع کرا دیتا یا سودا سلف منگوا دیتا تھا۔ وہی بڑا بھائی عیدین پر کپڑے کے تھان خرید لاتا ، جس سے سب گھر والوں کے ایک جیسے کپڑے بنتے تھے۔

سب بھائی ، پیسےکما  کر ماں کے ہاتھ پر رکھتے  اور ماں بڑی بہو کو تھما کر گھر کے مرکز میں تخت پر بیٹھ کر ، ہاتھ میں تسبیح گھماتی  ، پوتے پوتیوں ، نواسے نواسیوں اور گھر میں آنے والے دیگر بچوں کو   ، ڈبوں سے نکال نکال کر کچھ نہ کچھ میٹھا کھانے کو دیتی رہتی ، بچے بھی دادی ماں سے چپکے رہتے ۔
اور اس بڑے بھائی کا روزگار روز بروز  ترقی کرتا رہتا تھا، اور دوسرے بھائیوں کے رزق میں بھی برکت ہوتی ۔

بڑے بھائی   کی بیوی بھی ماں بن کر سارے گھر کو سنبھالتی اور  ساس سسر ،دیوروں ، نندوں ، رشتہ داروں اور مہمانوں ، سب کی ضروریات کا خیال رکھتی تھی۔
یعنی جتنا بڑا دل بیوی کا، اتنا ہی بڑا دل شوہر کا۔ تو ان کا رزق بھی کھل جاتا تھا۔ 

خاندان میں عزت بھی ہوتی تھی۔
پھر ایسا ہوا کہ  معاشرے میں ایک کینسر نے جنم لیا اور وہ کینسر تھا ،  

بہو کی تلاش میں خاندان، شرافت، دینداری چھوڑ کر شکل، فیشن، مال اور تعلیم سے لگنے والا کینسر ۔
ایسی ایسی کم ذات حسینائیں بہو  بن کر جب گھروں میں گھسائی گئیں تو انہوں نے رنگ دکھانے شروع کئے۔
پھر "میرے پریوار” والا  کینسر  بچوں کے ساتھ ہی پیدا ہونے لگا۔
ارے تم نے ٹھیکا اٹھایا ہوا ہے اُن کے بچوں کا؟
میرے بچوں کا حق تم انہیں نہیں کھلا سکتے!
ارے تمہاری بہنیں کب تک تمھاری کمائی پر عیش کریں گی؟
میرے بچوں کا حق تم انہیں نہیں کھلا سکتے؟
ارے ہم نے کوئی یتیم خانہ نہیں کھول رکھا!
میرے بچوں کا حق تم انہیں نہیں کھلا سکتے!
اور جب شوہر صاحب نے بیوی کی باتیں ماننا شروع کیں،  تو گھر سے رزق  برکت  اُٹھنا شروع ہو گئی ۔
آپ نے غور کیا ہی ہوگا ایسے لوگوں پر؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہمارے خاندان میں ایک گھر ایسا ہے  جس میں سات بھائی رہتے ہیں۔ بہت بڑا گھر ہے اور سات خاندان ہیں۔ تین بہنیں شادی شدہ ہیں اور دوسرے شہروں میں رہتی ہیں۔
اتنے بڑے خاندان کو  والدین کی وفات  کے بعد ، صرف ایک بڑے بھائی نے سنبھال رکھا ہے۔
وہ شخص گھر نہیں آ سکتا۔ سارا وقت زمینداری کھیتوں کی دیکھ بھال، لوگوں کے مسائل سننا ، حل کرنا۔
خاندان کے سارے کے سارے معاملات اور سب کے بچوں اور بیویوں کی ضروریات کا خیال رکھنا, کھانا پکانے سے لیکر تعلیم اور سب کو اتفاق سے رکھنا اس کی بیوی کرتی ہے۔
وہ زیادہ عمر کی نہیں نہ ہی کوئی بہت حسین عورت ہے نہ ہی زیادہ تعلیم یافتہ۔ 

مشقت اور عدل اسکے چہرے سے ٹپکتے ہیں مگر اسکے زندہ دل قہقہے اور ہنستا مسکراتا چہرہ اس سے محبت کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
اس کی ایک بات مجھے بہت پسند ہے۔
سنیں
اور اپنی بیویوں کو بھی سنائیں!
جب اللہ نے میرے شوہر کو پسند فرمایا ہے کہ اس کے ہاتھ سے گھر کے تمام افراد کو رزق ملے تو میں کیوں بیچ میں آؤں؟
میں اگر کہوں ، کہ  میرے بچوں کا حق دو، جسے بھائیوں کے بچوں کو کھلا رہا ہے تو کیا خبر میرے بچوں کے نصیب میں اتنا رزق ہی نہ ہو جو وہ کھا رہے ہیں ؟
کیا خبر ہمیں ان بھائیوں کے بچوں کے نصیب سے ہی مل رہا ہو؟
کیا خبر کس خاندان میں کس کا خوش نصیب  بچہ ہے کہ جس کے مقدر سے ہمیں بھی رزق  نصیب ہو رہا ہے؟
اگر میں اپنا گھر ، اپنا گھر اور اپنے بچے ،اپنے بچے کرنے لگ گئی تو مجھے وہی ملے گا جو میرے مقدر میں ہے۔ اور مجھے مقدر سے ڈر لگتا ہے کہیں ایسا ہی نہ ہو کہ جو دوسروں کے نصیب سے ہمیں مل رہا ہے وہ بھی چھن جائے۔
نہ بابا مجھے بہت ڈر لگتا ہے کہ میرے منہ سے ایسا کچھ نہ نکلے!

 بس اللہ ہمیں دے رہا ہے اور ہم ایمانداری سے حقداروں تک ، اُن کا حق  پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ورنہ ہماری کیا اوقات کہ ایک پرندے کو بھی کھلا سکیں!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اور ایک ایسی خاتون بھی گزری ہیں ، جنہوں نے اپنے کینسر  کی بدولت اپنا ہنستا بستاامیر کبیر گھرانہ اجاڑ دیا۔
شوہر کو سب سے دور کیا۔ سب سے جھگڑے کئے مگر آخر میں گھر میں ایسے فاقے پڑے کہ خود تو رخصت ہوگئیں ،مگرشوہر اور اولاد کو برباد کرکے فاقوں کا شکار کر گئیں۔
اللہ نے اگر آپکو اس قابل بنایا ہے کہ وہ آپکے ہاتھ سے کسی کا رزق پہنچا رہا ہے تو اسے اپنی خوش قسمتی سمجھیں۔ نہ کہ اس پر تکبر کریں۔
اپنے گھر کی عورتوں کو سمجھائیں۔
سمجھانا آپکا کام ہے۔ ورنہ یہ کم عقل بیویاںسب برباد کر کے آخر میں آنسو بہا کر آپ پر ہی الزام لگائیں گی کہ اگر میں غلط کر رہی تھی تو تم نے مجھے روکا کیوں نہیں؟
ابھی بھی وقت ہے سب کچھ ٹھیک کر لیں۔


 
تبصرہ کریں

Posted by پر 7 اکتوبر, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,