RSS

Tag Archives: جرائم کی دنیا

اغواء برائے تاوان

 ایک بدقسمت لڑکی کے اغوابرائے تاوان کا کیس جو اُس کے زندگی تباہ کرنے کا باعث بن گیا اور وہ عمر بھر کیلئے قیدی بن گئی۔

میری پوسٹنگ CIA جمشید کواٹر میں تھی وہ بھی اتوار کی صبح تھی۔ اُس وقت کے CCPO کراچی طارق جمیل صاحب  کا فون آیا،
“نیاز گلشن اقبال میں ایک واقع ہوگیا ہے میں راستے میں ہوں آپ بھی وہاں پہنچو”
میں SHO کی رہنمائی میں ایک بنگلے کے پاس پہنچا اندر بنگلے کے لان میں کافی لوگ جمع تھے ایک کونے میں طارق جمیل صاحب، اُس وقت کے  ہمارے DIG CIA منظور مغل صاحب،علاقہ SSP ایک نوجوان سے بات کر رہے تھے۔

 مجھے دیکھتے ہی طارق جمیل صاحب نے  کہا ،
 “ نیاز اس بنگلے میں ڈکیتی ہوگئی ہے ڈاکو جاتے ہوئے خاتون خانہ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں "
  اور ساتھ کھڑے نوجوان سے میرا تعارف کروایا اور مجھے کہا ،
” آپ نوجوان کے ساتھ بنگلے کا وزٹ کرلیں”
 میں نوجوان کے ساتھ بنگلے کے وزٹ کے دوران اُن سے واقعہ کی تفصیلات لیتا رہا۔

واقعہ کچھ اس طرح تھا کہ رات کے پچھلے پہر تین نوجوان بنگلے کے کچن کی کھڑکی کا شیشہ توڑ کر کھڑکی کے اندر ہاتھ ڈال کر ساتھ ہی دروازے کا لاک کھول کر گھر میں داخل ہو گئے تھے اور کسی کمرے کا دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے لگے۔ فجر کی اذان کے بعد مالک مکان نے  نماز  کیلئے مسجد جانے کیلئے جیسے ہی بیڈروم کا دروازہ کھولا۔ تینوں ڈاکوؤں نے اُس کو گن پوائنٹ پر لے لیا اور  اُس کی بیوی کے ہاتھ پیچھے سے باندھ کر اُس کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔
مالک مکان سے پوچھا ،
” گھر میں  اور کون  کون ہے ؟”
اُس نے ڈاکووں کو بتایا ک،
"اوپر کی فلور پر صرف میرا جوان سال بیٹا اور بہو ایک کمرے میں سو رہے ہیں”۔ 

ڈاکوؤں نے مالک مکان کو کہا 
” بیٹے کا دروازہ  کھٹکھٹا کر اُس کو اپنی طبیعت خراب ہونے کا بول کر دروازہ کھلواوُ”۔
دروازہ کُھلنےپر ڈاکووں نے نوجوان اور اُس کی بیوی کو یرغمال بنا لیا، باپ بیٹے کے ہاتھ پیچھے سے باندھ کر نیچے کمرے میں بند کردیا، پورے گھر سے قیمتی سامان مالک مالکان کی کار میں ڈال کر ٹریفک چلنے کا انتظار کرنے لگے ( یہ وقت پولیس کی شفٹ تبدیل ہونے کا ہوتا ہے اور کراچی کے روڈوں پر پولیس نہیں ہوتی ) اور 30: 7 بجے کے قریب نوجوان خاتون کو گن پوائنٹ پر کار کی اگلی سیٹ پر بٹھا کر لے گئے۔

 حالانکہ گلی کے داخلی راستے پر بیرئر اور چوکیدار موجود تھا،پاگل  چوکیدار کی جیسے ہی خاتون خانہ پر نظر پڑی اُس نے سلام کیا اور بیرئر کھول دیا، خاتون اسکول ٹیچر تھی اور 6 ماہ پہلے ہی اُن کی شادی ہوئی تھی۔
 8 بجے کے قریب کام کرنے والی نوکرانی بیل بجاتی رہی ، کوئی جواب نہ ملنے پر اُس  نے  محسوس کیا کہ  بڑا گیٹ کھلا ہوا ہے ۔اُس نے ساتھ والے گھر والوں کی بیل بجا کر اُن کو صورتحال کے متعلق بتایا، ساتھ والے گھر والوں نے 15 پر کال کرکے پولیس بُلوالی اور پولیس نے اندر جاکر تینوں افراد کو آزاد کیا۔
یہ سب کچھ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ڈاکو کس طرح محتاط انداز میں کاروائی کرتے ہیں اور ذرہ برابر بھی رسک نہیں لیتے۔

میرے خیال میں کراچی سے کسی عورت کے اغوا کی یہ پہلی واردات تھی۔ ویسے تو کراچی میں روزانہ سیکڑوں لڑکیوں کے اغوا کے کیسز ہوتے ہیں مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ لڑکیاں اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ چلی جاتی ہیں والدین یہ حقیقت ماننے کو تیار نہیں ہوتے پولیس بھی جان چُھڑانے کیلئے اغوا کا پرچہ کر دیتی ہے اور ایک ہی ہفتے میں تھانے کو نکاح نامہ موصول ہو جاتا ہے اور والدینایک دوسرے کا منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔

  CPLC کے اُس وقت کے چیف جمیل یوسف صاحب نے بابر یونس اور اُس کی ٹیم کو  ہمارے ساتھ کردیا۔

دوسرے دن خاتون کے فون سے اُس کے شوہر کو اغوا کاروں کا فون آیا کہ 10 کروڑ کا بندوبست کریں اور بتایا کہ کار ہم نے بوٹ بیسن پر فلاں  دکان کے سامنے چھوڑ دی ہے وہاں سے لے لیں۔

نوجوان جو ایک بینک میں مینیجر تھا مجھے فون پر اطلاع کردی ۔ہم نے کار سے فنگر پرنٹس وغیرہ لے کر ضروری کاروائی کے بعد کار نوجوان کے حوالے کردی اور تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ کار گی گمشدگی کا خط ایکسائیز ڈپارٹمنٹ  کو نہ ارسال کرے۔

( حالانکہ کہ ہمارہ فرسودہ قانون کار کو کورٹ کے تھرو حوالے کرنے کا کہتا ہے، یعنے کار کا مالک وکیل کرے، کورٹ کے چکر لگائے اور اپنی ہی کار کی ضمانت کروائے اور ہر پیشی پر کار کورٹ میں پیش کرے اور جب تک کیس ختم نہ ہو کار فروخت نہیں کرسکتا۔ ضمانت کے پراسس میں دو تیں ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے ۔ جب تک کار تھانے میں کھڑی رہتی ہے اسی دوران کار کا آدھا سامان نکالا یا تبدیل ہوچُکا ہوتا ہے۔ ہمارے مُلک میں کیا عجیب تماشا ہے)

ہم نے نوجوان کے سارے نمبر، مغوی خاتون اور اُس کے والدین کے نمبرریکارڈنگ پر لگوادیئے تاکہ ہمیں اغواکاروں اور فیملی کی متعلق ضروری معلومات ملتی رہے۔

اُس وقت ہمارے IG کمال شاہ صاحب تھے۔ CCPO صاحب، DIG CIA   اور میں نے IG صاحب سے ملاقات کی اور کیس کی سنگینی کے متعلق  اُن کو بریف کیا۔ 
یہ کراچی میں کسی عورت کا اغوا برائے تاوان کا پہلا واقعہ تھا، ہم نے اُن کو بتایا کہ اگر اس گروہ کو ختم نہ کیا گیا تو اس قسم کے لاتعداد اغوا شروع ہو جائیں گے جو ناقابل برداشت ہے۔
 ہم نے IG صاحب کو کہا کہ وہ ایجنسیز اور CPLC پر اپنا ذاتی اثر رسوخ استعمال کریں کہ تاکہ وہ ہماری مدد میں کوئی کسر نہ چھوڑیں میں یہ واضع کرنا چاہتا ہوں کہ ہم ہر کیس میں IG کو آن بورڈ نہیں لیتے اور اپنی لیول پر کام کرتے رہتے ہیں، IG صاحب کو اُس وقت آن بورڈ لیا جاتا ہے جب ہم محسوس کرتے ہیں کہ پانی سر سے اونچا ہورہا ہے۔

ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ ہم فیملی سے بظاہر ملنا جُلنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ وہ اس لئے کہ ہم کو پتہ نہیں ہوتا کہ واردات میں گھر کا کون سا فرد ملوث ہے اور کون ملزمان کو انفارمیشن لیک کر رہا ہے۔ (میری مراد نوکر چاکر، قریبی رشتہ دار دوست احباب سے ہے )اس لئے احتیاطاً ہم فیملی سے رابطے کیلئے بیک ڈور چینل استعمال کرتے ہیں۔

میری نیند حرام ہوچکی تھی میں نے  سارے دوسرے کیسز پر کام کرنا چھوڑ دیا۔  CIA کے ہیڈ محرر کو ہدایت کردی کہ وہ نفری کی حاضری کو دو شفٹوں میں یقینی بنائے اور DSP علی رضا، انسپکٹر سجاد، سب انسپکٹر طارق کیانی، انسپکٹر اعجاز بٹ  کو حکم دیا کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ دوسرے حکم تک CIA سینٹر  میں موجود رہیں گے۔

 بابر یونس ، برابر فیملی سے خاموشی کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ہر گذرتا دن ہماری  پریشانی میں اضافہ کر رہا تھا۔ جیساکہ اغواکار  بہت محتاط انداز میں اپنا کام کر رہے تھے ۔مغوی لڑکی کا فون اُن کے پاس تھا وہ کراچی کے کسی علاقہ میں فون کھولتے اور نوجوان سے مختصر بات کرتے اور فوراً فون آف کر دیتے،  ہمارے لوکیٹر   صرف ، آن فون کو لوکیٹ کرتے ہیں۔ مجھے رہ رہ کر اُس مظلوم لڑکی کا خیال آتا تھا اغوا کاروں کے ساتھ اچھا بھلا مضبوط مرد بھی ایک دن میں ٹوٹ کر رہ جاتا ہے۔

ایک ایک کرکے 15 دن گذر گئے ۔مجھے وہ اعصابی تناوُ زندگی بھر یاد رہے گا۔ اغواکاروں اور فیملی میں تاوان ادا کرنے کی بات چیت چل رہی تھی۔ ہم نے محسوس کیا کہ نوجوان ہم سے کچھ باتیں چُھپا رہا ہے اور ہم کو بائی پاس کرنا چاہتا ہے۔
 یہ ایک خطرناک عمل تھا۔ اس موقعہ پر ہم نے نوجوان سے بات کرنا ضروری سمجھا اور اُس سے بات کرنے کیلئے  گورنر ہاؤس میں قائم  CPLC کے دفتر بلالیا، وہاں CPLC چیف، DIG CIA, ڈپٹی چیف شوکت سلیمان ، بابر یونس اور میں نے نوجوان سے بات کی کہ وہ ذمہ داری کا ثبوت دے اُس کے ساتھ جو سانحہ ہونا تھا سو ہو گیا ہے۔ اُس کو احساس دلوایا کہ اس گینگ کی موجودگی میں مستقبل میں نجانے کتنی اور عورتیں اغوا  ہونی ہیں۔ اُن سب کا گناہ کوتاہی کرنے والے کے کاندھے پر ہوگا۔ نوجوان ملزمان کی گرفتاری  کی صورت میں کورٹ کچہری سے خوفزدہ تھا ۔ہم سب نے اُس سے وعدہ کرلیا کہ کورٹ کچہری ہمارے ذمے ہے اور نوجوان ہم سے تعاون کرنے پر آمادہ ہو گیا۔

ہم نے اُس کو سمجھایا کہ وہ جلدی اغوا کاروں سے تاوان کا فائینل کرے اور تاوان کی رقم بھی CPLC چیف جمیل یوسف نے اپنے جیب سے ادا کرنے کا وعدہ کیا یہ سب کچھ اس لیے کیا جارہا تھاکہ نوجوان کے تعاون اور گینگ کے خاتمے کو یقینی بنایا جاسکے۔

  CPLC والے بھی کیا کمال کے لوگ ہیں ہم کو تو تنخوا، پروٹوکول و سیکورٹی اور بے تحاشہ مراعات کا بہت بڑا پیکج ملتا رہتا ہے مگر یہ volunteers لوگ جان ہتھیلی پر رکھ کر ہم سے آگے آگے ہوتے ہیں ۔ کراچی کے امن میں Rangers کی طرح CPLC کابھی ایک “خاموش سپاہی” والا رول ہے۔

اس طرح 25 دن گذر گئے جیسا کہ میں پہلے بتا چُکا ہوں کہ اغواکار بہت محتاط انداز میں چل رہے تھے نوجوان سے اُن کی 60 لاکھ میں ڈیل ہو گئی اور اغوا کاروں نے نوجوان سے کہا کہ جس وقت وہ فون کریں اُسی وقت وہ تاوان کی رقم اپنی کار میں لیکر بتائی ہوئی جگہ پر آجائے۔ CPLC چیف جمیل یوسف نے تاوان کی رقم فراہم کردی۔ جو نوجوان کو دے دی گئی۔ اب ہمارا کام شروع ہونے والا تھا۔ جیساکہ آپریشن کی ذمہ داری میرے ذمے تھی اور CPLC کے بابر یونس اپنی ٹیم کے ساتھ بھی ہمارے ساتھ تھے۔

 کراچی میں Two way ٹریفک چلتا ہے اس لیئے ہم نے چار Teams موٹر سائیکلوں پر ترتیب دیں ہر موٹر سائیکل پر ایک ایک بابر یونس کی ٹیم کا بندہ، ایک way کا انچارج DSP علی رضا کو رکھا اور دوسرے way کی ذمہ داری انسپکٹر سجاد کے حوالے کردی۔
  کراچی میں کرمنلز ہمیشہ موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں اور بھاگنے کیلئے رانگ way کا استعمال کرتے ہیں ۔ اس لیئے کہ رانگ وے پر Chase کرنا نامُمکن ہوتا ہے۔
ہم نے پوری پارٹی کو بریف کردیا کہ رانگ وے پر خاص خیال رکھنا ہے ایک رانگ وے سب انسپکٹر طارق کیانی اور دوسرا انسپیکٹراعجاز بٹ کے حوالے کردیا،
دوسرا اُن کو سختی سے کہا گیا کہ گولی نہیں چلانی تاوان کی رقم لینے آنے والوں کو زندہ پکڑنا ہے۔

دو دن تک اغواکار نوجوان کو مختلف لوکیشن پر بلاتے رہے اور دور سے کار پر نظر رکھتے رہے کہ پولیس تو ساتھ نہیں ہے۔ جیساکہ ہم اور سارے لوگ سادہ کپڑوں میں تھے اور ایک ساتھ وائرلیس اور  Hand free  نظام کی ذریعے رابطے میں تھے۔

تیسرے دن اغواکاروں نے نوجوان کو اللہ والی چورنگی کے قریب بُلا لیا اور ہمارے دیکھتے ایک 500cc کا موٹرسائیکل کار کی ڈرائیور سائیڈ کی کھڑکی کے ساتھ رُکا ، ہم نے وائرلیس پر سب کو الرٹ کردیا، اغواکار نے نوجوان سے پیسوں کا تھیلا لیا اور  کار کے آگے موٹر سائیکل گُھماکے رانگ وے چلنے لگا،
ہم نے اُس پارٹی کو بتادیا کہ 500cc موٹر سائیکل پر ایک سوار اُن کی طرف آرہا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہمارا ایک موٹر سائیکل اغواکار کی موٹر سائیکل سے ٹکرا گیا، اغواکار کے روڈ پر گرتے ہی اُس نے اُٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی مگر ہمارے جوانوں نے اُس کو بے بس کر دیا۔

ہم قریب ہی واقعہ تھانہ فیروز آباد پر اغوا کار کو لے گئے اور وہاں ہمارے DIG CIA اور CPLC چیف بھی آ گئے،  تھوڑی سی چھترول کے بعد اس وعدے پر کہ اُس کو آزاد کردیا جائے گا وہ تیار ہوگیا کہ میں گھر دکھاتا ہوں جہاں لڑکی رکھی ہے، ہم وقت ضائع کئے بغیر ملزم کے بتائے ہوئے علاقہ کے طرف روانہ ہو  گئے۔
 کار بابر یونس ڈرائیو کر رہا تھا، پچھلی سیٹ پر ملزم کے ایک طرف DSP علی رضا اور دوسری طرف انسپکٹر سجاد علی بیٹھے تھے۔ میں نے راستے میں ملزم سے معلومات لیتا رہا کہ گھر پر لڑکی کے ساتھ کون کون ہے ؟ اور اُن کے پاس ہتھیار کون کون سے ہیں ؟ 
اُس نے بتایا کہ دو اغوا کاروں کے پاس دو کلاشنکوف دو پسٹل اور ہزاروں گولیاں ہیں ۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ پہلے کتنے اغوا کئے ہیں؟
اُس نے بتایا کہ یہ کراچی کی دوسری واردات ہے۔ ایک سال پہلے ڈیفنس سے ایک لڑکی اغوا کرکے 500cc موٹر سائیکل پر لاہور لے گئے تھے۔   6 ماہ میں لڑکی کا 4 مرتبہ  تاوان لیا اور بعد میں لڑکی PIA میں کراچی روانہ کردی ( میں نے بعد میں معلومات لیں وہ کیس کسی بھی تھانے یا CPLC میں رپورٹ نہیں ہوا تھا، فیملی اپنی عزت بچانے کیلئے خاموش ہو گئی ہوگی) 

مزید  بتایا کہ لاہور میں 6، پنڈی سے 3 لڑکیوں کو اغوا کیا اور کئی کئی مرتبہ تاوان لیا اور اپنی مرضی سے آزاد کیا۔میں نےراستے ہی میں اپنی ٹیم کو ہدایات دے دی کہ اپنی جان کے پروا کیئے بغیر اغوا کاروں کا صفایا کرنا ہے وہ کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں،

ہم نے اپنی گاڑیاں اغوا کاروں کے گھر سے دور چھوڑ دیں اور پکڑے ہوئے ملزم کے بتائے ہوئے گھر میں علی رضا، سجاد علی گھر کے مین گیٹ اور  طارق کیانی، اور اعجاز بٹ گھر کے بیک سائیڈ سے کچھ جوانوں کے ساتھ دیواروں کو پھاند کر اندر کود گئے اتنے میں اندر فائرنگ ہونے لگی۔
 ایک جوان نے گھر کا آہنی گیٹ کھول دیا فائرنگ رکتے ہی         DIG CIA, CPLC Cheif بابر یونس اور میں اندر داخل ہوئے، دیکھا کہ ایک 25/28 سالہ خوفزدہ عورت ایک بچے کو سینے سے لگائے زمیں پر بیٹھی چیخ رہی تھی ۔
میں نے اُس سے پوچھا کہ اغوا شدہ لڑکی کہاں ہے؟
اُس نے بتایا اوپر کی منزل پر کمرے میں بند ہے، ہم سب اوپر چلے گئے کمرے سے اغوا شُدہ لڑکی باہر نکالی اور اُس کو بتایا ہم پولیس ہیں لڑکی اتنی ڈری ہوئے تھی کہ اپنا نام غلط بتارہی تھی اور یہ  ماننے کیلئے تیار نہیں تھی کہ اُسے اغوا کیا گیا ہے ۔

چونکہ میں پہلے دن لڑکی کے گھر میں دیواروں پر اُس کی شادی کی تصویریں دیکھ چُکا تھا، اتنے میں جمیل یوسف صاحب نے لڑکی کے شوہر  سے فون ملاکر اُسے بتایا کہ اُس کی بیوی فرح بازیاب ہوچکی ہے مگر اپنا نام غلط بتارہی ہے اور فون لڑکی کے کان پر رکھ دیا لڑکی دوسری طرف اپنے شوہر کی آواز سُن کر زاروقطار رونے لگی اور بتایا کہ وہ ہی فرح ہے۔

اتنے میں باہر کچھ شور سُنائی دیا اور کچھ فائرنگ ہوئی

لڑکی کو DIG CIA,  چیف CPLC، ڈپٹی چیف شوکت سلیمان اور بابر یونس لے کر اُس کے گھر روانہ ہوگئے۔

دو اغوا کار تو گھر میں داخل ہوتے ہی مارے گئے تھے۔ چونکہ ہم اندر کاروائی میں مصروف تھے باہر  پہلے پکڑے ہوئے اغواکار نے رسی سے ہاتھ کھول لیے تھے اور ایک جوان سے رائفل چھین رہا تھا تو دوسرے جوان نے جو قریب ہی یہ تماشہ دیکھ رہا تھا سمجھ داری سے کام لیتے ہوئے اپنے جوان کو بچاتے ہوئے ملزم پر فائرکرکے اُسے گرا دیا۔ اندر پکڑی ہوئی عورت اُن تینوں میں سے ایک کی بیوی تھی ۔

علاقہ  کا   SHO اور DSP بھی آگیا تھا ۔ اُس نے ایمبولنسس وغیرہ بُلا لی تھیں جیساکہ ہم سارے پچھلے 3 دنون سے کراچی کی سڑکوں  پر خوار ہو رہے تھے میں نے DSP علی رضا اور سجاد علی کو کہا کہ آپ اغواکار کی بیوی اور بچے کو لیڈیز تھانہ چھوڑ کر گھر چلے جائیں اور آرام کریں، اغوا کاروں کے لاشوں کی ذمہ داری علائقہ DSP اور SHO کے حوالے کردی اور میں بھی گھر روانہ ہوگیا،  راستے میں IG کمال شاہ صاحب اور CCPO صاحب کے فون آئے اور شاباش دے رہے تھے۔اورIG صاحب نے  دوسرے دن سارے ٹیم کے ساتھ CPO  آنے کا حُکم دیا۔

دوسرے دن IG کمال شاہ صاحب، CCPO کراچی  طارق جمیل صاحب اور DIG CIA منظور مغل صاحب نے ساری ٹیم کو تعریفی اسناد اور نقد انعام سے نوازا اور IG صاحب  لڑکی کی بازیابی کے متعلق ایک ایک تفصیل پوچھتے رہے، میں نے اُن کو بتایا ،
” ایک خاتون جس کے ساتھ ایک بچہ بھی ہے وہ ایک مارے گئے اغواکار کی بیوی ہے گرفتار ہوئی ہے میں اُس کو چھوڑنا چاہتا ہوں ” ۔
 IG صاحب نے کہا ” وہ  اغواکاروں کی مدد گار رہی ہے  اُس کو کیسے چھوڑا جاسکتا ہے ؟ "
میں نے اُن کو بتایا کہ”سر، جو لڑکی (فرح) خوف کے مارے اپنا نام تک غلط بتارہی تھی وہ عدالت میں گواہی کیا دے گی اور ہمارے کلچر کے مطابق عورت شوہر کو کیسے “نا” کر سکتی ہے ۔ دوسرا یہ کہ “ سر، ہم نے لڑکی کے شوہر سے اس وعدہ پر تعاون حاصل کیا ہے کہ کورٹ کچہری نہیں ہوگی”۔

اس موقعہ پر منظور مغل صاحب نے میرا ساتھ دیا  IG صاحب نے مسکرا کر کہا کہ
  “ کھوسہ صاحب جیسے آپ کی مرضی۔کیس آپ کے پاس ہے آپ صحیح فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں”۔
 میں نے IG صاحب کو مزید کہا کہ “ سر یہ خاتون کیلئے سزا کم ہے کہ وہ اپنے شوہر کی لاش لیکر اپنے گھر جائے”
 کمال شاہ صاحب اردو پشتو کے مخصوص لہجے میں بولتے تھے میں اُن کے مخصوص لہجے کی وجہ اُن کی باتیں بڑی شوق سے سُنتا تھا وہ بات فوجی انداز میں کرتے تھے۔ نہایت پریکٹیکل کسی بھی وقت پرائیویٹ کار میں اپنے کسی گارڈ کے موبائل فون سے شہر کے کسی حصے میں کھڑے ہوکر 15 کو فون کرتے کہ میرا فون چھینا گیا ہے وہ 15 کا ریسپانس ٹائم چیک کرتے اور سزا اور جزا کا فیصلہ دو ٹوک انداز میں کرتے تھے۔

ہم سب CPO سے دفتر پہنچے۔  عورت کو بُلواکر کہا کہ وہ آزاد ہے ۔ بے شک  اپنے شوہر کی  لاش اپنے ساتھ لے جائے، ایمبولنس کا کرایہ وغیرہ ہم ادا کرتے ہیں، عورت اپنے شوہر کی لاش لے جانے پر راضی نہ ہوئی، میں نے اس شک پر خاتون سے کئی سوالات کر ڈالے کہ  یہ عورت بھی اغوا شدہ تو نہیں ؟
مگر اُس نے دو ٹوک انداز میں بتایا کہ اُس کی پیار کی شادی ہے، وہ ایک پڑھی لکھی سمجھدار اور مجبور خاتون تھی۔ میں نے دوسرے جرائم کے متعلق پوچھا تو اُس نے لاہور میں  اسی طرح کی 6 لڑکیوں کے اغوا اور تاوان  اور پنڈی سے 3 لڑکیوں کے اغوا اور تاوان کا بتایا ۔
میں نے اُس سے سوال کیاکہ  تم اپنے شوہر کا ساتھ نہ دیتیں انکار کردیتیں۔ اس نے کہا کہ “صاحب انکار کرتی تو مجھے طلاق ہو جاتی تو میں کیا کرتی  ؟ ہمارا معاشرہ اور رشتہ دار،  ایک طلاق یافتہ عورت کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ آپ کو نہیں پتہ؟” 
 میں اسی جواب کی توقع کررہا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم لوگ اپنی عورتوں اور بچوں کو روبوٹ کی طرح استعمال کرتے ہیں ۔

میں نے خاتون کومشورہ دیا کہ وہ اپنے شوہر کی لاش لے جائے اور اپنی مرضی کی جگہ تدفین کرائے اور بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
”  کل یہ بڑا ہوکر آپ سے پوچھے گا کہ والد کی قبر کہاں ہے ؟ "
خاتون سر سے انکار کرتے ہوئے اپنا دوپٹہ چہرے پر رکھ کر زار و قطار رونے لگی وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی۔

میں نے ایک افسر کو کہا کہ عورت کو پانچ ہزار روپیہ دے کر بس اڈے پر چھوڑ آئے  اور تفتیشی افسر کو کہا کہ کیس دفتر داخل کردے۔ عورت کی آزادی کا فیصلہ اپنے ضمیر کے مطابق کیا، غلط کیا یا صحیح کیا یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔۔

دفتری کام سے  جن لوگوں سے روزبہ روز واسطہ پڑتا ہے، میں  اُن سے ذاتی میل جول اور روابط کا قائل نہیں ہوں، کیس ختم ہونے پر اُن کے فون نمبر وغیرہ ڈلیٹ کرکے اُن کو ذہن سے نکال دیتا ہوں، اور میری یہ بُری عادت ہے کہ میں لوگوں کو جلدی بھول جاتا ہوں، راستے اور نام تو مجھے یاد ہی نہیں رہتے۔؎
تقریباً ایک سال بعد Pc ہوٹل میں ایک شادی کی تقریب میں کھانے کے دو چمچ ہی لیے تھے تو ایک خوبرو نوجوان، جس ساتھ ایک خوبصورت لڑکی تھی  ، مجھے آکر  سلام کیا اور مجھے بتایا کہ “ کھوسہ صاحب یہ میری بیوی خالدہ ہے ابھی دو مہینے پہلے ہی ہماری شادی ہوئی ہے”۔
 میں نوجوان کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگا، لڑکی نے بڑی گرمجوشی سے مجھے سلام کیا اور کہنے لگی ، 
” یہ ہمیشہ آپ کا ذکر کرتے ہیں کہ آپ نے کس طرح ان کی پہلی بیوی فرح کو اغواکاروں کے چُنگل سے بازیاب کرایا تھا”۔
 مجھے یاد آگیا کہ یہ نوجوان تو لڑکی فرح کا شوہر ہے۔ میں نے نوجوان سے پوچھا ،
” فرح کہاں ہے؟ "
 تو نوجوان نے بتایا کہ فرح گھر واپس آنے کے بعد رات کو دھاڑیں مار کر روتی چیختی چلاتی تھی ہم نے کراچی کے بڑے بڑے نفسیاتی ڈاکٹروں سے اُس کا علاج کر وایا مگر وہ ٹھیک نہ ہوئی ڈاکٹروں کے مشورے سے گھر تبدیل بھی کر کے دیکھا مگر کوئی فائدہ  نہ ہوا ۔ 
بالآخر ہم نے اُسے نفسیاتی اسپتال ناظم آباد میں داخل کروا دیا ہے، مجھ سے تیسرا لقمہ لینا مشکل ہورہا تھا میں نے کھانے کی پلیٹ ٹیبل پر رکھ دی۔ اور اجازت طلب نظروں سے دونوں کو دیکھا۔
جس لڑکی کو اغوا کاروں سے واپس لانے کیلئے ہم نے دن رات ایک کردیا۔ اُس بیچاری کا اس طرح کا افسوس ناک انجام ہوگا یہ تو میرے وہم اور گمان میں نہ تھا۔
 نوجوان اور اُس کی بیوی کافی اصرار کر رہے تھے کہ کبھی اُن کے گھر کھانے پر آؤں  میں نے اُن کو کہا اگر کبھی موقعہ ملا تو ضرور چکر لگاؤں گا۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(اس رائیٹ اپ لکھنے کا اصل مقصد لوگوں میں جرائم کے متعلق ایک بیداری پیدا کرنا اور مُلک کو weapon free اسٹیٹ نہ بنانے کی وجہ سے معصوم لوگ کس قدر مصیبت کا شکار  ہیں ۔ اس کا اندازہ سیکورٹی کے حصار میں رہنے والی  ، پولیس، عدلیہ ، پارلیمنٹ اور دیگر  ادارے نہیں لگا سکتے۔
عوام کی قسمت کے فیصلے وہ لوگ کرتے ہیں :
جن کے ماہانہ تنخوا 20 لاکھ ہے۔ 

جن کے بچے بڑے پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھتے ہیں،
 جن کا علاج پرائیویٹ اسپتالوں میں ہوتا ہے،
جن کے گھروں سے بجلی کبھی  نہیں جاتی، 
جن کے گھروںمیں کبھی ڈاکہ،چوری ، اغوا،اور خون آلود لاش نہیں آئی،
اُن کو کیا پتہ کہ لوگ کن کن مصیبتوں سے گُذر رہے ہیں؟
 مُلک میں دہشتگردی سے لاکھوں لوگ مارے گئے ہم Good طالبان اور Bad طالبان کے نام پر لوگوں کو دلاسہ دیتے رہے۔  مگر جب APS پشاور کے سانحہ  میں،  ہمارے اپنے بچوں کی لاشیں گھر آئیں۔ تب ہم کو پتہ چلا کہ دہشت گردی کس چیز کا نام ہے ؟ 
اور ہم نے دہشتگردوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا، مُلک سیدھا کیسے نہیں ہوگا ؟ 
آپ آج شکار کی بندوق کے علاوہ سارے اسلحہ  پر پابندی لگاکر لوگوں کو ادائیگی کرکے اسلحہ واپس لیں۔
دوسرا ۔  ہم لوگ Cctv کیمرہ  کا پُرانا نظام بھی رائج نہ کرسکے۔  آجکل کا Cctv کیمرہ کانیا  نظام جو  Nadra سے منسلک ہوتا ہے   کیا لگائیں گے ؟ 
جو بندہ کیمرا کے زد میں آئیگا اُس کا نام اور تصویر اپنے پاس store کر لے گا بالکُل اس طرح جس طرح Facebook پر تصویر آپ لوڈ کریں تو اُس کا نام اُسی وقت آجاتا ہے،
 تیسرا ۔ آپ موٹر سائیکلوں،  کاروں اور سارے گاڑیوں کا مُلک گیر RF Identifier  سسٹم لگوائیں، آپ مُلک میں جہاں سے گزریں گے CCTV  سسٹم آپ نظر رکھے گا اور RF identifier یہ بتائے گا کہ آپ کون سی گاڑی استعمال کر رہے ہیں؟ 
آپ خود بتائیں کہ کون سا مائی کا لال کرائم کرے گا ؟
 ہمارا %95  جرائم تو یہ تین کام کرنے سے ختم ہو جائیں گے، صرف حُکم کی دیر ہے ۔ مگر مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس مُلک میں کچھ بھی نہیں ہونا)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 31 جنوری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز:

بے نظیر زندہ رہے کی زرداری کے پلان کے مطابق !


اُس نے خود ہی تین دفعہ کال کیا اور پوچھا میں کال کیوں نہیں کرتا ، آپ کا ڈیٹا لکھنا ہے ۔
میں نے جواب دیا ،
” خدمتِ خلق کر رہے ہو تو ، سوپر کارڈ ڈلوا لو یا بولو پاکستان پیکج لے لو ، غریبوں کا بھلا ہوجائے گا ۔
کہنے لگا ، کہ آپ کیوں نہیں ڈلواتے ۔
میں نے کہا ،
میں تو مِس کال کرتا ہوں ، اگلاخود فون کرتا ہے ۔ میرے پاس تو 30 روپے بھی نہیں کہ بیلنس ڈلوا لوں ،
کمبخت کہنے لگا ،
اتنے غریب ہو تو بھیک کیوں نہیں مانگتے ۔
میں نے کہا ،
جبھی تو بے نظیر فنڈ کے لئے درخواست دی تھی ، تو 25000 روپے کا صدقہ ملا ہے ۔
پوچھنے لگا ، اِس رقم کا کیا کرو گے ؟
میں نے آواز میں حسرت اور دکھ سمیٹتے ہوئے کہا ،
شادی کروں گا ۔
خبیث کہنے لگا ،
فقیروں کو کون لڑکی دیتا ہے ؟
میں نے کہا ،
وہ بھی فقیر ہے ، کہتی ہے سونے کا دس تولے کا ھار دو گے تو شادی کروں گی ۔
دس تولے کا ، دس تولہ کتنے کا آتا ہے معلوم ہے ؟
میں نے کہا ھاں ، پہلی والی نے ، بیس تولے کا مانگا تھا میں نے دے دیا ۔
شادی ہوگئی تھی تمھاری ، اُس نے حیرت سے پوچھا ۔
ھاں ہوگئی تھی ، میرے سالے نے وہ سنار کو دکھایا ، اُس نے کہا یہ تو سونا نہیں ،
پھر کیا ہوا ۔ اس نے پوچھا
کچھ نہیں بے نظیر ہسپتال میں مہینہ رہا تھا ۔ میں نے جواب دیا ۔
اچھا پھر کیا ہوا ؟ اُس کا اشتیاق بڑھ چکا تھا اور وہ بھول گیا تھا کہ اُس کا موبائل بیلنس ختم ہو رہا ہے ۔
میں وہ شہر چھوڑ کر لاہور آگیا ۔ اب دوسری شادی کروں گا ؟
پہلے اور کتنی کی ہیں ؟ اُس نے پوچھا ۔
کوئی دس ہو چکی ہیں ۔ میں نے جواب دیا ۔
تم بہت بڑے فراڈئیے ہو ؟ وہ ہنستے ہوئے بولا ۔
نہیں تم سے چھوٹا ہوں ۔ نوجوان ۔ میں نے جواب دیا ۔
میں فراڈ نہیں ہوں ۔ وہ غصے سے بولا ۔
اچھا ، تو یہ پھر بے چاری بے نظیر کے نام پر یہ فراڈ سے لوگوں سے پیسے کیوں بٹور رہے ہو؟
کیا مطلب ؟ وہ بولا ۔ کیوں تم فقیر نہیں ہو ؟
میں فقیر ہی ہوں ، بلکہ وکھری ٹائیپ کا ، تم جیسے بھٹکے لوگوں کو عقل دکھانے والا ۔ ویسے میں ، پی ٹی اے میں شکایت کر کے تمھارے دونوں نمبر بلاک کرواتا ہوں ۔
اُس نے ایک گالی دے کر فون بند کر دیا !

ہیں ! آپ نے بھی فون بند کر دیا ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پی ٹی اے میں آن لائن کی گئی ،  شکایت کا جواب !پی ٹی اے کمپلین فارم کے لئے کلک کریں !


یو فون کی طرف سے ۔

http://www.pta.gov.pk/index.php?Itemid=760

 اِس شاطر آدمی نے یو فون کے نمبر کو ، موبی لنک پر شفٹ کروا لیا تھا ۔ تاکہ اگر آپ شکایت کریں تو یوفون والے کہیں کہ یہ ہمارا نمبر نہیں ، کسی اور موبائل کمپنی پر شفٹ ہو گیا ہے ۔ 

ٹیلی نور پاکستان کا شکریہ کہ انہوں نے بھی فراڈیوں کا نمبر بند کروادیا ۔ اور پی ٹی اے نے ، لوگوں کو معلومات دینا شروع کر دی ۔
برائی کے خلاف جب جہاد شروع ہوتا ہے تو قافلہ بنتا جاتا ہے ۔
شرط یہ ہے کہ کوئی اُٹھے ۔
تو آئیں ، اِن فراڈیں کو ہنس کر نہ چھوڑیں اور برائی کے شگوفے پھوٹنے سے پہلے انہیں کچل دیں ۔

آپ بھی ٹرائی کریں !
 پی ٹی اے کمپلین فارم کے لئے کلک کریں !

 ٭٭٭٭  ٭فراڈیوں کی خلاف مہاجر زادہ کا جہاد ۔ ٭٭٭٭٭

یہ بھی پڑھئیے 
٭-موبائل پر فراڈ

٭ –  انٹرنیٹ فراڈ   –

 ٭- ھیکرز – 

 
2 تبصرے

Posted by پر 12 فروری, 2016 in Uncategorized

 

ٹیگز: , ,

گمشدہ دفینوں کی سر زمین افریقہ


  

    ”جمعرات  مورخہ:18نومبر 2004،۔azizissa20066@yahoo.comکی طرف سے shekhuzai@dosama.comکو  اچھے دنوں کے لئے نیک تمنائیں۔ مسٹر۔ شیخوزئی۔میں افریقن یونین بنک لوم ریپبلک آف ٹوگو۔کی بل ایکسچینج کمپنی میں غیر ملکی ادئیگیوں کے شعبے میں مینیجر ہوں۔میں نے انٹرنیٹ پر تلاش بسیار کے بعد قابلِ اعتبار ملکوں سے ایماندا ر دوستوں کی فہرست سے آپ کی ای میل ایڈریس ڈھونڈا ہے۔ میرا وجدان کہتا ہے کہ بحیثیت مسلمان اور ایک اچھے انسان کی حیثیت سے آپ نہ صرف میرے لئے بلکہ خود اپنے آپ کے لئے مفید ثابت ہوں گے میں آپ سے ایک بہترین بزنس کے لئے پارٹنر شپ کامتمنی ہوں۔امید ہے کہ یک دم انکار سے پہلے آپ اس پرغور لازمی کریں گے یہ ایک،بہترین اور رسک فری پیشکش ہے۔
     وہ اس طرح کہ میں اپنی کمپنی کے حسابات چیک کر رہا تھا تو مجھے معلوم ہوا کہ۔ایک اکاونٹ میں 2000ء سے 10.5ملین امریکن ڈالر، پڑے ہیں۔ ابھی تک اکاونٹ ہولڈر  نے اس میں کوئی لین دین نہیں ہوا۔ میں نے مزید کھوج لگایا تو مجھے اس قسم کے اکاونٹ کھولنے والوں کے ابتدائی فارم میں ان کا ایک نمبر معلوم ہو جو انہیں نے ریفرنس کے طور پر لکھا تھا۔ میں نے اس نمبر پر فون کیا تو معلوم ہو ا کہ مسٹر فوادعبدل غفار احمداکتوبر 1999میں وفات پاچکے ہیں۔خدا ان کی روح کو سکون پہنچائے۔میں نے مزید کھوج لگایا تو بس اتنا معلوم ہو کہ ان کے کاغذات میں ان کے وارث کے بارے میں کوئی معلومات نہیں سوائے اس کے علاوہ کہ وہ مو جودہ اکاونٹ نمبراور ایک خفیہ کوڈ نمبر بتائے گا جس کی تصدیق ہونے پر اسے مسٹرعبدل غفار احمدوارث تسلیم کر لیا جائے گا۔کیونکہ مرحوم اکاونٹ ہولڈر ٹوگئین (ملک ٹوگو کا رہنے والا) نہیں لہذا اس کا وارث بھی کوئی غیر ملکی ہی ہو سکتا ہے آپ اگر اس سلسلے میں کوئی پیش و رفت کرنا چاہیں تو مجھے فوراً ای میل سے اپنی رضامندی بتائیں تاکہ ہم اس سلسلے میں اگلا اپنا لائحہء عمل طے کریں، مجھے امید ہے کہ آپ اس لاکھوں بلکہ کروڑوں میں سے ملنے والے موقع کو گنوانا پسند نہیں کریں گے۔ آپ کے جواب کا منتظر۔ عزیز عیسیٰ ایک مسلم بھائی۔
           قارئین۔ ای میل آپ نے پڑھی ممکن ہے کہ اس طرح کی یا اس سے ملتی جلتی ای میل شائد آپ کے پاس بھی آئی ہو۔آپ نے  اسے پڑھا ہو یا شائد نہ پڑھا ہو اور نہ پڑھنے کی بنیادی وجہ آپ کی انگلش میں کمزوری ہو۔بہر حال یہ ایک دلچسپ ای میل ہے۔میں نے اس کو نہ صرف پڑھنے میں دلچسپی لی بلکہ اس پر عمل کرنے کا بھی سوچا۔ مسٹرعزیز عیسیٰ کوہماری اردو کہاوت کاعلم نہیں۔”قسمت کی دیوی کسی دروازے پر صرف ایک بار دستک دیتی ہے“  اگر آپ نے اُس کی دستک سن لی تو پو بارہ  ورنہ چوبارہ!
نیز کروڑہامواقع میں سے ملنے والے خوش قسمتی کے اس موقع کو گنوانے والے باقی تمام عمر کفِ افسوس مَلتے رہتے ہیں۔اس سے پہلے کہ ہمارے کف گھِس جائیں ہم نے فوراً  لکھا۔
”جمعرات  مورخہ:18نومبر 2004 ، ڈیرعزیز عیسیٰ۔آپ کی ای میل پڑھ کر مجھے یقین نہیں آیا کہ اچھے  انسانوں کے اس ہجوم میں آپ نے میرا ہی انتخاب کیوں کیا ہے۔سچ پوچھئے تو مجھے اس میں اپریل فول ٹائپ، کی بو آئی۔ پھر میں نے سوچا کہ ہر وقت شک کرنا درست نہیں، ویسے بھی شک کرنے والے کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے۔چنانچہ میں آپ کو اس امید پر ای میل بھیج رہا ہوں کہ آپ میرے وسوسے اور خوف کو دور کریں گے ۔آپ کا مسلم بھائی۔ شیخوزئی۔
”جمعہ مورخہ:19نومبر2004،  ڈیر مسلم برادر شیخوزئی،آپ کی ای میل ملی۔ مجھے آپ کی سٹیٹ فارورڈ نیس پسند آئی اور اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں نے ایک صحیح شخص کا انتخاب کیا ہے ۔آپ کا مشکوک ہونا درست ہے اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو میں بھی یوں ہی کرتا ایک انجانے آدمی کی طرف سے اتنی بڑی آفر ایک مذاق توہوسکتی ہے حقیقت نہیں۔یہاں میں آپ کو ایک بات بتاؤں کہ آپ کے ملک میں میرا ایک دوست کنسلٹنسی فرم چلا رہا ہے اس سے میں نے درخواست کی تھی کہ وہ  مجھے پاکستان میں کسی قابلِ اعتبار کمپنی کے متعلق بتائے کہ جس سے ہم کوئی منافع بخش کاروبار کر سکیں۔کیونکہ آپ اسلام آباد میں بزنس کے حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں اور آپ کا آفس ایک اہم کاروباری علاقے میں ہے۔ لہذا آپ کے انتخاب میں جہاں دوسرے عوامل شامل ہیں ان میں ایک سب سے بڑا اور اہم نکتہ آپ کی اصول پسندی ہے۔امیدہے کہ آپ کی غلط فہمی دور ہو گئی ہو گی۔اگر آپ ہم سے  10.5ملین امریکن ڈالر، کی شفا ف اور بے خطر ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔تو اپنی رضامندی ظاہر کیجئے اس صورت میں، میں آپ کو طرقِ کار سمجھاؤں گا شکریہ۔عزیز عیسیٰ ایک مسلم بھائی“۔
           حیرت ہے، کہ میں گذشتہ پانچ سال سے بزنس کر رہاہوں، میرے ساتھ والے پلازے کو ہماری خفتہ صلاحیتیں اور گونا گو خوبیاں نہیں معلوم۔ سات سمندر پار ایک اجنبی وہ بھی  افریقی ملک کا مسلم بھائی ہمارے بارے میں اتنی معلومات رکھتا ہے۔ ہمیں وہ محاورہ صحیح لگا کہ گھر کی مرغی دال برابر۔ 10.5ملین امریکن ڈالر، لٹانے والا کوئی معمولی شخص نہیں ہو سکتا۔ اس نے لازمی اپنی جاسوس فورس کو ہمارے کوائف جاننے پر لگایا ہو گا۔نیٹ سے کسی شخص کے بارے میں اتنی ہی معلومات جانی جا سکتی ہیں جو وہ دوسروں کو بتانا چاہتا ہے۔ لڑکیوں کی صفوں میں گھسنے کے لئے آپ اپنی آئیڈنٹیٹی لڑکی رکھ لیں یا لڑکوں سے ہیلو،ہائے۔اور بھائی بننے کے خواہش مندوں سے بچنے کے لئے، لڑکیاں لڑکوں کا روپ دھار لیں۔اس نیٹ کی دنیا میں سب چلتا ہے۔دو برابر کے کیبن میں آپس میں چاٹنگ نہیں بلکہ   چیٹنگ  (Cheating)کرنے والے عرصہ تک ایک دوسرے سے بے خبر، چیچو کی ملیاں۔وایالاہور۔ امریکہ اینڈ بیک،ایک دوسرے کے لئے بھیجے جانے والے پیغامات پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ بہر حال آگے چلتے ہیں۔
”جمعہ مورخہ19نومبر2004، شیخوزئی کی طرف سے عزیز عیسیٰ کے لئے، ڈیر عزیز عیسیٰ۔ میں نے آپ کی ای میل پڑھی۔آپ کی نظر شناسی اور ہیرے کی پرکھ کی دوربینی کا میں قائل ہو گیا ہوں۔ ایک ہوشیار بنکر کو اپنی آنکھوں کو کھلا رکھنا چاہیئے۔کیا آپ مجھے اپنے اس کنسلٹنٹری فرم چلا نے والے دوست کا پتہ دے سکتے ہیں تاکہ میں اس سے ملاقات کروں۔ کیونکہ ملاقات اچھے تعلقات استوار کرنے کا ایک بہانہ ہوتی ہے۔ہاں مجھے آ پ کی پیشکش بسرو چشم قبول ہے۔مزید معلومات کا انتظار رہے گا۔ شیخوزئی۔
”ہفتہ مورخہ:20نومبر  2004،عزیز عیسیٰ کی طرف سے شیخوزئی کے لئے۔ ڈیر برادر شیخوزئی،میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھ اور میرے دوست کے ساتھ کام کرنے کی رضامندی ظاہر کر کے، ایک نہایت اہم اور مثبت قدم اٹھایا ہے۔اب مجھے آپ پر وہ راز آشکارا کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی جس پر میں  اور میرے دو ایگزیکٹو،گذشتہ دو سال سے نہایت خاموشی اور جانفشانی سے کام کر رہے ہیں۔ شاید آپ کو معلوم نہیں کہ اس قسم  کی کاموں پر ہاتھ پاؤں بچا کر کام کرنا کتنا مشکل ہے وہ بھی اس صورت میں کہ جب آپ بنک میں اچھی پوسٹ پر ہوں۔ یہ متروکہ اکاونٹ عام آڈٹ چیکنگ کے دوران ہماری معلومات میں آیا۔ہم نے اس کی فائلوں پر خصوصی اور باریک بین ریسرچ کی۔تب کہیں جا کر ہم اس قابل ہوئے کہ اکاونٹ پر دسترس حاصل کر سکیں۔ہم نے تما م ضروری معلومات بشمول کوڈ وغیرہ حاصل کر لئے ہیں تاکہ وہ تمام بگ(Bugs) جو اس کی راہ میں حائل ہو سکتے ہیں اُن کو پیشگی روکا جا سکے۔چنانچہ اب یہ تمام معلومات میرے  پاس ہیں جو بنک سے ضروری کاروائی کے دوران میں آپ کو دقتاً فوقتاً بھجواتا رہوں گا ایک بات کی ضروری تاکید ہے کہ آپ ہر وہ اطلاع جو آپ کو بنک سے ملے گی وہ آپ مجھے لازمی بھجوائیں گے۔ تاکہ میں آپ کی راہنمائی کر سکوں۔اور معلومات کی ناقص فراہمی یا رابطے کے بر وقت نہ ہونے پر ہمارا پلان سبوتاژ نہ ہو جائے، لہذاآپ مجھ سے بذریعہ ای میل اور فون دونوں سے رابطہ رکھیں گے۔ میرا فون نمبر 00228-921-9857  ہے۔ ابتدائی طور پر میں آپ کو وہ معلومات دوں گا جس کے ذریعے بنک والے قائل ہو جائیں کہ آپ ہی مسٹر فوادعبدل غفار احمد کی وراثت کے جائز حقدار ہیں۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میں بنک میں کام کرتا ہوں۔چنانچہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آخر تک، یعنی جب تک10.5ملین امریکن ڈالر، کی  رقم آپ کے اکاونٹ میں نہیں پہنچ جاتی۔ آپ اس بات کو سختی سے نوٹ کر لیں کہ جونہی رقم آپ کے اکاونٹ میں پہنچتی ہے۔تو اس سلسلے میں لکھی گئی تمام ای میل، فیکس اور دیگر ہم سب جلا دیں گے۔اور جونہی ہمیں رقم ملتی ہے میں بنک کی نوکری سے استغفا دے دوں گا۔ مجھے اس بات کو پورا یقین ہے کہ ایک مسلمان ہوتے ہوئے آپ ہمارے مالیاتی تحفظ کا پورا خیال رکھیں گے کیونکہ ہماری تمام فیملی کے مستقبل کے پلانر اور راہنما آپ ہوں گے۔میں آپ کو اگلی ای میل میں درخواست کا نمونہ بھجوا ؤں گا آپ اسے مکمل کر کے بذریعہ فیکس بھجوائیں گے۔ہاں میں ایک بات تو آپ کو بتانا بھول گیا کہ اس ساری محنت کے بعد آپ کو کیا حاصل ہو گا۔ آپ اب چونکہ ہمارے بزنس پارٹنر بن چکے ہیں لہذا آپ بھی اپنے کام کی مناسبت سی اس رقم میں برابر کے حصہ دار ہوں گے۔کیونکہ ہر معاملہ ابتدائی دور ہی میں طے ہو جائے تو یہ بہتر ہے۔ میرے خیال میں اچھا دوست بلین ڈالرز سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔حصہ کی تقسیم اس بنیاد پر ہم نے طے کی ہے۔آپ کا حصہ 35%۔میرا، اور میرے دو اور دوستوں کا حصہ 60%اور باقی 5%ہم نے اخراجات کے مختص کئے ہیں۔آپ کو تمام اخراجات کریں گے وہ بھی اس 5%میں شامل ہیں۔ اگر آپ کو کوئی اعتراض ہو تو ضرور بتانا۔ شکریہ۔عزیز عیسیٰ“۔
            جی ہاں۔ باون لاکھ پچاس ہزار امریکن ڈالرز یعنی اکتیس کروڑ پچاس لاکھ پاکستانی روپے۔ (اس وقت ڈالر شائد 56روپے کا تھا ) اتنی رقم تو بنک کے خزانے میں بھی نہیں آسکتی۔ یقیناً جب یہ رقم میرے بنک میں ٹرانسفر ہو گی تو بنک کے اعلیٰ افسران مجھے یہ رقم دینے کے بجائے شراکت کی بنیاد پر سلیپنگ پارٹنرز،نہیں یہ نہایت ہی واہیات لفظ میں نے سوچاہے۔ بلکہ صحیح لفظ امدادی یا سکوتی  پارٹنرز بنانا پسند کریں گے۔ اور اگر میں کچھ نہ کروں صرف بنک سے منافع لوں اور اگر وہ مجھے 10%منافع سالانہ دیں تو مجھے گھر بیٹھے بٹھائے  26,50,000روپے ماہانہ ملیں گے۔ ویسے میں اتنی رقم خرچ کیسے کروں گا؟ واہ ربّا، بچپن میں زبردستی کی نماز پڑھنے کے بعد بڑے خضوع و خشوع سے دعامانگتے کہ صبح تکیے کے نیچے سے روپیہ نہ سہی موری والے دو پیسے ہی نکل آئیں۔پھر جب ٹیڈی پیسوں کا دور آیا تو دعا میں تھوڑی سے تبدیلی کر لی۔ مگر پھر بھی تکیے کے نیچے سے ہاتھ خالی ہی واپس آتا۔
”ہفتہ مورخہ:20نومبر  2004،شیخوزئی کی طرف سے عزیز عیسیٰ کے لئے، ڈیرعزیز عیسیٰ۔آپ کی تفصیلاً ای میل ملی جس نے میرے تما م شکوک و شبہات دور کر دئے، ہماری ایک دوسرے کی مدد بالکل اسی طرح ہے جیسے ایک لنگڑا اور اندھا ایک دوسرے کی مدد کر کے آگ سے نکل سکتے ہیں۔ آپ کو کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت اگر آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں تو آپ یہاں پاکستا ن آجائیں تاکہ ساری کاروائی آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو گی۔ہاں آپ کی حصوں کی تقسیم نہایت مناسب ہے اور مجھے منظور ہے۔ شیخوزئی۔
          اتوار کی صبح میرے موبائل پر 00228-921-9857  سے کال آئی۔عزیز عیسیٰ مخاطب تھا۔اس نے خیریت پوچھنے کے بعد کہا کہ میں اسے فوراً اپنے پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائیسنس کی فوٹو کاپی اس نمبر  00228-222-0287 پر فیکس کروں۔یہ نہایت ضروری ہے۔ہم نے پاسپورٹ پانچ سال پہلے بنوایا تھا اور ڈرائیونگ لائیسنس 1980میں۔ان پر موجود تصویر اورتفصیلات آپس میں نہیں ملتیں طے یہ پایا کہ میں فوراً پاسپورٹ کو نیا کرویا جائے۔ کیونکہ مجھے اب اکثر بیرونی ملک کے دورے کرنے پڑیں گے نیز ڈرائیونگ  لائیسنس بھی انٹرنیشنل بنوا لوں۔ فی الحال اپنی باقی تفصیلات فیکس کر دوں۔ چنانچہ میں نے اپنا نام، پتہ، فون نمبر، موبائل نمبر اور فیکس نمبر بشمول نادرا کے شناختی کارڈ کی فوٹو بھجوا دی۔تاکہ ہمارے پارٹنر کو ہماری دلچسپی کا یقین ہو جائے۔
”منگل مورخہ:23نومبر  2004،عزیز عیسیٰ کی طرف سے شیخوزئی کے لئے، ڈیر برادر شیخوزئی،میں آپ کے تیز رد عمل پر مسرت کا اظہار کرتا ہوں۔آپ کے بائیوڈیٹا کے متعلق تمام تفصیلات ہمیں مل گئی ہیں۔اب مجھے بھی اپنا تعارف کر ادینا چاہیئے  میرا پورا نام عزیز عیسیٰ سلامن علیکم ہے۔میں Carre72 B.P 3457لوم۔ ریپبلک آف ٹوگو ویسٹ افریقہ کا رہنے والا ہوں میرا موبائل نمبر 00228-222-0287 ہے۔میرے انٹر نیشنل پاسپورٹ کی کاپی اس ای میل  کے ساتھ منسلک ہے۔میں پھر آپ کو اس بات کی یقین دہانی کرا دوں کہ ہماری یہ ڈیل خفیہ ہے۔آپ اگر اس کے خاتمے تک اس کے متعلق کسی سے ذکر نہ کریں تو ہم سب کے لئے مناسب ہو گا۔امید ہے کہ اعتماد کا یہ رشتہ آپ قائم رکھیں گے۔ رقم کے کلیم کے لئے درخواست، آپ اپنے آفس کے لیٹر پیڈ پر بھیجیں گے۔ درخواست کا نمونہ یہ ہے۔
 مسڑڈیوڈ کنگ۔  مینیجرغیر ملکی ادئیگیوں کا شعبہ۔  افریقن یونین بنک لوم ریپبلک آف ٹوگو  ویسٹ افریقہ۔ درخواست بحیثیت وارث برائے اکاونٹ ہولڈر۔ اکاونٹ نمبر AUB-212277-55۔ جناب ِ عالی۔ میں  شیخو زئی  پتہ: آفس نمبر۔ بلیو ایریا۔ اے۔کے۔فضلِ الحق روڈ۔ اسلام آباد۔ پاکستان۔ آپ کے بنک کی خدمت میں آج منگل مورخہ:7دسمبر  2009، کو بحیثیت آپ کے مرحوم اکاونٹ ہولڈر جناب فوادعبدل غفار احمد جو ایسٹر ٹاؤن کا رہنے والا تھا کی وراثت کے جائز حقدار ہی کی حیثیت سے دست بستہ گذارش کرتا ہے کہ جناب فوادعبدل غفار احمد 30اکتوبر 1999کو ایک ہوائی حادثے میں وفات پاچکے ہیں۔خدا ان کی روح کو سکون پہنچائے۔ آپ سے مودبانہ گذارش ہے کہ متوفی نے آپ کے بنک کے اکاونٹ میں جس کا نمبر AUB-212277-55 ہے۔ میں  10.5ملین امریکن ڈالر، باقی ہیں۔ وہ براہ کرم میر ے درج ذیل اکاونٹ میں بھجوا دیں۔میرے بنک کا نام، بنک کوڈ،بنک کا فون نمبر اور مکمل ایڈریس یہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری درخواست کو اولین فوقیت دیں گے۔ فیملی میں ہونے والے مسائل کی بناء میں یہ کام جلد نہ کر سکا۔جو حل ہو چکے ہیں۔ اس لئے درخواست دیر سے بھجوانے کی معذرت کرتا ہوں۔ میں آپ کا پیشگی شکر گزار ہوں ۔ نام  اور دستخط بمع تاریخ۔ آپ یہ درخواست کل فیکس کر دیں اور اس کی ایک کاپی پہلے مجھے ای میل کر دیں۔تاکہ میں اس پر ایک نظر ڈال لوں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ بنک ایک بجے تک کھلا رھتا ہے۔ آپ درخواست  اپنے دستخط  کے ساتھ اپنی کمپنی کی مہر لگا کر فیکس کر دیں۔اور بنک کو اپنے دوسرے ای میل  سے رابطہ کریں تا کہ بنک کے پاس آپ کی موجودہ ای میل سے تعلق ظاہر نہ ہو۔شکریہ۔عزیز عیسیٰ“۔نوٹ: یہ اندھے اور لنگڑے کی کیا بات ہے۔ میں سمجھ نہیں سکا۔عزیز عیسیٰ“
” منگل مورخہ23نومبر   2004،شیخوزئی کی طرف سے عزیز عیسیٰ کے لئے ،ڈیر عزیز عیسیٰ۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے تمام تفصیلات  مجھے بھجوا دی ہیں۔ درخواست میں نے آپ کے بتائے  ہوئے طریقے کے مطابق لکھ دی ہے اورمیں آپ کو درخواست کی کاپی اس ای میل کے ساتھ بھیج رہا ہوں۔آپ پڑھ کر مجھے بتائیں گے کہ درخواست ٹھیک ہے  تو میں کل صبح بنک کو درخواست بھجوا دوں گا۔ ویسے دوسرے ای میل سے بنک کو لکھنے کی منطق مجھے سمجھ نہیں آئی۔ شیخوزئی۔
         بدھ کی صبح میرے موبائل پر SMSآئی کہ آپ درخواست  اپنے دستخط  کے ساتھ اپنی کمپنی کی مہر لگا کر فیکس کر دیں۔اور اپنا لیٹر پیڈ والا ای میل استعمال کریں۔  میں نے درخواست فیکس کر دی۔
”بدھ مورخہ:24نومبر    2004،عزیز عیسیٰ کی طرف سے شیخوزئی کے لئے،  ڈیر برادر شیخوزئی،آپ کا بنک کو فیکس بھیجنے کا شکریہ۔میں نے اپنے دوست کو کہہ کر آپ کی درخواست کو آگے چلوا دیا ہے۔ ویسے فیکس میں صفائی نہیں ہے جس کی وجہ سے درخواست  کے مندرجات پڑھنے مشکل ہیں اگر آپ اس کی ایک کاپی اس ای میل سے مسٹر ڈیوڈ کنگ کو بھجوا دیں تو بہتر گا aubinfos@yahoo.co.uk۔شکریہ۔ عزیز عیسیٰ“۔
” بدھ مورخہ24نومبر2009، shekhuzai@dosama.com کی طرف سے aubinfos@yahoo.co.ukکے لئے : مضمون:  درخواست بحیثیت وارث برائے اکاونٹ نمبر AUB-212277-55۔ ڈیر مسٹر ڈیوڈ کنگ۔ حوالہ میری فیکس مورخہبدھ مورخہ24نومبر 2009، صبح  05:10 GMT  بجے۔ امید ہے کہ آپ کو میری فیکس مل گئی ہو گی احتیاطً  ای میل بھی کر رہا ہوں امید ہے کہ آپ رقم ٹرانسفر کرنے میں جلدی کریں گے۔شکریہ۔شیخوزئی۔
”جمعرات مورخہ:25نومبر  2009، ڈیوڈ کنگ کی طرف سے شیخوزئی کے لئے، مسٹر شیخوزئی،آپ نے فیکس کے ساتھ ای میل بھجواکر دانش مندی کا ثبوت دیا ہے  کیونکہ  مدھم ہونے کی وجہ سے ہم آپ کی فیکس پڑھنے سے قاصر تھے۔فیکس کے مدھم ہونے کی کئی وجوہات ہیں بجائے اس کے کہ ہم کسی لاحاصل بحث میں پڑھیں۔ میں آپ کو فیکس کرنے کے بجائے سوالنامہ سکین کر کے اس ای میل کے ساتھ بھجوا رہا ہوں۔آپ اس  سوالنامہ میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات ہمیں فوراً بھجوائیں تاکہ ہم ان جوابات کی روشنی میں فیصلہ کریں کہ آیا کہ آپ جناب فوادعبدل غفار احمد مرحوم کے حقیقی وارث ہیں۔(1)۔جناب فوادعبدل غفار احمد مرحوم کا اکاونٹ جو ہمارے بنک میں ہے اس کا سوئفٹ کوڈ کیا ہے؟ (2)۔جناب فوادعبدل غفار احمد مرحوم  نے اکاونٹ ہمارے بنک میں کس تاریخ کو کھولا تھا؟ (3)۔جناب فوادعبدل غفار احمد مرحوم کا پہلا میڈن نام کیاہے ؟ (4)۔جناب فوادعبدل غفار احمد مرحوم کے اکاونٹ کا خفیہ کوڈ جو اکاونٹ استعمال کرنے کے لئے  فوت ہونے سے قبل لگایا تھا وہ کیا ہے ؟  امید ہے کہ آپ اس کاروائی کو محسوس نہیں کریں گے۔ یاد رہے کہ یہ جوابات ہمیں 24گھنٹوں میں لازمی ہم تک پہنچ جائیں کیونکہ دیر ہونے کی صورت میں فنڈ کی ٹرانسفر میں مزید دیر ہو گی جس کی وجہ سے آپ پر ڈیمرج پڑنے کا امکان ہے۔۔شکریہ۔ ڈیوڈ کنگ ٰ“۔
”جمعرات مورخہ:25نومبر  2004، شیخوزئی کی طرف سے عزیز عیسیٰ کے لئے، ڈیر عزیز عیسیٰ۔ بنک کا سوالنامہ میں آپ کو بھجوا رہا ہوں جو اس ای میل کے ساتھ منسلک ہے۔امید ہے کہ اپ ان سوالوں کے جوابات مجھے مہیا کریں گے۔ شیخوزئی۔
”جمعرات مورخہ:25نومبر  2004،عزیز عیسیٰ کی طرف سے شیخوزئی کے لئے، ڈیر برادر شیخوزئی، مجھے آپ کی ای میل مل گئی ہے۔ہمارے پاس ابھی اس کے جوابات نہیں ہیں ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اسے حاصل کر کے مطلوبہ وقت سے پہلے آپ کو بھجوائیں۔آپ کی فون لائن کو ئی نہیں اٹھاتاغالباً خراب ہے۔ یہ اہم معاملہ ہے۔آپ مجھ سے ٹیلیفونک رابطے میں رہیں۔ہمارے بنک میں ہفتہ اتوار دو دن کی چھٹی ہوتی ہے۔اگر ہم نے جلدی نہیں کی تو معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔کیا آپ ڈیوڈ کنگ سے کوئی ممکنا بہانہ کر سکتے ہیں؟ تاکہ ہم سوموار تک جواب مہیا کرنے کا وقت حاصل کرلیں  ۔شکریہ۔ عزیز عیسیٰ“۔
”جمعرات مورخہ:25نومبر2004،شیخوزئی کی طرف سے ڈیوڈ کنگ کے لئے،ڈیر یہ ایک چھٹی کے دوران خود بخود میل سسٹم کے ذریعے بھیجی جانے والی اطلاع ہے۔ہمارے ہاں ہفتہ وار چھٹی جمعہ اور ہفتے کے دن ہوتی ہے۔اس لئے میں اپنے ہوم ٹاؤن ویک اینڈ پر جا رہا ہوں ۔ واپسی پر آپ کو جواب مل جائے گا۔ شیخوزئی۔
”جمعہ مورخہ:26نومبر  2009، ڈیوڈ کنگ کی طرف سے شیخوزئی کے لئے، مسٹر شیخوزئی،آپ کاتعطیلات کا خود بخود بھیجا جانے والا جواب ملا۔آپ  کی مجبوری کے مدنظر میں نے آپ کو سوموار دوپہر ایک بجے تک کا وقت دلوا دیا ہے۔شکریہ۔ ڈیوڈ کنگ ٰ“۔
”جمعہ مورخہ:26نومبر  2004،شیخوزئی کی طرف سے عزیز عیسیٰ کے لئے،  ڈیر عزیز عیسیٰ۔مسٹر ڈیوڈ کنگ کی طرف سے بھیجی جانے والی ای میل آپ کو بھجوا رہا ہوں جس میں انہوں نے جوابات بھجوانے کے لئے سوموار دوپہر ایک بجے تک کا وقت دلوا دیا ہے۔امید ہے کہ یہ وقت آپ کے لئے کافی ہوگا۔میرا موبائل نمبر اور چھٹی کے دوران فون نمبر میں آپ کو بھجوا رہا ہوں۔ مجھے کارڈ فون سے انٹر نیشنل کال ملانی پڑتی ہے جو بہت مہنگی ہوتی ہے۔ بطور بنک منیجر آپ کو انٹر نیشنل کال ملانا آسان ہو گا  لہذا مجھے تمام اطلاعات اور ہدایات بذریعہ ٹیلفون آپ دیں گے ۔ شیخوزئی۔
”ہفتہ مورخہ:27نومبر 2004،عزیز عیسیٰ کی طرف سے شیخوزئی کے لئے،  ڈیر برادر شیخوزئی۔ آپ رقم خرچ کرنے میں بالکل تردد نہ کریں بس اس کا حساب رکھتے رہیں یہ آپ کو اخراجات  کے لئے مختص کی گئی پانچ فیصد رقم میں سے آپ کو ادا کر دی جائے گی،۔شکریہ۔ عزیز عیسیٰ“۔
”ہفتہ مورخہ:27نومبر 2004،شیخوزئی کی طرف سے عزیز عیسیٰ کے لئے، مضمون: میں چھٹی پر ہوں۔ ڈیر یہ ایک چھٹی کے دوران خود بخود میل سسٹم کے ذریعے بھیجی جانے والی اطلاع ہے۔ہمارے ہاں ہفتہ وار چھٹی جمعہ اور ہفتے کے دن ہوتی ہے۔اس لئے میں اپنے ہوم ٹاؤن ویک اینڈ پر جا رہا ہوں ۔ واپسی پر آپ کو جواب مل جائے گا۔ شیخوزئی۔
          اتوار کی صبح میرے موبائل پر موبائل نمبر 00228-222-0287  سے کال آئی۔ ”مسٹر شاکو زی میں عزیز عیسیٰ بول رہا ہوں آپ اپنی ای میل دیکھیں اس میں، میں نے سوالوں کے جواب دے دئیے۔آپ انہیں بذریعہ ای میل بنک والوں کو بھجوا دیں۔اور سوموار کی صبح  اپنے لیٹر پیڈپر ٹائپ کر کے فیکس بھی کریں “۔
”اتوار مورخہ:28نومبر 2004، عزیز عیسیٰ کی طرف سے شیخوزئی کے لئے،ڈیر برادر شیخوزئی۔ ہم نے کوشش کرکے سوالوں کے جوابات حاصل کر لئے ہیں آپ انہیں بذریعہ ای میل بنک والوں کو بھجوا دیں۔اور سوموار کی صبح  اپنے لیٹر پیڈپر ٹائپ کر کے فیکس بھی کریں  ،(1)۔جناب فوادعبدل غفار احمد مرحوم کا  کا سوئفٹ کوڈ 3AU33H2  ہے (2)۔جناب فوادعبدل غفار احمد مرحوم  نے اکاونٹ 12 December 1992کو کھولا تھا؟ (3)۔جناب فوادعبدل غفار احمد مرحوم کا پہلا میڈن نام ERNONہے ؟ (4)۔جناب فوادعبدل غفار احمد مرحوم کی وفات سے پہلے لگایا جانے والا اکاونٹ کا خفیہ کوڈ X10FAGA     ہے۔شکریہ۔ عزیز عیسیٰ“۔
”اتوار مورخہ:28نومبر   2004،شیخوزئی کی طرف سے ڈیوڈ کنگ کے لئے۔ نیز BCC  عزیز عیسیٰ کے لئے ۔،  ڈیر ڈیوڈ کنگ۔ آپ کے پوچھے جانے والے سوالوں کے جوابات حاضر ہیں،(1)۔جناب فوادعبدل غفار احمد مرحوم کا  کا سوئفٹ کوڈ 3AU33H2  ہے (2)۔جناب فوادعبدل غفار احمد مرحوم  نے اکاونٹ 12 December 1992 کو کھولا تھا؟ (3)۔جناب فوادعبدل غفار احمد مرحوم کا پہلا میڈن نام ERNONہے ؟ (4)۔جناب فوادعبدل غفار احمد مرحوم کی وفات سے پہلے لگایا جانے والا اکاونٹ کا خفیہ کوڈ X10FAGA     ہے۔امید ہے کہ سوالوں کے جوابات کی تصحیح ہوتے ہی آپ اکاونٹ میرے نام ٹرانسفر کر دیں گے۔ میں کل صبح پاکستان کے وقت کے مطابق نو بجے آپ کو فیکس بھی کر دوں گا یاد رہے کہ آپ کا ملک ہمارے وقت سے پانچ گھنٹے پیچھے ہے آپ کے آفس میں  یہ فیکس آپ کے وقت کے مطابق صبح  چار بجے وصول ہو جائے گا اگر اس کے پڑھنے میں کوئی خرابی ہوئی تو مجھے جواباً  فیکس میں بتائیے میں دوبارہ کسی دوسرے آفس سے فیکس کر دوں گا۔ شکریہ۔ شیخوزئی۔
”اتوار مورخہ:28نومبر  2004، عزیز عیسیٰ کی طرف سے شیخوزئی کے لئے ،  ڈیر برادر شیخوزئی۔ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ آپ نے کسی بھی صورت  ہمارے درمیان تعلق کو ظاہر نہیں کرنا۔آپ نے جو ای میل  مسڑ ڈیوڈ کنگ کو بھجوائی۔اس کی مجھے کاپی بھجوائی۔آپ کا یہ عمل ہمارے مشن کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔ امید ہے کہ آئیندہ آپ ایسی بھیانک غلطی نہیں کریں گے۔ عزیز عیسیٰ“۔
”اتوار مورخہ:28نومبر   2004،،شیخوزئی کی طرف سے عزیز عیسیٰ کے لئے، ڈیر عزیز عیسیٰ۔ میں واقعی شرمندہ ہوں کہ جذبات کی زیادتی کی وجہ سے انجانے میں مجھ سے یہ غلطی سرزد ہو گئی۔میں کمپیوٹر کا ماہر نہیں نیز میرے خیال میں BCCکی جانے والا میل ایڈریس نظر نہیں آتا بہر حال میں آئیندہ خیال رکھوں گا۔ شیخوزئی۔
            انٹر نیٹ کی دنیا میں آباد، تمام صاحبانِ دردمند دل، (جنہیں  ہماری ایک معتبر ادارے میں ایک اعلیٰ درجے پرفائز فردگھر اور آفس میں سجاوٹ اور سپلائی کی  ٹھیکیدار ی اور پھر ہم سمیت ہمارے  بزنس کی ایڈوانس کمیشن کے شکنجے میں پھنسنے کے بعد تباہی کا علم ہے) ۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ وہ کسی طرح ہمیں ہمارے قدموں کے بل دوبارہ کھڑا کر دیں۔ان میں وہ تمام ادارے بھی شامل ہیں جو کریڈٹ کارڈ اور قرضہ جات دیتے ہیں۔کچھ لاٹری والے بھی سر گرم ہیں۔اب کروڑ پتی سکیم میں کون لائن میں لگے۔ بہرحال ان سب میں سرگرم ہمارے بین الاقوامی ہمدرد ہیں۔  ہالینڈ کے دردمندوں نے ہم سے پوچھے بغیر ہمارا ای میل ایڈریس،ڈبے میں ڈال کر گھما دیا یہاں تک تو خیریت تھی۔ اب وہ اطلاع دے رہے ہیں کہ ہماء ِ کیپیٹل ازم ۔ اب بنک سے نکل کر اُڑ کر آپ کے سر پربیٹھنے والا ۔ اب یہ آپ کی گردن کی استطاعت کہ یہ اُس کے بوجھ سے دب جاتی ہے یا تنی رہتی ہے۔کیونکہ اس طرح کے ہماء  شماء کسی عام فرد کی گردن کو شکنجے میں نہیں لیتے اس کے لئے مخصوص قابلیت و سوچ ہونی چاہیئے۔”کھل جا سم سم والی سوچ“۔اتوار کی رات ایک نئی خوشخبری ہماری منتظر تھی۔
”اتوار مورخہ:28نومبر   2004،،mrs_florence_kujeto@hotmail.comکی طرف سے shekhuzai@dosama.com کے لئے، مضمون:ایوارڈ نو ٹیفکیشن (اپنا انعام کلیم کریں)۔ توجہ مسٹر شیخوزئی۔ مسز فلورینس کو جاٹو۔ای۔اے۔اے۔ایس۔لاٹری ہیڈکوارٹر: کسٹمر سروس  19thسٹریٹ ۔سکارامنٹو۔ایمسٹرڈم۔نیدر لینڈ ۔ مبارک ہو۔ ہم اس بات کی اطلاع دیتے ہیں کہ ایمسٹرڈم۔ہا لینڈ۔میں 25نومبر 2009 کو ہونے والی یورو۔افرو ایشین بین الاقوامی لاٹری میں، آپ کا ای میل ایڈریس ٹکٹ نمبر 5447443465L44سے منسلک تھا۔اور آپ تھرڈ کیٹیگری کی لاٹری میں پچیس لاکھ امریکن ڈالرز بذریعہ چیک پہلے دو سو پچاس خوش نصیبوں کے درمیان تقسیم کے اصول پر جیت چکے ہیں۔ آپ کا لکی ونر نمبر ایشیاء میں آتا ہے۔ہمارا نمائیندہ جو جکارتہ انڈونیشیا میں ہے وہ آپ سے رابطہ کرے گا۔  آپ کا  ریفرنس  نمبر EGS/0007459015/03۔ ہے  اسے محفوظ رکھیں۔اس ای میل کا جواب نہ دیں آپ سے ہمارا نمائیندہ رابطہ کرے گا۔ پرخلوص۔ مسز فلورینس کو جاٹو۔
         ہم نے مسز فلورنس کو فوراً جوابی ای میل بھیجی کہ ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ کی نظرِ کرم ہم پر پڑی۔ہمیں اس رقم کو حاصل کرنے کا طریقہ بتائیے۔ہمارا مکمل ایڈریس،ٹیلیفون نمبر۔ فیکس نمبر۔ اور موبائل نمبر یہ ہے۔ رقم کیش بھجوایئے تو بہتر ہے چیک بھی چل جائے گا۔ رقم کیش ہونے کے بعد ہم ویزہ لے کر ان کا خصوصی شکریہ ادا کرنے آئیں گے۔آپ لوگ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ کیا ہمارے پاس اتنا فارغ وقت ہے کہ ہم ہر ای میل کا جواب دے دیتے ہیں۔دراصل ہمارے ایک بزرگ دوست تھے۔اللہ انہیں جنت نصیب کرے۔ کوئی پچیس تیس سال پہلے ہم انہیں ”میجرگرو“کہا کرتے تھے۔بلکہ ہم کیا لوگ پہلے سے ہی گرو کہتے تھے اُن کی بزلہ سنجیاں،حاضر جوابی اور قانونی مو شگافیوں کے قائل ہونے کے بعد ہم نے بھی انہیں اپنا گرو بنا لیا۔اُن کا قول تھا کہ اگر دنیا میں لوگوں کا دل جیتنا ہے تو ہر ہلتی چیز کو سلام کرو۔اور ہر خط لکھنے والے کو جواب لازمی دو۔  یہ اور بات کہ فوج میں میجر گرو کے نقشِ قدم پر چلتے ہو ئے ہماری بھی تما م زندگی  Explanations کا جواب دیتے ہوئے گذری۔ اور اب تو عادت سی ہو گئی ہے۔
 ”سوموار مورخہ:24نومبر   2004،aubinfos@yahoo.co.ukکی طرف سے :  افریقن یونین بنک غیر ملکی ادئیگیوں کا شعبہ۔ لوم ریپبلک آف ٹوگو۔فیکس نمبر 002282223341مضمون:مبارک ہو۔ہم آپ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں کہ آپ نے اپنی ای میل میں ہمارے جن سوالوں کے جوابات دیئے ہیں وہ ہمارے مطابق بالکل درست ہیں۔لہذا ہم آپ کو جناب فوادعبدل غفار احمد مرحوم کا حقیقی وارث تسلیم کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ہم آپ کو دلی مبارکباد دیتے ہیں۔آپ کے ضروری کاغذات کی تیاری کا کام شروع ہو گیا ہے آپ کی وراثت کا سرٹیفکیٹ آپ کو کل مل جائے گا۔براہ مہربانی۔اپنے بنک کو ہدایت کر دیں کہ ہماری فیکس ملنے کے بعد وہ آپ کے فنڈ کوٹرانسفر کروانے کے لئے کوشش کریں۔ مجھے امید ہے کہ آپ نے ہمیں جو  آپ بنک کے  اکاونٹ کی تفصیلات بھجوائیں تھیں وہ درست ہیں۔ ہمارے بنک کاتمام عملہ جناب فوادعبدل غفار احمد کی ناگہانی وفات پر آپ اور آپ کی فیملی سے ہمدردی رکھتے ہیں۔اور آپ کو  کلیم کی کامیابی پر مبارکباد پیش کر تے ہیں۔شکریہ۔ ڈیوڈ کنگ ٰ“۔
”سوموار مورخہ:24نومبر   2004،شیخوزئی کی طرف سے عزیز عیسیٰ کے لئے، ڈیر عزیز عیسیٰ  افریقن یونین بنک کے  ڈیوڈ کنگ کی طرف سے بھیجی جانے والی ای میل کی کاپی آپ کوبھجوا رہا ہوں۔براہ کرم بتائیں اب کیا کرنا ہے؟۔ شیخوزئی
”سوموار مورخہ:29نومبر  2004،عزیز عیسیٰ کی طرف سے شیخوزئی کے لئے،  ڈیر برادر شیخوزئی،۔بنک نے تما م کاروائی کر دی ہے سرٹیفکیٹ  آپ کو آج مل جائے گا۔مجھے خوشی ہے کہ ہم نے سب سے بڑا اور مشکل قدم کامیابی سے اٹھا لیا ہے۔غیر ملکی ادئیگیوں کے شعبے سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کو بذاتِ خود یہاں آکر کاغذات پر دستخط کرنے پڑیں گے۔کیا آپ نے اپنا پاسپورٹ بنا لیا ہے؟ کیا آپ یہاں آئیں گے؟ یا اس مسئلے کو ہم کس طرح حل کریں گے؟ مجھے فورا بتائیں۔اب ہمیں تیزی سے کام کرنا ہے۔ شکریہ۔ عزیز عیسیٰ“۔
”سوموار مورخہ:29نومبر   2004،aubinfos@yahoo.co.ukکی طرف سے: shekhuzai@dosama.comکے لئے،  افریقن یونین بنک غیر ملکی ادئیگیوں کا شعبہ۔ لوم ریپبلک آف ٹوگو۔فیکس نمبر 002282223341۔جناب آپ کے تمام ضروری کاغذات مکمل ہو گئے ہیں۔سرٹیفکیٹ ساتھ منسلک ہیں۔ڈاکٹر بن نکولس کو ہم نے آپ کا کنسلٹیشن اٹارنی بنایا ہے وہ آپ کے تمام مفادات کی نگرانی کریں گے۔ان کا ای میل ایڈریس chi007@yahoo.comہے آپ آئیندہ براہ کرم ان سے رابطہ رکھیں ان کافون نمبر  002282512612فیکس نمبر  002289086850  ہے۔آپ کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ آپ سات دن کے اندر اپنا کلیم وصول کر لیں۔شکریہ۔ ڈیوڈ کنگ ٰ“۔
”سوموار مورخہ:29نومبر   2004،chi007@yahoo.com: ڈاکٹر بن نکولس۔کنسلٹیشن اٹارنی برائے غیر ملکی ادائیگی۔افریقن یونین۔ لوم ریپبلک آف ٹوگو۔فیکس نمبر 002282223341۔جناب شیخوزئی۔ مجھے میرے بنک نے آپ کا کنسلٹیشن اٹارنی بنایا ہے۔میں اس وقت تک جب تک آپ کے فنڈ ٹرانسفر نہیں ہو جاتے آپ کے تمام مفادات کی نگرانی کروں گا۔آپ ان فنڈ مجھے اپنا لائحہ عمل بتایئے۔یاد رہے کہ سات دن کے اندر آپ نے ان فنڈ کا کلیم داخل کر کے انہیں ٹرانسفر کرانا ہے جس کے لئے آپ کو اول تو یہاں آنا پڑے گا اور اگر آپ یہاں نہیں آسکتے تو آپ کو لازمی کسی کو یہاں اپنا اٹارنی بنانا پڑے گا۔ جو آپ کی ہدایت کے مطابق یہاں سے فنڈٹرانسفر کرنے کااختیار رکھے گا۔آپ کو مزید یہ بھی معلومات دوں کہ فنڈ صرف آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو سکتے ہیں جو آپ نے اپنی درخواست میں ظاہر کیا ہے۔آپ مجھے بھی اپنا اٹارنی نامزد کر سکتے ہیں اس کے لئے آپ کو صرف بنک کو اپنی رضامندی بتانی پڑے گی۔اس تمام عمل کے لئے میری فیس مبلغ”دس ہزار امریکی ڈالرز“  ہوتی ہے لیکن میں آپ سے یہ فیس نہیں لوں گا بلکہ آپ کے لئے یہ خدمات بلا معاوضہ انجام دوں گا۔آپ کی رضامندی کا منتظر۔نکولس
’سوموار مورخہ:29نومبر   2004،شیخوزئی کی طرف سے عزیز عیسیٰ کے لئے ،  ڈیر عزیز عیسیٰ۔میں ڈیوڈ کنگ اور ڈاکٹر بن نکولس کی ای میل آپ کو بھجوارہا ہوں۔آپ کو معلوم ہے۔کہ میرے پاس پاسپورٹ نہیں ہے۔پاسپورٹ بنوانے اور  اس پر ویزہ لگوانے کے لئے کم از کم مہینہ لگے گا۔آپ براہ کرم مجھے گائیڈ کریں کہ یہ سب کام کیسے ہوں؟ ہاں یہ بتایئے کہ ڈاکٹر بن نکولس کون ہیں؟ کیا ان پر اعتبار کیا جاسکتا ہے؟ ان کا میڈیکل کے کس شعبے سے تعلق ہے؟  نیز میں ڈاکٹر صاحب کی فیس فنڈ ملنے کے بعد ادا کروں گا۔شکریہ۔ شیخوزئی۔
”منگل مورخہ:30نومبر2004،عزیز عیسیٰ کی طرف سے شیخوزئی کے لئے، ڈیر برادر شیخوزئی،مجھے دونوں ای میل مل گئی ہیں۔آپ خوش قسمت ہیں کہ ڈاکٹر بن نکولس نے اپنی خدمات آپ کو پیش کی ہیں۔وہ ایک بہت مصرف اور اہم شخصیت ہیں۔ میں  آپ کی معصومیت  سے لطف اندوز ہوا ہوں۔  ڈاکٹر بن نکولس کا میڈیکل کے کسی شعبے سے تعلق نہیں ہے۔انہوں نے قانون اور بنکنگ قانون کے شعبے میں ہارورڈ یونیورسٹی سے ڈاکٹری کی سند لی ہوئی ہے۔ڈاکٹر صاحب ایک نیک دل انسان ہیں وہ آپ کو اس بارے میں خود بتائیں گے۔آپ ڈاکٹر صاحب کو رضامندی کی ای میل بھجوا دیں۔شکریہ۔ عزیز عیسیٰ“۔
”منگل مورخہ:30نومبر 2004،شیخوزئی کی طرف سے ڈیوڈ کنگ اور ڈاکٹر بن نکولس کے لئے ، جناب ڈیوڈ کنگ۔ میں آپ کو یہ اطلاع دینے میں خوشی محسوس کرتا ہوں کہ ڈاکٹر بن نکولس نے  مجھے اپنی خدمات مہیا کرنے کے لئے اپنی پرخلوص  خدمات  پیش کی ہیں۔جو ان کی اعلیٰ ظرفی اور ایک غیر ملکی کے لئے نعمت غیر مترقبہ ہے۔ میں اس کے لئے ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔براہ کرم آپ ان کو وہاں فنڈ ٹرانسفر  کے سلسلے میں۔میرے مفادات کا نگران سمجھیں میں ان کو اس سلسلے میں اٹارنی کے اختیار تفویض کرتا ہوں۔ امید ہے کہ اس معاملے میں اب تمام کاروائی وہ انجام دیں گے ۔ شیخوزئی۔
”بدھ  مورخہ:1دسمبر  2004،ڈاکٹر بن نکولس کی طرف سے  شیخوزئی کے لئے،   ڈیر شیخوزئی۔آپ غالباً حیران ہوں گے کہ میں نے آپ کو اپنی بلا معاوضہ خدمات کیوں پیش کی ہیں۔ آپ کا مرحوم بھائی جناب فوادعبدل غفار احمد میرا ایک اچھا دوست تھا۔مجھے یاد ہے کہ میری پیاری بیوی  ماریہ جب بسترِ مرض پر تھی اور مجھے رقم کی سخت ضرورت تھی تو اس نے میری اس مشکل وقت میں میری نہ صرف رقم سے مدد کی بلکہ مجھے اچھے اخلاق سے سہارا دیا۔ میں اس ہمدرد اور اچھے انسان کے وارث کی مدد کر کے اس کے احسان کا بدلہ اتار سکتا ہوں۔امید ہے کہ آپ مجھے اس نے انسان کا مجھ پر کئے ہو ئے احسان کا بدلہ اتارنے کا موقع دیں گے۔بنک کے تمام کاغذات میں نے تیار کر لئے ہیں وہ آپ کو بھجوانے ہیں تاکہ آپ ان پر اپنے دستخط کر کے مجھے واپس بھجوا دیں۔یہ کاغذات آپ کو DHLکورئیر سروس کے ذریعے بھجوائے جائیں گے۔قونصلیٹ کا نمائیندہ آپ کے پاس یہ لے کر آئے گا آپ اس کے سامنے اس پر دستخط کریں اور گواہ کی جگہ اس کے دستخط کروائیں گے اور دوسرا گواہ آپ کے بنک کا کوئی آفیسر ہو گا جو آپ کے دستخطوں کی تصدیق بھی کروائے گا۔امید ہے کہ آپ طریقِ کار سمجھ گئے ہوں گے۔ ہاں میں آپ کو مزید بتاؤں کہ DHLکے کل اخراجات دو طرفہ 1240امریکی ڈالرز ہوں گے۔اور مزید 600امریکن ڈالرز،اٹارنی کے کاغذات اور دیگر کاموں میں خرچ ہوئے ہیں۔آپ یہ رقم ویسٹرن یونین بنک کی معرفت میرے اسسٹنٹ کو بھجو ائیں گے۔ کیونکہ میں کل لندن،بنک کے کام سے جا رہا ہوں اور چار دن بعد واپسی ہو گی میں نے اپنے اسسٹنٹ کو تمام کاروائی سمجھا دی ہے۔میرے  اسسٹنٹ کا نام پہلا نام آمدی اور دوسرا نام ہوول ہے۔ ملک ٹوگو اور شہر لوم ہے۔رقم بھیجتے وقت مجھے ای میل پراطلاع نہ دیں بلکہ میرا موبائل  نمبر 00228-928-22-70 ہے۔ اس پر اطلاع دیں۔ہاں اگر آپ ای میل کے ذریعے اطلاع دینا چاہیں تو میری بیوی  ماریہ کا ای میل ایڈریس chi007tg@yahoo.comہے۔ اس پر اطلاع دیں وہ مجھے موبائل پر بتا دے گی۔وہ بھی آپ کے بھائی کی ممنون ہے۔ شکریہ ۔ نکولس
         ٓآپ کو یہ ای میل سمجھ آئی؟ اسے غور سے دوبارہ پڑھیں۔جی ہاں اس ای میل کے مطابق افریقہ کی بھولی ”منجھ“ مجھے مرحوم  فوادعبدل غفار احمد(اگر کوئی ہے) کا اصلی وارث سمجھنے کی کوشش میں غائبانہ یہ بتا رہی ہے کہ ڈاکٹر بن نکولس کا عزیز عیسیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔جبکہ پارٹنروں کی ٹرائیکا مکمل ہے۔ مچھلی کا شکار اب شروع ہونے کو ہے دیکھیں ، کانٹا کس کے حلق میں پھنستا ہے ۔
”بدھ  مورخہ:1دسمبر2004 : لئے،ڈیر مسز ماریہ نکولس۔گو کہ میرا آپ کا غائبانہ تعارف ہے، لیکن میرا وجدان کہتا ہے کہ آپ اپنے شوہر کی طرح ایک ہمدرد اور احسان یاد رکھنے والی خاتون ہے۔ مجھے ایک کہاوت یاد آرہی ہے کہ،”جو بوؤ گے وہ کاٹو گے“۔ میں خوش ہوں کہ میرے مرحوم بھائی فوادعبدل غفار احمد نے جو بویا تھا اس کی اچھی فصل میں آپ دونوں میاں بیوی کی مدد سے کاٹ رہا ہوں۔مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ میرا تعارف ان عظیم میاں بیوی سے حالات اور وقت نے کرایا ہے جو نہ صرف اپنے اوپر احسان کرنے والے شخص کو یاد رکھتے ہیں بلکہ موقع ملنے پر اسے بھلے انداز میں چکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آفاقی سچائیوں کی یہ قدریں اس مادی دنیا سے ناپید ہو تی جا رہی ہیں۔لیکن اب بھی اس دنیا میں ایسے افراد موجود ہیں جو ان قدروں کو برقرار رکھ رہے ہیں۔اسی لئے قیامت آنے میں ابھی دیر ہے۔ یہ بتایئے کہ آپ کس بیماری میں ہسپتال میں داخل ہوئیں تھیں۔ اب آپ کی طبیعت کیسی ہے؟کیا آپ اب ایک صحتمند زندگی گزار رہی ہیں؟۔  اپنی دعاؤں میں یاد رکھیئے۔ شیخوزئی۔
”جمعرات  مورخہ:2دسمبر 2004،شیخوزئی کی طرف سے عزیز عیسیٰ کے لئے ، ڈیر عزیز عیسیٰ  ڈاکٹر  بن نکولس کو بھیجی گئی میری ای میل  اور ان کی طرف سے مجھے آئی ہوئی ای میل۔ مسز ماریہ نکولس کو بھیجی گئی میری ای میل اور ان کی طرف سے مجھے آئی ہوئی ای میل۔آپ کی اطلاع کے لئے بھجوا رہا ہوں۔شیخوزئی۔
”جمعرات  مورخہ:2دسمبر  2004، مسز ماریہ نکولس کی طرف سے شیخوزئی کے لئے، ڈیر برادر شیخوزئی،آپ کی ای میل ملی۔آپ بھی اپنے بھائی کی طرح ایک اچھے انسان ہیں۔جیسا کہ نکولس نے بتایا کہ ہم دونوں آپ کے بھائی کے مشکور ہیں۔ یہ  1998کی بات ہے۔دراصل میرے سب سے چھوٹے بیٹے کی ولادت تھی۔ مجھ میں خون کی کمی ہوگئی اور ساتھ ہی اوپریشن سے میرے ہاں ولادت ہوئی۔اس مشکل وقت میں آپ کے بھائی نے ہماری مدد کی۔بلکہ میرے چھوٹے بیٹے کو پتسمہ آپ کے بھائی نے دیا تھا۔اور وہ اس کا روحانی باپ بھی تھا۔ہاں کیا آپ نے اسسٹنٹ آمدی کے نام رقم بھجوا دی ہے؟۔ شکریہ۔ ماریہ “۔
         چلیں قارئین ،  ایک عورت بیچ میں ، کہانی کو ڈرامائی موڑ دینے کے لئے داخل ہو گئی ہے ۔
"جمعرات  مورخہ:2دسمبر  2004،:  شیخوزئی کی طرف سے مسز ماریہ نکولس کے لئے،ڈیر مسز ماریہ نکولس۔میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اب بھی میرے مرحوم بھائی کو یاد رکھا ہوا ہے۔ واقعی اوپریشن سے ولادت  پر اچھے خاصے اخراجات ہو جاتے ہیں اور اگر یہ ملک کے کسی بہترین ہسپتال میں ہوں تو اخراجات دگنا ہو جاتے ہیں۔ آپ کے شوہر کے سٹیٹس اور معیار کے مطابق یقیناً آپ کے بچے کی ولادت کسی بہترین ہسپتال میں ہوئی ہو گی۔ اس قسم کے ہسپتال کا ہمارے ملک میں کم از کم اخراجات 2500امریکی ڈالر ز سے کم نہیں آتے۔ جبکہ ہمارے ملک میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والا شخص ماہانہ  2000ہزار امریکن ڈالرز سے زیادہ نہیں لیتا ّ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ میری ماہانہ تنخواہ صرف 250امریکن ڈالرز کے تقریباً برابر ہے۔ جیسا کہ آپ کے شوہر نے مجھے بتایا ہے کہ میرے بھائی نے آپ کے چھوٹے بیٹے کی ولادت کے وقت ان کی رقم سے مدد کی تھی۔جو یقیناً قابل یاداشت ہو گی کیونکہ تھوڑی رقم سے کی گئی مدد کو کوئی یاد نہیں رکھتا۔ویسے بھی میرا وہ مالدار بھائی چار پانچ ہزار ڈالرز سے مدد کرنا معمولی بات سمجھتا تھا۔ہاں آپ لوگ چونکہ لندن جاتے رہتے ہیں کیونکہ آپ لوم۔ٹوگو کے معزز شہری ہیں۔ یہ بتایئے کہ آپ کے بچے کی ولادت  لوم۔ٹوگو  میں ہوئی  یا لندن میں۔ میرے خیال میں لندن میں ہوئی ہو گی کیونکہ میرا مرحوم بھائی مئی 1997کے بعد اپنے پاسپورٹ کے مطابق لوم۔ٹوگو  نہیں گئے۔آپ کا شکر گزار شیخوزئی۔
”جمعہ  مورخہ:3دسمبر  2004،مسز ماریہ نکولس کی طرف سے شیخوزئی کے لئے، ڈیر برادر شیخوزئی،آپ کا اندازہ درست ہے۔ میرے چھوٹے بیٹے کی ولادت لندن میں ہوئی تھی۔آپ کے بھائی کا اکاونٹ کیونکہ میرے شوہر کے بنک میں ہے۔ وہیں ان دونوں کا تعارف ہو اتھا۔جب ہم لندن آئے تو میرے شوہر کے رابطہ کرنے پر وہ ہسپتال آئے تھے۔ وہ ایک ہمدرد اور اچھے انسان تھے۔ اللہ ان پر اپنی نوازشات کی بارش کرے۔کیا آپ نے اسسٹنٹ آمدی کے نام رقم بھجوا دی ہے؟۔شکریہ۔ماریہ “۔
”جمعہ  مورخہ:3دسمبر  2004، شیخوزئی کی طرف سے مسز ماریہ نکولس کے لئے، ڈیر مسز ماریہ نکولس۔میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ کہ آپ نے مجھے جواب دیا۔ واقعی لندن میں توولادت بذریعہ اوپریشن بہت اخراجات لیتا ہے۔  میری ماہانہ تنخواہ صرف 250امریکن ڈالرز کے تقریباً برابر ہے۔جیسا کہ آپ لوگوں نے بتایا کہ میرے بھائی نے آپ لوگوں کے مشکل وقت۔اپنا قیمتی وقت نکال کر آپ کی بذریعہ رقم مدد کی جو یقینا اچھی خاصی رقم ہو گی جبھی تو آپ نے ان کو یاد رکھا۔ اس وقت میری بھی وہی حالت ہے جوآپ لوگوں کی 1998میں لندن کے ہسپتال میں تھی اورآپ نے میرے بھائی کو مدد کے لئے بلایا تھا وہ انسانیت اور دوستی کے اس حوالے سے دوڑا آپ کے پاس آیاجو انسانیت کا تقا ضا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نکولس نے   DHLکے کل اخراجات دو طرفہ 1240امریکی ڈالرز ہوں گے۔اور مزید 600امریکن ڈالرز،اٹارنی کے کاغذات اور دیگر کاموں میں خرچ  کے کل 1840ڈالرز بتائے ہیں۔ جو فی الحال میں آپ کو نہیں بھجوا سکتا۔ گو کہ یہ رقم میر ے بھائی کی طرف سے آپ کوآپ کی مشکل میں دی جانے والی     رقم سے یقینا بہت کم ہو گی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میں بھی اسی مشکل سے دو چار ہوں امید ہے کہ آپ اپنے شوہر کو قائل کریں گی کہ وہ اس رقم کی ادائیگی خود کر دیں فنڈ ملتے ہی نہ صرف میں آپ کو  یہ رقم ادا کر دوں گا بلکہ ان کی خدمات کا معاوضہ دس ہزار ڈالر بھی ادا کرنے میں خوشی محسوس کروں گا۔اور میں اپنے ملک میں آپ کا میزبان بننے میں فخر محسوس کروں گا۔آپ کا شکر گزار شیخوزئی۔
جمعہ  مورخہ:3دسمبر  2004،،شیخوزئی کی طرف سے عزیز عیسیٰ کے لئے ،  ڈیر عزیز عیسیٰ  مسز ماریہ نکولس کو بھیجی گئی میری ای میل۔ ان کی طرف سے مجھے آئی ہوئی ای میل۔آپ کی اطلاع کے لئے بھجوا رہا ہوں۔شیخوزئی۔
”ہفتہ  مورخہ:4دسمبر  2004،عزیز عیسیٰ کی طرف سے شیخوزئی کے لئے، مضمون:آپ مجھے سیریس نہیں لگتے۔ ڈیر برادر شیخوزئی،آپ نے ڈاکٹر بن نکولس کی ایڈوائس پر عمل نہیں کیا ہم لوگ آپ کی طرف سے پیش قدمی کے منتظر ہیں۔ پلیز آپ رقم فوراً بھجو ادیں۔تاکہ فنڈ جلدی آپ کو ٹرانسفر ہوں۔شکریہ۔ عزیز عیسیٰ“۔
”ہفتہ  مورخہ:4دسمبر  2004،،: شیخوزئی کی طرف سے عزیز عیسیٰ کے لئے ، مضمون:میں رقم نہیں بھجوا سکتا۔ ڈیر عزیز عیسیٰ۔امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے کیا آپ کا تعلق نائجیریا سے ہے؟ وہ اس لیے کہ میرے ایک دوست نے بتایا ہے کہ آج کل نائجیریا سے ان ای میل ایڈریس۔مریم اباچہ۔زینب اباچہ۔منیرات اباچہ۔ماریان اباچہ۔ مصطفی اباچہ۔احمد اباچہ۔جو hotmail.com  یا  yahoo.comکے تھے۔سے جو پیغام آیا وہ اس ای میل کے ساتھ ہے۔ اور جن لوگوں نے رقم بھجوائی انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔  اس لئے میں رقم بھجوانے سے ڈرتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ برا نہیں مانیں گے۔ شیخوزئی۔
        چونکہ اب یہاں آکر ہم نے ہتھیار ڈال دیئے۔اور کسی بھی قسم کی رقم بھجوانے سے انکار کر دیا۔ہمارے خیر خواہوں کو ہماری مجبوری سمجھ آگئی۔کہ دودھ کا جلا ہے چھاچھ بھی پھونک کر پیئے گا۔ لیکن کیونکہ اُن کی پوری کوشش تھی کہ وہ ہمیں ایسے بزنس میں پارٹنر بنائیں جو ہم دونوں یا ہم دونوں میں سے کسی ایک کے لئے لازماً فائدہ مند ہو۔ اب یہاں تک پہنچنے کے بعد مارکیٹنگ کے ماہر ہتھیار نہیں پھینک سکتے وہ تو اپنے کام کے اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ وہ گنجے کو کنگھی اور سائیبریا کے رہنے والوں کو ڈیپ فریزر  خریدنے پر مجبور کر سکتے ہیں اور یہی اُن کا آرٹ ہے۔اس آرٹ کو شکاریوں کی زبان میں ہانکا کروانا کہا جاتا ہے۔ لہذا،اب ہانکا شروع ہوتا ہے۔ شکار اور شکاری کے درمیان۔
”اتوار مورخہ:5دسمبر  2004،عزیز عیسیٰ کی طرف سے شیخوزئی کے لئے، ڈیر برادر شیخوزئی،آپ کے محتاط رویے سے میں متاثر ہوا ہوں۔میں آپ کی جگہ ہوتا تو ایسا ہی کرتا۔پہلے تو آپ پر واضح کر دوں کہ میرا تعلق نائجیریا سے نہیں ہے۔میں نے ان فراڈیوں  کے متعلق سنا تھا۔ واقعی انہوں نے کافی لوگوں کو ٹھگا ہو گا۔آپ کو اگر ہم پر اعتبار نہیں تو ہم ایسا کرتے ہیں کہ میں ڈاکٹر بن نکولس سے بات کر کے اس رقم کو آپ کے پاس  سیکیورٹی کمپنی کے ذریعے ڈپلومیٹک چینل سے بھجوانے کاانتطام کر وں گا تاکہ راستے میں یہ کسٹم چیک سے بچ جائے جب رقم کا بکس آپ تک پہنچ جائے تو آپ۔چارجز ادا کر کے بکس وصول کر لینا۔میں نے پہلے لکھا تھا کہ میرا ایک دوست آپ کے ملک میں ہے وہ میری نمائیندگی کرے گا ۔شکریہ۔ عزیز عیسیٰ“۔
”اتوار مورخہ:5دسمبر  2004،شیخوزئی کی طرف سے عزیز عیسیٰ کے لئے،  ڈیر عزیز عیسیٰ۔ میرے خیال میں یہ طریقہ بہت مناسب ہے۔اور قابلِ اعتبار بھی ہے ۔ شیخوزئی۔
         7دسمبر  2004،رات گیارہ بجے مجھے 0300-3581093سے میرے موبائل پر کال آئی۔کال کرنے والے نے اپنا تعارف ۔ مائیکل کے نام سے کرایا اور بتایا کہ وہ عزیز عیسیٰ کا دوست ہے۔اور مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔فی الحال وہ لاہور میں رہائش پذیر ہے۔میں نے اسے بتایا کہ وہ اسلام آباد آجائے مجھ سے ملاقات ہو جائے گی۔
          9 دسمبر  2004، چار بجے میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا کہ میرے موبائل پر مائیکل نے فون کیا کہ وہ اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔اس وقت میرے پاس میرے ایک دوست بیٹھے تھے انہوں نے پوچھا کہ اتنی گاڑھی انگلش کس سے بول رہے تھے۔ میں نے انہیں رازدان بنا کر تمام واقعہ سنایا کہ کس طرح ہمارے دن پھرنے والے ہیں۔موصوف نے فوراً نصیحتوں کا بکس کھولا اور ہمیں ان تمام واقعات  سے آگاہ کرنے لگے۔کہ نقصان اٹھاؤ گے۔تباہ ہو جاؤ گے یہ لازماً منشیات کی کمائی ہے۔میں نے کہا برادر۔تھوڑا حوصلہ رکھومفت ہاتھ آتی دولت میں کوئی برائی ہے۔رقم پر کہاں لکھا ہوتا ہے کہ یہ منشیات کی کمائی ہے یا لوٹ کی؟
           اُن کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ ہمیں کیسے سمجھائیں۔ابھی بحث جاری تھی کہ مسٹر مائیکل تشریف لے آئے۔
میرے ساتھ دوسرے شخص کو دیکھ کر پریشان ہوئے۔ کیونکہ موصوف اسے پورا پورا ایکسرے کر رہے تھے پھر ٹھیٹھ پنجابی میں بولے، مجھے یہ سو فیصد مشکوک لگ رہا ہے۔میں نے جواب دیا برادر آپ کی محکمہء جاسوسی میں کی جانے والی نوکری نے آپ کی نظر میں ہر دوسرے فرد کو سو فیصدمشکوک (بلیک)بنایا ہوا ہے اور جو پہلا شخص ہے وہ نوے نہ صحیح ساٹھ فیصد ضرور مشکوک  (گرے) ہے۔
            بہرحال  انہوں نے ہمیں ایک طرف رکھ کر مائیکل کو انٹرویو شروع کر دیااور گھما پھرا کر اس کا پاسپورٹ مانگ لیا۔ پاسپورٹ کے مطابق موصوف کا پورا نام ”چائک ایلائب اوسیتا۔پاسپورٹ نمبر
A2583556نائجیرین۔تاریخِ پیدائش 7جولائی 1972۔ پاکستان میں داخلہ 29ستمبر 2004، بذریعہ کراچی انٹرنیشنل ایر پورٹ۔  برائے بزنس“  اس سے پوچھ کر ہم نے پاسپورٹ کی فوٹو کاپی کروالی۔ہمارے دوست  ہمیں قائل نہ کرسکنے کے بعد  ہماری عقل پر پنجابی میں ماتم کرنے کے بعد اٹھ کر چلے گئے۔ چائک سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔اس نے بتایا کہ وہ ہم سے ملاقات کر کے مطمئن ہو گیا ہے۔ وہ سکیورٹی کمپنی کے ذریعے فنڈ منگوا لے گا۔اور باقی باتیں بتانے کے بعد وہ لاہور کے لئے روانہ ہو گیا کیونکہ ہم نے اسے خود ازراہ ہمدردی کراچی کمپنی اسلام آباد کے بس اسٹاپ پر ڈراپ کیا۔
       10دسمبر  2004،رات کو ہمارے ایک نہایت عزیز دوست جو اس وقت حاضر سروس ہیں ان کا فون آیا۔  تھوڑی دیر گپ شپ کے بعد ہم سے انہوں نے پوچھا کہ کیا تم کسی نائیجیرین سے بزنس کر رہے ہو؟ میں نے  پو چھاکیا برادر نے یہ خبر اخبار میں شائع کروادی ہے۔ کہنے لگے کہ وہ تمھارے لئے بہت پریشان ہے۔ میں نے اسے بتایاہے کہ تم کوئی ایسا کام نہیں کرو گے جو خود تمھارے لئے نقصان دہ ہو۔ بہر حال جو کچھ بھی کرنا سوچ سمجھ کر کرنا۔ میں نے انہیں بتایا کہ سوموار کو ہماری فائینل ڈیل ہو گی۔ میں پوری احتیاط کروں گا۔
        11دسمبر  2004،ہفتے کو مجھے 0304-5126341 سے چائک کا فون آیا کہ وہ لاہور سے بول رہا ہے۔فنڈ سوموار کو پہنچ جائیں گے۔وہ بھی سوموار کو اسلام آباد آئے گا۔میں نے خوشی کا اظہار کیا۔اسی دن موبائل پر عزیز عیسیٰ کا فون آیا۔اس نے پوچھا کہ کیا میری چائک سے بات ہو گئی ہے۔ میں نے ہاں میں جواب دیا تو اس نے کہا کہ چائک اپنا کام چھوڑ کر ہماری مدد کر رہا ہے۔ اب میں چائک سے لازمی کوآپریٹ کروں۔میں نے کہا کہ انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔ایک بات بتاؤ کیا چائک ٹوگئین ہے؟ ہاں۔ عزیز عیسیٰ نے جواب دیا۔تم نے کیوں پوچھا؟ ویسے ہی،میں نے جواب دیا؟
         13دسمبر  2004،تقریباًدو بجے چائک میرے پاس  آیا اس نے بتایا کہ فنڈ پہنچ گئے ہیں۔ فی الحال دو لاکھ ڈالرز آئے ہیں۔ ان پر کورئیر سروس کے آٹھ ہزارڈالرز خرچ آیا ہے جو ان کو دینے پڑیں گے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ میں نے اپنے پارٹنر سے بات کی ہے وہ انویسٹمنٹ کے لئے تیار ہو گیا ہے۔لیکن اس سے پہلے میں خود فنڈ دیکھوں گا اس کے بعد ڈالرز دوں گا۔اس نے بتایا کہ ٹھیک ہے۔ سکیورٹی کمپنی کا آفس ایف۔ 10سیکٹر میں ہے۔آپ جب کہو میں آپ کو سکیورٹی کمپنی کے آفس لے جاؤں گا۔
         15  دسمبر  2004،دس بجے میں نے چائک کو فون کیا کہ رقم کا انتظام ہو گیا ہے اب فنڈٹرانسفر ہو جانے چاہیئں۔ چائک نے کہا ٹھیک ہے  اور دو بجے میرے آفس میں آیا اس کے ہاتھ میں فنڈ ٹرانسفر کا لیٹر تھا جو اس کے نام پر بنا ہو اتھا۔رقم میرے اکاونٹ میں آنی تھی،تو اس کا مالک چائک کیسے بنا۔یہ لیٹر تو میرے نام بننا چاہیئے تھا؟ بہرحال میں نے چائک کو بتایا کہ وہ مجھے اور میرے پارٹنر کو آج ہی سکیورٹی کمپنی لے جائے جہاں سے ہم رقم اٹھا لیں۔کیونکہ صبح میں کراچی جا رہا ہوں اور اتوار کو واپس آؤں گا۔ ثبوت کے طور پر اسے میں نے ائرٹکٹ دکھایا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا رقم کا انتظا م ہو گیاہے۔ میں نے اپنے میز کی دراز کھول کر اس کو پانچ سو ڈالرز کا ایک نوٹ دکھایا۔ اس کے بعد وہ چلا گیا۔ 
        میں نے موبائل پر اپنے ایک ہمدرد سے پوچھا کہ آج مجھے اس کی ضرورت ہے کیا وہ میری مدد کر سکتا ہے؟ اس نے کہا سر آپ جہاں کہیں گے ہم آجائیں گے۔میرے اس ہمدرد  سے کل میرے ایک دوست، عمار جعفری صاحب  ایف آئی اے میں اچھے عہدے پر کمپیوٹر کے ماہر ہیں نے اپنے آفس میں  کروائی تھی- جو دیکھنے میں بالکل بے ضرر نظر آتا ہے لیکن بلا کا پھرتیلا اور دماغ کا تیز ہے۔
         شام پانچ بجے چائک کو فون آیا کہ وہ سات بجے تک مجھے وہ جگہ بتائے گا جہاں میں نے اور میرے پارٹنر نے آنا تھا۔بہت بڑی رقم کا معاملہ تھا اس لئے احتیاط ضروری تھی۔ میں نے اپنے ایک اور دوست طاہر محمود چوہدری ، کو مدد کے لئے کہا تھا  وہ فوراً میرے گھر آگیا۔ ہم نے اپنی حفاظت کے لئے پروگرام بنایا۔کہ طاہر کی کارمیں ہم دونوں ہوں گے  اور میرا بیٹا ارمغان، اپنی کارمیں ہمارا تعاقب کرے گااور خاموش تماشاہی بن کر،  ہمارے پیچھے رہے گا۔فی الحال ہماری منزل  ایف ٹین ہے۔ اگر عین وقت پر منزل تبدیل ہوتی ہے۔ تو ارمغان،  ہمدرد کو بتائے گا، کہ ہم کہاں کہاں سے گذر رہے ہیں ۔ شام سات بجے چائک کا مجھے فون آیا کہ کیا میں اس سے ٹھیک پانچ منٹ بعد کراچی کمپنی میں مل سکتا ہوں۔ میں نے اسے بتا یا کہ میں کراچی کمپنی سے پندرہ منٹ کی مسافت پر ہوں۔وہ میرا انتظار کرے۔میں کار میں بیٹھا۔دوست کارچلا رہا تھا میرے پاس ایک  بریف کیس تھا جو میں نے کارکی پچھلی سیٹ پر رکھ دیا۔ اور ہاں احتیاطاً اپناریوالور پچھلی سیٹ کے فٹ میٹ کے نیچے ڈال دیا۔
           پی۔ڈبلیو۔ڈی  آفس کراچی کمپنی کے نزدیک پہنچنے کے بعد میں نے چائک کو فون کیا اور اس سے پوچھا کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔اس نے بتایا کہ بس اڈے کے پاس جہاں میں نے اس کو اتارا تھا۔ بس  اڈے کے نزدیک پہنچے چائک لاہور جانے والی بس کے نزدیک کھڑا تھا۔ کا پارک کر کے ہم دونوں نکلے چائک مجھے دیکھ کر نزدیک آگیا۔چائک سے دوست کا تعارف میں نے سائیٹ انجنئیر کے طور پر کرایا۔تعارف اور سلام کے بعد میں نے چائک سے پوچھا کہاں جانا ہے؟ اس نے بتایا کہ
F-7/2جانا ہے ، دوست کو اچانک اپنے سگریٹ یاد آگئے اس نے معذرت کی اور کہا کہ وہ سامنے دکان سے سگریٹ لے آئے۔
         چائک نے کہاکہ اس کے پاس سگریٹ ہیں، اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ صرف اپنا مخصوص برانڈ پیتا ہے۔کہہ کر دوست سگریٹ لینے چلا گیا۔تھوڑی دیر بعد واپس آیا۔ میں کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔چائک نے رقم کے بارے میں پوچھا میں نے بریف کیس کو تھپتھپایا۔ہم
F-7/2کے لئے روانہ ہو گئے۔سیکٹر میں داخل ہونے سے پہلے میں نے پوچھا کہ کس سٹریٹ میں جانا ہے۔ چائک نے کسی سے موبائل سے پوچھا۔اس نے بتایا سٹریٹ بیس۔ میں نے چائک کو بتایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ سٹریٹ کس طرف ہے اگر وہ محسوس نہ کرے تو میں اپنے ایک دوست سے پوچھوں جو ایف سیون میں رہتا ہے اسے شاید معلوم ہو۔ میں نے سرسری طور پر دوست سے پوچھا اس نے لاعلمی ظاہر کی۔
            میں نے موبائل پر ”ہمدرد“ سے پوچھا کہ کیا اسے علم ہے کہ
F-7/2میں سٹریٹ بیس کس طرف ہے؟ اُس نے کیا سمجھانا تھا بہر حال  وہ پیغام سمجھ گیا۔ ہم سٹریٹ بیس کے اس سرے پر پہنچے جورانا مارکیٹ کی طرف ہے وہاں کارروک دی۔                
       چائک نے  موبائل پر پوچھا کہ کس طرف آنا ہے اور بتایا کہ ہم سٹریٹ میں داخل ہو جائیں اورکارمیں چلتے رہیں۔جس شخص نے ہمیں ملنا ہے وہ ہمیں مل جائے گا۔ کار سٹریٹ بیس میں موڑی اور کار آہستہ آہستہ سٹریٹ میں رینگنے لگی۔
              اس وقت شام کے ساڑھے سات یا پونے آٹھ بجے ہوں گے سٹریٹ مکمل سنسان تھی۔اسلام آباد کی ایک خوبی ہے کہ گرمیوں میں مغرب کے بعد گھروں کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔اکّادُکّا افراد یا گاڑیاں رہائشی علاقوں میں نظر آتی ہیں  البتہ بزنس کے مرکزوں میں تھوڑا رش ہوتا ہے۔  سامنے سے آنے والی کار ہمارے پاس سے گزر گئی۔سٹریٹ لائیٹ کی روشنی میں دور تک کوئی متنفس نظر نہیں آرہا تھا۔ہم سٹریٹ کے درمیان میں پہنچ چکے تھے ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ہمار ے پیچھے بھی کوئی کار نظر نہیں آرہی تھی۔ ہمدرد   بھی نظر وں سے اوجھل تھے۔پانچ سو اور ہزار گز پر بنی ہوئی کوٹھیوں سے ٹی وی تک کی آواز نہیں آرہی تھی ایسامحسوس ہوتا تھا کہ گھروں کے سارے لوگ لائیٹیں بجھائے دبکے ہوئے تھے۔ شائد سارے گھر وں کے لوگ دم سادھے ہمارے ساتھ اس ڈیل کا انجام دیکھنے کے منتظر تھے۔۔
           ہماری کار آہستہ آہستہ چلتی ہوئی سٹریٹ کے آخر میں پہنچ گئی۔ سٹریٹ کے خاتمے پردائیں طرف کونے پر بنی ہوئی کوٹھی کے کونے پر مجھے ایک چھ فٹ کا انسانی ہیولہ نظر آیا جو درختوں کے سایے میں فٹ پاتھ پر کھڑاتھا۔ میں نے چائک کی توجہ اس طرف دلائی۔اس نے کار روکنے کا کہا کار بالکل سٹریٹ کے کونے پر آگئی تھی میں اپنے دائیں طرف دور تک سنسان فٹ پاتھ دیکھ سکتا تھا۔ دور سے آنے والی روشنی میں کسی افریقی شخص کا ہیولا ہم سے صرف  بیس فٹ کے فاصلے پر تھا۔چائک نے موبائل پر کال ملائی۔ہیولے نے موبائل کان سے لگایا۔دونوں میں افریقی زبان میں بات ہوئی۔اندھیرے میں کار سے اتر کر چائک اس ہیولے کی طرف بڑھا۔ہیولے نے ہم سے مخالف سمت چلنا شروع کر دیا۔ میں نے گردن موڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا۔ دور تک سٹریٹ سنسان تھی۔ میں نے  دوست کو کار سے نیچے اترنے کا کہا۔دونوں  سایوں نے آپس  میں کھڑے ہو کر بات کی۔ چائک واپس ہوا۔کوٹھی کے کونے  کی دیوار کی طرف  آتے ہوئے وہ نیچے جھکا  دوسرے ہی لمحے اس کے ہاتھ میں ایک بریف کیس نظر آیا۔ وہ  تیز قدموں کی طرف آیا اس نے کار میں جھانکا اور مجھے کہا کہ یہ بریف کیس لو او رمجھے رقم دو۔
            اچانک میرے چہرے پر سٹریٹ میں مڑنے والی کار کی ہیڈلائیٹ کی روشنی پڑی۔  دو کاریں سٹریٹ میں سے ہماری طرف آرہی تھیں۔ میں نے چائک کو کہا کہ وہ کار میں بیٹھ جائے کیونکہ پیچھے سے کچھ کاریں آرہی ہیں۔چائک کار میں بیٹھ گیا۔ بیگ دینے والے افریقی کا ہیولا آہستہ آہستہ ہم سے دور جارہا تھا۔چائک کے بیٹھتے ہی میں نے اس سے کہا کہ وہ بریف کیس کھول کے دکھائے اس نے کہا کہ میں رقم اسے دے دوں وہ مجھے کل صبح موبائل پر بریف کیس کے لاک کے نمبر بتائے گا۔ میں نے شک ظاہر کیا کہ اس میں کیا معلوم دو لاکھ ڈالروں کے وزن کے برابر کاغذات  ہوں۔جب تک وہ مجھے بریف کیس کھول کر نہیں دکھا تا میں اسے رقم نہیں دوں گا میں نے اپنا بریف کیس مضبوطی سے پکڑ لیا۔اتنے میں چائک کے موبائل کی گھنٹی بجی، چائک نے موبائل پر جھڑک کر افریقی زبان میں کوئی جواب دیا۔اور مجھ سے لجائے ہوئے لہجے میں کہنے لگا کہ میں اس پر شک نہ کروں۔
            اتنے میں ایک پیجارو اور ایک کار ہمارے پاس آکر رکی اُس سے کچھ آدمی کود کر ہمارے طرف لپکے۔دوست نے دور جاتے ہوئے افریقی کی طرف اشارہ کیا دو ہیولے اس کی طرف دوڑے۔ایک نے کار کا دروازہ کھولا دوسرے نے چائک کو ہتھکڑی پہنا دی۔ میں اندھیرے میں اپنے سے دور جانے والے دونوں ہیولوں کو اندھیرے میں غائب ہوتا دیکھا۔چائک نے زخمی نظروں سے میری طرف دیکھا۔میں نے کندھے اچکا کر کہا۔ سوری۔
lets do a final deal at police station
 



ایف۔آئی۔اے کے ماہر وں نے چائک کو اپنی کار میں بٹھا لیا۔ تھوڑی دیر بعد تعاقب کرنے والے دونوں ہمدرد آگئے۔  ایک بولا، سوری سر وہ نالے میں کود کر غائب ہو گیا۔ دوسرے کا ایڈریس یہ خودبتائے گا۔آیئے آفس چلتے ہیں۔ میں نے موبائل پر اپنے بیٹے ارمغان کو بتایا کہ مشن مکمل ہو گیا ہے وہ گھر چلا جائے۔ ہم گھنٹے بعد واپس آجائیں گے۔

            تھوڑی دیر بعد ہم اوجھڑی کیمپ کے عقب میں واقع ایف آئی اے پاسپورٹ سیل کے آفس میں۔دولاکھ ڈالر سے بھرا ہو  بریف کیس کھولنے کی کوشش کر رہے تھے۔چائک کے موبائل پر بار بار کال آرہی تھی۔ شاید بچ کر بھاگنے والا افریقی، چائک کے بارے میں جاننے کے لئے رنگ کر رہا تھا۔ بریف کیس کھلا۔ایک تیز کیمیکل کی بو کمرے میں پھیل گئی۔بریف کیس میں کسی کیمیکل کی چھ چھوٹی  بوتیں۔کالے رنگ کے ڈالروں کے سائز کے بیس پیکٹ اور روئی موجود تھی۔ایف آئی اے انسپکٹر نے بریف کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں سے ہر گڈی کے دونوں طرف سو ڈالر کے جعلی نوٹ ہیں۔کل یہ آپ کے آفس میں آتا اور کیمکل کے ذریعے آپ کو چار یا پانچ نوٹ صاف کر کے دکھاتا  یہ کیمیکل ان سب نوٹوں کو صاف کرنے کے لئے کافی نہیں۔لہذا آپ کو مزید ڈالرز ادا کر نے کا کہا جاتا رقم اتنی مانگی جاتی کہ آپ یہ صاف ہونے والے نوٹ شامل کر کے اور ڈالرز دیتے۔

             لاہور کے ایک ارب پتی بننے والے  ”معصوم“  شخص نے کل سولہ ہزار اصلی ڈالرز ان جعلی ڈالروں کو صاف کرنے کے لئے ادا کئے۔سب سے دکھی داستان جو بتائی گئی وہ ایک ریٹائرڈفوجی کی تھی جس نے اپنی پنشن کے بدلے یہ نوٹ حاصل کئے۔پھر انہیں صاف کرکے روپوں میں تبدیل کرانے کی کوشش میں گرفتار ہوا۔
میں نے وہ بریف کیس اٹھایا اور حوالات میں بند چائک کے کمرے  کے سامنے جاکر پوچھا۔کہ یہ وہ ڈالر ہیں جو وہ مجھے آٹھ ہزار ڈالر وں کے بدلے میں دے رہا تھا؟ اس کے چہرے پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔پورے اعتماد سے قسم کھا کر کہنے لگا کہ اسے نہیں معلوم اس میں کیا ہے۔ دوسرے شخص نے اسے بھی دھوکہ دیا ہے۔ کس نے کس کو دھوکہ دیا؟ اس کا اندازہ قارئین اچھی طرح لگا سکتے ہیں۔ویسے راز کی بات  چائک کو معلوم نہ ہو تو بتاتا ہوں۔میرے بریف کیس میں بھی اخبار بھرے ہوئے تھے۔

              دوسرے دن میں جب کراچی جانے کے لئے اسلا م آباد کے لاونج میں بیٹھا تھا کہ میرے موبائل کی گھنٹی بجی  نمبر 00628567923749 تھا اور مخاطب  مسٹر ٹو ٹو۔ڈیوب تھے جو پوچھ رہے تھے کہ کیا  لاٹری میں نکلنے والے دس ہزار ڈالر لینے میں دلچسپی رکھتے ہی یا نہیں؟ 
          قارئین آپ ہی بتایئے کہ ہم دلچسپی ظاہر کریں یا نہیں؟ آپ کی ای میل کا انتظار ہے۔  

 ٭٭٭٭  ٭فراڈیوں کی خلاف مہاجر زادہ کا جہاد ۔ ٭٭٭٭٭

یہ بھی پڑھئیے 
٭-موبائل پر فراڈ

٭ –  انٹرنیٹ فراڈ   –

 ٭- ھیکرز – 

 
1 تبصرہ

Posted by پر 4 اگست, 2013 in Uncategorized

 

ٹیگز: , ,

ارب پتی بیوہ کو مدد چاہیئے

  

    دنیائے انسانی ترقی کی منازل پھلانگتے مستقبل  کی طرف رواں دواں ہے۔ ایک طرف انسان دوسرے انسان کو ہرقسم کی سہولیات بہم پہنچانے کے لئے نت نئی ایجادات کر رہا ہے تو دوسری طرف ایک دوسرا انسان اپنے ہی جیسے انسان کی زندگی جہنم بنانے پر تلا ہوا ہے۔ کہیں وہ دھونس  اور دہشت استعمال کر رہا ہے اور کہیں وہ محبت اور مسیحائی کی آڑ میں دامِ ہم رنگ زمیں بچھا رہا ہے اور انسان کی قابلِ نفرت اور ننگ انسانیت کردار کی سب سے قبیح مثال  بلا شبہ اسے کہا جا سکتا ہے جہاں وہ مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر دھوکے اور چالبازی کے ایسے ایسے کرتب دکھاتا ہے جہاں سے گزرنے کے بعد انسان کا انسان سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ اور وہ  مظلومیت میں پسے ہوئے اصلی حقداروں کو بھی مکر اور فراڈ کے کرداروں میں شامل کر لیتا ہے۔

    پچھلے سال جون میں میرے ایک دوست کے پاس ایک عجیب و غریب ای میل آئی، اس نے سرسری ذکر کیا اور مجھے اس ای میل کی ایک کاپی دی۔ وہ ای میل کچھ اس طرح تھی
   
 ”مسلمان بہن کے لئے مدد:   میرا نام”ڈاکٹر مسزمریم اباچہ“ ہے اور  میرے شوہر سانی اباچہ کی وفات 8 جون 1998کو ہوئی۔ مخالفت کی وجہ سے مجھے ملک چھوڑنا پڑا۔ میرے مرحوم شوہر نے چار کروڑ  پچاس لاکھ  امریکن ڈالر  رقم میرے نام چھوڑی ہے جو  میں نے وقت کی نزاکت اور حالات کو سمجھتے ہوئے ایک ہمسایہ  افریقی ملک میں تین مختلف ناموں سے، ایک سیکیورٹی کمپنی کے سیف میں رکھ دی ہے۔ جو ایک بنک کے ذریعے معاملات طے کرتی ہے۔ حالات کی گرد بیٹھنے کے لئے میں نے ایک طویل اور تکلیف دہ انتظار کیا میرے دو بیٹے ایک بیٹی ہے۔ میرا ایک بیٹاجو ڈاکٹر ہے وہ میرے ملک میں جیل میں ہے۔ اس کے چھوٹنے کا امکان بہت کم ہے۔ میرا چھوٹا بیٹاکیونکہ میرے ملک سے باہر ایک یورپ کے ملک میں پڑھ رہا تھا لہذا وہ ظالموں کے ہاتھ نہیں لگا۔ میں اور میری بیٹی لندن میں پناہ گزین ہیں۔ اتنی بڑی رقم کے ہوتے ہوئے ہم، کسمپرسی کے عالم میں گزارہ کر رہے ہیں۔ میرے بیٹے اور بیٹی کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب ادھورا رہ گیا ہے۔ یہاں مختلف لوگوں کے ای میل پروفائل دیکھنے کے بعد ہم نے آپ کا انتخاب کیا، کیونکہ میرے مرحوم شوہر  آپ کے ملک کے لوگوں سے کافی انسیت رکھتے تھےِ اور مجھے امید ہے کہ آپ اس حالات کی ماری ہوئی بہن کی مدد کریں گے۔ آپ کی رضامندی کی ای میل ملتے ہی  میں آپ کو اس رقم کی آپ کے ملک ٹرانسفرکی بابت طریقہ بتاؤں گی۔ آپ یہ بات مدِنظر رکھیں، کہ میں اپنے یتیم بچوں کے مستقبل کے لئے آپ کو جو تکلیف دے رہی ہوں اس کے لئے میں آپ کو اس رقم کا 20فیصدحقیر  حصہ شکریہ کے ساتھ دوں گی۔ آپ کے فوری جواب کانتظار  رہے گا۔امید ہے کہ آپ میری، میرے بچوں اور رقم کی حفاظت  کے لئے محتاط طریقے اختیار کریں گے۔ شکریہ۔ ایک مددگار مسلمان بہن۔“ 

میں یہ کاپی اپنے آفس لے آیا اور میز پر رکھ دی، جو غالباً کاغذات کے انبار میں دب گئی اور میں اسے بھول گیا۔

     اس سال  اپریل کے اوائل میں میری اپنے آفس میں کام کرنے والے  ایک لڑکے (اس کا نام آپ لیاقت سمجھ لیں) سے ایک ہوٹل میں  منعقد تقریب میں جاتے ہوئے ریسیپشن پر ملاقات ہوئی۔جو کئی دوسروں کی طرح بنیادی تربیت لے کر کولمبس کی طرح بہتر دنیا کی تلاش میں کسی اور آفس میں چلا گیا۔ اس سے خیریت پوچھنے کے بعد باقی دوسرے کولمبسوں بارے میں پوچھا۔اس نے سب کے بارے میں چیدہ چیدہ باتیں بتائیں،

پھر اچانک چونک کر بولا، ”سر آپ کو وہ لڑکا یاد ہے جو آپ کے پاس فلاں ریفرنس سے آیا تھا“۔

میں نے ذہن پر زور دیا تو یاد آیا، کہ ایک لڑکا جو بہت محنتی تھا۔اس کانام ہم شعیب فرض کر لیتے ہیں۔ کام کا دھنی اور ماہر تھا اس نے صرف بیس دن میرے آفس کام کیا پھر اچانک غائب ہو گیا۔

”ہاں کیا ہو اسے؟“  میں نے پوچھا۔

”سر اس کو کسی غیر ملکی نے لوٹ لیا اور اس سے دس لاکھ روپے سے زیادہ رقم لے گئے۔اس کے باپ نے اسے بہت مارا وہ گھر سے کراچی بھاگ گیا“۔

مجھے افسوس ہو ا۔ پوچھا،”لیکن غیر ملکی نے اسے کس طرح لوٹا اور وہ کیسے ان کے ہتھے چڑھا“؟۔

”سر  مجھے اس کے چھوٹے بھائی نے بتایا، کہ اسے کسی نے باہر سے لاکھوں روپے کے بزنس کی شراکت کے لئے ای میل بھیجی وہ لالچ میں آگیا، اس نے والد سے کہہ کر اپنی گاؤں کی زمین بکوائی، مگر اس کے ساتھ فراڈ ہو گیا“۔ تقریب کے بعد میں گھر  آگیا ۔

    دوسرے دن میں آفس میں کام کر رہا تھا کہ مجھے شعیب کا خیال آیا۔ میں نے اس کا ایڈریس ڈھونڈنے کے لئے اس کی فائل نکالی۔ شعیب میرے پاس 30 مئی 2002کو بحیثیت ہارڈویر ٹیکنیشن آیا تھا اور 25جون کو بغیر وجہ بتائے چلا گیا۔ فائل میں وجہ والد کی بیماری لکھی تھی۔میں نے  فائل میں درج فون نمبر پر رنگ کیا۔وہاں سے کسی شخص نے اٹھایا میں نے اپنا تعارف کرانے کے بعد، اس سے پوچھا کہ کیا وہ شعیب کو جانتا ہے؟ اس نے بتایا ہاں وہ لوگ اس کے محلے میں رہتے تھے مگر اب چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔کہاں؟۔ اسے معلوم نہیں، لیکن ان بے چاروں کو کسی غیر ملکی نے لوٹ لیا۔

اس نے جو تفصیل بتائی، کہ کوئی باہر کی افریقی کمپنی تھی ان کے دو آدمی، شعیب کے گھر بھی آئے تھے اور اس کے والد سے بھی ملاقات کی تھی۔ان میں سے ایک آدمی کوئی بہت بڑا افسر لگتا تھا، وہ ایک بہترین کار میں آئے تھے۔کمپنی کی مالکہ کوئی خاتون تھیں۔ اس سے یہ سنتے ہی میرے ذہن میں ایک جھماکہ ہوا۔ میں نے جلدی اس کا شکریہ ادا کر کے، اپنے آفس میں   2002ء کی فائل ڈھونڈی، میری برسوں کی عادت ہے کہ میں تمام ضروری کاغذات مناسب فائلوں میں لگانے کے بعد تمام ایسے کاغذجو کسی فائل کے مضمون سے مطابقت نہ رکھتے ہوں انہیں، ایک فائل میں لگا دیتا ہوں، جن میں وہ کاغذات بھی شامل ہوتے ہیں جن پر کوئی نوٹِ، ٹیلیفون نمبر  یا ہدایات ہوں۔ یہی ہدایت میر ے ساتھ تمام کام کرنے والوں کو ہوتی ہے۔ کہ میری میز پر پڑے تمام کاغذ پھاڑے نہیں جائیں گے بلکہ فائل کئے جائیں گے۔ فائل  ملتے ہی اس کو میں نے بے تابی سے دیکھنا شروع کیا۔ آخر کار ایک فوٹو سٹیٹ کی صورت میں ایک خط میرا منہ چڑا رہا تھا، فوٹو سٹیٹ مدہم تھی مگر پڑھی جا رہی تھی۔ اس خط کی فوٹو کاپی کس نے یہاں لگائی اور اصلی خط کہاں ہے؟ یہ سوال میرے ذہن میں پیدا ہوا۔

    یہ خط وہی ای میل تھا،جس پر اتوار 23جون 2002 ، وقت۔رات  گیارہ بج کر  ترتالیس منٹ اور سات سیکنڈ لکھا ہوا تھا۔ ای میل کا  یہ پرنٹ،مجھے سوموار 24جون  2002، دوپہر ایک بج کر تیس منٹ پر مجھے میرے دوست نے دیا کیونکہ اس کے آفس میں،میں لنچ کرنے گیاتھا۔ غالباً ڈھائی بجے میں اپنے آفس میں آیا۔ شام پانچ بجے آفس سے سب سٹاف جانے کے بعد اپنی میز پرپڑے ہوئے کاغذات، اپنی ٹیلیفون کم کلرک آپریٹر شہلا،کی ٹرے میں ڈالے۔اس نے یقینا انہیں فائل کر دیا ہو گا۔ مگر یہ فوٹو سٹیٹ کیوں ہے، اصلی خط کہاں؟ 

میں نے  لیاقت کو اس کے گذشتہ رات دیئے ہوئے کارڈ پر لکھے ہوئے موبائل نمبر پر کال کیا،

”لیاقت ایک بات بتاؤ؟ شعیب اورشہلاکا آپس میں کیا تعلق تھا“؟۔

”سر ان دونوں نے ایک ادارے میں بحیثیت کمپوٹر ڈاٹا ریکارڈ ایک سال کام کیا تھا“۔

میری لمبی ہوں پر اس نے پوچھا۔ ”سر خیریت ہے؟“۔

” لیاقت ہر آدمی کی ترقی میں عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ویسے شہلاآج کل کہاں ہے؟“۔

”سر اس کی شادی اس کے کزن سے ہو گئی ہے اور وہ آج کل ایبٹ آباد ہے۔اس کا موبائل نمبر دوں، وہ ایک سکول میں پڑھا رہی ہے۔ لیکن اس کا شعیب کی ترقی سے کیا تعلق، وہ تو جب سے کراچی گیا ہے اس کاشہلا سے کوئی رابطہ نہیں ہو ا“۔

لیاقت نے ایک سانس میں مجھے معلومات بھی پہنچائی اور سوال بھی پوچھ لیا۔

”اچھے جا رہے ہو۔لیاقت،جس طرح ہر آدمی کی ترقی میں عورت کا ہاتھ ہوتا ہے  اسی طرح اس کی تباہی میں بھی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اور شعیب کی تباہی میں تو دو عورتوں کو ہاتھ ہے ایک شہلا اور دوسری مریم، مریم اباچہ“ ! میں نے تلخ لہجے میں کہا اور موبائل بند کر دیا۔

اس فوٹو سٹیٹ کو گھورنے لگا جس کا ایک ایک لفظ میری آنکھوں کے سامنے ڈالروں کے بلبلوں میں تبدیل ہوتا۔لفظوں کے یہ بلبلے شہلا پکڑنے کی کوشش کرتی۔بلبلے اس کوشش میں پھٹ جاتے اور  ہر بلبلے سے شعیب کا چہرہ نکلتا اور فضامیں تحلیل ہو جاتا۔مجھے اس ٹرانس کی کیفیت سے اندازاً  دس،پندرہ  منٹ بعد یک لخت ٹیلیفون کی بجنے والی گھنٹی نے نکالا۔ وہ فوٹو سٹیٹ میں نے فائل سے نکالی اور بریف کیس میں ڈال لی۔اسی رات میں نے ایک ای میل بھجوائی:
 ”سوموار  مورخہ:۔19اپریل  2004،،رات 11:23:، shekhuzai@hotmail.comکی طرف سے  mariam_abacha2002@hotmail.com کے لئے، مضمون: آپ کے مرحوم شوہر کے رقوم سے متعلق۔ ڈیر سسٹر، السلام و علیکم، مجھے افسوس سے یہ بتانا پڑ رہا ہے۔ کہ آپ کی ای میل کا میں نے جواب دیا تھا۔مگر آپ کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ کیا میں سمجھوں کہ آپ نے اپنا ارادہ بدل دیا ہے۔اللہ آپ اور آپ کے یتیم بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھے آمین۔ شیخوزئی،

گو کہ مجھے توقع نہیں تھی لیکن دوسری رات میں ایک خوشخبری دینے والی ای میل پڑھ رہا تھا۔

”منگل   مورخہ:۔20اپریل  2004،، مضمون:مجھے افسوس ہے۔ ڈیر برادر شیخوزئی، مجھے افسوس ہے کہ مجھے آپ کی ای میل کا جواب دینے میں دیر ہوئی، کیونکہ میں ہسپتال میں تھی اب میں اللہ کے شکر سے بہتر ہوں۔ میرے پیارے مسلمان بھائی، میں آپ کو یہ بتانے میں خوشی محسوس کرتی ہوں کہ مطلوبہ فنڈ ابھی تک ویسے ہی آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ کہ آپ آئیں اور ان شرائط پر جو میں نے آپ کو لکھی ہیں، جس پر راضی ہونے کے بعد آپ سے رابطہ ممکن ہوا، یہ فنڈ وصول کر لیں۔میں کیوں آپ پر اعتماد کر رہی ہوں؟ وہ اس لئے کہ آپ ایک مسلمان بھائی ہیں۔مجھے اور میری فیملی کو امید ہے کہ یہ آپ کی حفاظت میں محفوظ ہوں گے۔میں اپنے وکیل جناب بیرسٹر مارک جانسن  کو ہدایت کروں گی کہ وہ آپ جیسے مخلص شخص سے رابطہ کرے۔شکریہ۔ مریم اباچہ“۔
میں نے فوراً جواب دیا- 

”بدھ  مورخہ:۔21اپریل  2004،،۔  مضمون: آپ کے مرحوم شوہر کے رقوم سے متعلق۔ ڈیر سسٹر، السلام و علیکم، آپ کی بات بالکل سحیح ہے میرے پاس  کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ میں پلک جھپکتے آپ کے پاس پہنچ جاؤں۔ اگر میں یہاں سے آپ کے ملک آنے کے لئے ویزہ کے لئے درخواست دیتا ہوں تو کافی دن لگ جائیں گے۔آپ اپنے وکیل کو کہیں کہ وہ اپنے ملک کے سفارت خانے سے میرے ملک میں آپ کے سفارت خانے ایک لیٹر بھجوا دیں تاکہ مجھے ویزا جلدی مل جائے۔ اور میں آپ کی مدد کر سکوں۔ شکریہ، شیخوزئی“،

دوسرے دن میل بکس میں ایک دوسری ای میل  موجود تھی۔

”جمعرات۔ مورخہ:22اپریل  2004۔
markjhonsontd@yahoo.co.uk کی طرف سیمضمون: بسلسلہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ:میرا نام بیرسٹر مارک جانسن ہے مجھے میری کلائینٹ مسز مریم اباچہ نے آپ سے ان کے فیملی فنڈ مبلغ 45ملین  امریکن ڈالر کی بابت رابطہ کرنے کے لئے کہا ہے۔ اس نے مجھے یقین دلایا ہے کہ آپ ان کے فنڈ کے جائز اور صحیح رکھوالے ثابت ہوں گے۔ اس مفاہمت کے بعد میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ مجھے اپنے بین الاقوامی پاسپورٹ کے پہلے دو صفحے اور ڈرائیونگ لائیسنس  کی فوٹو کاپی، مکمل نام، ایڈریس (پوسٹ بکس نہیں) بھجوا دیں تاکہ، میں آپ کے نام ایک تو فنڈ کے کلیم میں آسانی پیدا کرنے کے لئے نیا ڈیپازٹ سرٹیفکیٹ آپ کے نام بنا دوں، دوسرے آپ کو ویزہ میں آسانی پیدا کرنے کے لئے آپ کو سفارت خانہ کے ذریعے ایک دعوت نامہ بھجواؤں۔ امید ہے کہ آپ ان چیزوں کے مہیا کرنے میں جلدی کریں گے کیوں کہ مادام برے حالات میں اپنے دن گزار رہی ہیں۔ آپ جیسے مخلص انسان سے ملنے کے بعد ایک واضح امید کی کرن ان کی زندگی میں آئی ہے۔ وہ مجھے آپ کے بارے میں بتاتے ہوئے بہت جذباتی ہو رہی تھیں انہیں پوری امید ہے کہ اب ان کی فیملی آپ کے ملک میں باعزت زندگی گذارے گی اور ان کے دونوں بچے آپ کے ملک کے بہترین سکولوں میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔کیا آپ فنڈ ملنے کے فوراًبعد ان کے لئے  اپنے شہر میں چھ بیڈ روم پر مشتمل  وسیع لان اور فلی فرنشڈ گھر کا بندوبست کر سکتے ہیں۔  اور وہ  فنڈ ملنے کے بعد اپنے جیل میں بند بیٹے کی رہائی کے لئے بین الاقوامی کوشش کریں گی۔ کیا آپ کی والدہ زندہ ہیں؟ آپ ان سے حالات کی ستائی ہوئی عورت کے جذبات معلوم کر سکتے ہیں۔ ہاں فنڈ آپ کے نام ٹرانسفر کروانے کے لئے معمولی رقم خرچ آئے گی۔ جس میں سیکیورٹی کمپنی کی فیس بھی شامل ہو گی۔ میں اپنی فیس فنڈ ملنے کے بعد مادام سے لے لوں گا۔ ہاں اگر آپ اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہیں تو کوئی بات نہیں، مجھے خوشی ہوگی کہ آپ اپنی مدد کرنے والوں کو خوش رکھتے ہیں میں، کل لندن جارہا ہوں، اتوار کو واپس آؤں گا۔ یہ خرچہ آپ کے 20فیصد حصے میں شامل نہیں اس کے لئے 10فیصد مادام نے الگ رکھا ہے آپ جو رقم خرچ کریں گے وہ آپ کو پہلی قسط میں وصول ہو جائے گی۔ ہاں 17,500امریکن ڈالر کی رقم آپ ویسٹرن یونین بنک کی معرفت مادام کو بھجوائیں گے۔اس بارے میں وہ آپ کو معلومات دے دیں گی۔آپ فوراً بتایئے کہ کیا آپ یہ رقم بھجوا رہے ہیں۔ آپ کے پر شکوہ مستقبل کا دعا گو۔مارک“
    اگر میں غلطی پر نہیں تو 45 ملین ڈالر کا 20فیصد، نوے لاکھ ڈالر بنتا ہے اور پاکستانی روپے میں؟ ہیں یہ کیا کیلکولیٹر نے حاصل جواب کی جگہ Eلکھ دیا؟ کیا یہ رقم کیلکولیٹر بھی نہیں گن سکتا؟  کمپوٹر پر حساب کیا۔ اُف میرے اللہ،باون کروڑ کی چوتھائی تو کیا  یہ تو باون کروڑ سے زیادہ چھپر پھٹنے پر چھن چھن کر کے گریں گے۔ رقم 54کروڑ بنتی تھی اور  17,500امریکن ڈالر،  اس  رقم کا صرف 2فیصد بنتا ہے۔کوئی بات نہیں بھجوادیں گے۔

”جمعہ۔ مورخہ:23اپریل  2004۔مضمون: بسلسلہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ:ڈیر بیرسٹر مارک جانسن، تفصیلات بتانے کا بہت  بہت شکریہ۔میں آپ سے متفق ہوں، میں رقم اور باقی ڈاکومنٹ بھجوادوں گا۔امید ہے کہ آپ تمام کاروائی جلد از جلد کر لیں گے۔ ۔ شکریہ، شیخوزئی۔“

دوسرے دن جو ای میل آئی،

”ہفتہ۔ مورخہ:24اپریل  2004۔مضمون: آپ اچھے مسلمان بھائی ہیں: ڈیر برادر شیخوزئی، مجھے بیرسٹر مارک جانسن سے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ ہم سے مخلص ہیں۔ اور آپ وہ تمام اخراجات برداشت کر سکتے ہیں جو فنڈ کے قانونی آپ کے نا م ٹرانسفر کرنے اٹھیں گے یہ نہایت ضروری ہے۔آپ رقم فوراً آج بھجوا دیں تاکہ سوموار کو بیرسٹر مارک کے لندن سے آنے پر ٹرانسفرسرٹیفکیٹ بنوایا جاسکے۔ہاں آپ یہ رقم  ویسٹرن یونین بنک کی معرفت، میرے ذاتی ڈرائیور، چڈی نوانکوو جس کا مکمل ایڈریس میں نے لکھاہے، کو بھجوانا۔رقم بھجواتے ہی  مجھے بذریعہ ای میل اطلاع دینا۔ آپ ایک مسلمان بھائی ہیں۔مجھے اور میری فیملی کو امید ہے کہ یہ آپ اپنے وعدے کے مطابق ہماری مدد کریں گے اور جو رق ہم آپ کو اس ڈیل میں بھجوائیں گے وہ آپ اپنا  20فیصد حصہ نکال کر ہمیں دیں گے۔ہمیں آپ سے ایمانداری کی توقع ہے۔شکریہ۔ مریم اباچہ“۔

”سوموار:26اپریل  2004۔ مضمون: میں پریشان ہوں:ڈیر برادر شیخوزئی، مجھے آپ کی رقم ابھی تک نہیں ملی، سکیورٹی کمپنی والوں کو ہم نے آپ کا بائیوڈیٹا دے دیا تھا وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر درخواست دینے کے 48گھنٹوں کے اند ر ٹرانسفر سرٹیفکیٹ نہیں بنوایا گیا تو وہ ہماری درخواست کو کینسل کر دیں گے۔ اور پھر پورے عمل میں مہینہ لگ جائے گا۔ ڈیر برادر، ہماری تمام امیدیں آپ سے وابستہ ہیں۔آپ ہماری حالت پر رحم کرتے ہوئے فوراً رقم بھجوائیں۔شکریہ۔ مریم اباچہ“

”منگل:27 اپریل  2004۔  مضمون: دوبارہ ۔ میں پریشان ہوں:ڈیر برادر شیخوزئی، مجھے آپ کی رقم ابھی تک نہیں ملی، سکیورٹی کمپنی والوں کو ہم نے آپ کا بائیوڈیٹا دے دیا تھا وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر درخواست دینے کے 48گھنٹوں کے اند ر ٹرانسفر سرٹیفکیٹ نہیں بنوایا گیا تو وہ ہماری درخواست کو کینسل کر دیں گے۔ اور پھر پورے عمل میں مہینہ لگ جائے گا۔ ڈیر برادر، ہماری تمام امیدیں آپ سے وابستہ ہیں۔آپ ہماری حالت پر رحم کرتے ہوئے فوراً رقم بھجوائیں۔شکریہ۔ مریم اباچہ“
”بدھ:28اپریل 2004۔ مضمون: میں شرمندہ ہوں:  ڈیر سسٹر، السلام و علیکم۔ مجھے افسوس ہے کہ میں رقم کا انتظام اپنی انتہائی کوشش کے باوجود نہیں کر سکا، ڈالروں میں یہ  45 ملین ڈالر کے مقابلے میں حقیر رقم ہے۔ لیکن پاکستانی روپوں میں یہ تقریباً ایک ملین روپے بنتی۔ جس کا فورا ًانتظام کرنا بہت مشکل ہے ۔ مجھے کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ جس سے میں آپ کی مدد کر سکوں۔ شکریہ، شیخوزئی“۔

  ”جمعرات:29اپریل 2004،مضمون: بسلسلہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ:مسٹر شیخوزئی، مجھے یہ جان کر نہایت افسوس ہو ہے کہ آپ نے وعدے کے مطابق مادام کو رقم نہیں بھجوائی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس ساری ڈیل کو ختم کر دیں۔ آپ رقم بھجوانے کا کوئی طریقہ نکالیں۔ میرے پاس ایک تجویز ہے کہ آپ 7,500امریکن ڈالر، بھجوا دیں، کیونکہ اس رقم میں میں بھی حصہ دار ہوں،  لہذا میں، 10,000امریکن ڈالر ادا کر دوں گا۔امید ہے کہ آپ کے اور میرے درمیان اس ڈیل کے بارے میں مادام کو معلوم نہ ہو۔ورنہ وہ خفا ہوں گی ان کا مجھ پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ وہ میری بہترین کلائینٹ ہیں۔میں ان کو کھونا نہیں چاہتا امید ہے کہ آپ میری پیشہ ورانہ مجبوری سمجھتے ہوئے،  7,500امریکن ڈالر،  مجھے بھجوا دیں گے۔ میرا مکمل ایڈریس یہ ہے۔شکریہ ۔بیرسٹر مارک جانسن“

”جمعہ:30اپریل 2004۔مضمون: دوبارہ۔بسلسلہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ:”ڈیر بیرسٹر مارک جانسن،میں آپ کا بہت شکرگزار ہوں۔ کہ آپ نے اس مشکل کا حل مجھے بتایا۔ میں  اب کوشش کر سکوں گا۔ شکریہ، شیخوزئی،“

”سوموار:3مئی 2004،، مضمون: ڈیل کینسل ہو سکتی ہے:مسٹر شیخوزئی، مجھے آپ کی رقم وصول نہیں ہوئی اور نہ ہی آپ نے مجھے کوئی ای میل بھیجی ہے۔کیا آپ ڈیل کینسل کرنا چاہتے ہیں۔آپ فوراً جواب دیں۔ آپ نے مجھے بہت مشکل میں ڈال دیا ہے۔شکریہ ۔بیرسٹر مارک جانسن“

”بدھ:5مئی 2004۔’مضمون: ایک قابل بیرسٹر سے مدد:’ڈیر بیرسٹر مارک جانسن،مجھے سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں میں، نہایت شرمندگی سے آپ کو اطلاع دے رہا ہوں کہ، میں جس ادارے میں کام کرتا ہوں وہاں مجھے اندازاً ڈالروں میں 200ڈالر ماہانہ ملتے ہیں،  7,500امریکن ڈالر، پاکستانی روپوں میں یہ تقریباً 4,50,000روپے بنتے ہیں جو میری  37مہینوں کی تنخواہ بنتی ہے۔ گو کہ میری پوری کوشش ہے کہ میں مادام کی مدد کروں۔ مگر میں قاصر ہوں۔ آپ ایک قابل بیرسٹر ہیں اور اس ڈیل میں میرے حصہ دار بھی ہیں کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ یہ ساری رقم خود ادا کر دیں۔ جونہی مادام کی رقم میرے پاس آئے گی۔ میں اپنے حصے سے نہ صرف  17,500امریکن ڈالر،  آپ کو ادا کروں گا بلکہ میں اپنے لئے 15فیصد رکھ کر باقی آپ کو دے دوں گا۔ میرے خیال میں یہ آپ کے لئے ایک بہترین ڈیل ہو گی آپ صرف 17,500امریکن ڈالر،  کی معمولی رقم انویسٹ کر کے  2.25ملین ڈالر کے حق دار بن جائیں گے۔ امید ہے کہ آپ اس پر غور کریں گے۔میں آپ کا بہت شکرگزار ہوں۔مادام کو میرا سلام کہنا۔ شکریہ ۔شیخوزئی“

یہ ای میل بھیج کر میرا سینہ خوشی سے پھول گیا، مجھے جو خوشی ہو رہی تھی آپ اس کا تصّور بھی نہیں کر سکتے۔ کیا آپ کسی کو 2.25ملین ڈالر، جی ڈالر ، کمیشن دے سکتے ہیں؟

”سوموار:10مئی 2004،مضمون: بسلسلہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ: مسٹر شیخوزئی، مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔ میں آپ کی جگہ ہوتا تو اتنا ہی پریشان ہوتا۔سکیورٹی کمپنی میں میرا ایک دوست ہے اُس سے میں نے مدد کی درخواست کی ہے اس نے مجھے ایک اور حل بتایا ہے۔ وہ یہ کہ سکیورٹی کمپنی ڈپلومیٹک چینل کے ذریعے آپ کو بکس میں بھجوا سکتی ہے۔  میں آپ کو درخواست فارم بھجوا رہا ہوں وہ آپ بھر کر سیکیورٹی کمپنی کوفیکس کر دیں۔مادام نے آپ کو جس طرح بتا یاتھا۔ رقم تین بکسوں میں ہے جن میں دو بڑے اور ایک چھوٹاہے۔اخراجات کو کم سے کم  کرنے اور بعد کے بڑے پروجیکٹ کے لئے رقم ہاتھ میں آنے کو مدِنظر رکھتے ہوئے مادام نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم تین بکسوں میں سے ایک بکس کو ٹرانسفر کروانے کی کاروائی کریں گے اس بکس میں ایک ملین ڈالر ہیں۔مسٹر سانی اباچہ نے بکس کو جمع کرواتے وقت سکیورٹی کے پیش نظر اپنا نام”الحاجی حسن احمد“ لکھوایا تھا۔چنانچہ اس سرٹیفکیٹ کے مطابق آپ خود کو الحاجی حسن احمد کا وارث بتائیں گے۔ بہرحال آپ مطلوبہ تفصیلات جو اس ای میل کے ساتھ منسلک خط میں ہیں۔فوراً فیکس کر دیں۔ باقی میں سنبھال لوں گا۔شکریہ ۔بیرسٹر مارک جانسن“

”جمعرات:13مئی 2004۔مضمون:میں اب پر سکون ہوں:  ڈیر بیرسٹر مارک جانسن،۔میں نے تمام تفاصیل بھجوا دی ہیں۔میں آپ کی اس مددکا بہت شکرگزار ہوں۔میرے ذہن سے بوجھ ہٹ گیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم مادام اور اس کے بچوں کی مل جل کر مدد کر سکیں گے۔مادام کو میرا سلام کہنا۔ شکریہ ۔شیخوزئی،

ہفتہ:16مئی 2004،،مضمون:وراثت کی منظوری:: بطرف: aubinfos@yahoo.co.ukمسٹر شیخوزئی،  مجھے آپ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ آپ کی درخواستِ وراست ببابت الحاجی حسن احمد(مرحوم) منظور کر لی گئی ہے۔ جو اس ای میل کے ساتھ منسلک ہے۔شکریہ۔ڈیوڈ کنگ۔ مینیجر افریقن یونین بنک“

سوموار:17مئی 2004،،مضمون: بسلسلہ شپمنٹ:: مسٹر شیخوزئی،  میں آپ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ کہ سکیورٹی کمپنی والوں نے آپ کی مجبوری  کے پیش نظر اپنی پالیسی میں تبدیلی کر دی ہے۔ان کے پاس جو تین بکس تھے ان میں سے ایک، بنک کے کہنے پر اب آپ کے نام کر دیا گیا ہے۔اس کا سرٹیفکیٹ ساتھ منسلک ہے۔ جونہی تمام شپمنٹ کاغذات  تیار ہو جاتے ہیں۔سکیورٹی کمپنی ڈپلومیٹک چینل کے ذریعہ آپ کو یہ بکس بھجوا دے گی۔ میں آپ کو اطلا ع دوں گا۔ ہوسکتا ہے کہ شاید مجھے آنا پڑے۔امید ہے کہ وہاں میری رہائش کا اچھا انتظام ہو گا۔یہ بتایئے کہ کہ کیا وہاں انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے ہوٹل موجود ہیں َ،۔شکریہ ۔بیرسٹر مارک جانسن“

بدھ:19مئی 2004۔”مضمون:  ڈیر بیرسٹر مارک جانسن،۔اوہ میں آپ کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں یہ میری خوش نصیبی ہو گی کہ آپ جیسا قابل اور معاملہ فہم بیرسٹر ِ ان معاملات کو نمٹانے یہاں آئے۔ اسلام آبادمیں انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے کئی ہوٹل موجود ہیں وہ آن لائن بکنگ کرتے ہیں۔آپ ہوٹل میں آنے کے بعد مجھے فون کیجئے، میں آپ سے ملنے آجاؤں گا۔ شکریہ ۔شیخوزئی،


جمعرات:20مئی 2004،، مضمون: بسلسلہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ:مسٹر شیخوزئی، میں آپ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ کہ سکیورٹی کمپنی والوں نے ڈپلومیٹک چینل کے ذریعہ سامان بھجو دیا ہے یہ  امید ہے کہ سوموار تک آپ کو مل جائے گا۔ سیکورٹی کمپنی کا کوئی نمائیندہ آپ سے ملاقات کرے گا۔ وہ آپ کی شناخت کے بعد آپ کے حوالے سامان کرے گا۔ کیونکہ تمام وے بل اور ڈلیوری سرٹیفکیٹ آپ کے نام ہیں۔ احتیاط نہایت ضروری ہے۔ ہاں سکیورٹی کمپنی والوں کو 1850امریکن ڈالر بطور، ڈیپازٹ بکس فیس،  پوسٹل و ٹرانسپورٹیشن چارجز دینے ہوں گے امید ہے کہ اب آپ کو کوئی پریشانی نہیں اٹھا نی پڑے گی۔شکریہ۔بیرسٹر مارک جانسن“

بدھ:21مئی 2004۔”مضمون:  ڈیر بیرسٹر مارک جانسن،۔میں آپ کا بہت شکرگزار ہوں۔ ہاں آپ نے اپنے آنے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ شکریہ ۔شیخوزئی“۔

اتوار:23مئی 2004۔”کو میرے موبائل کی گھنٹی بجی ۔ لوکل نمبر تھا۔ میں نے فون اٹھایا تو ایک نامانوس سے سنائی دی جو انگریزی (انگلش نہیں)میں پوچھ رہی تھی۔

”کیا آپ مسٹرشاکوزی ہیں؟“۔

”جی ہاں آپ کون ہیں“؟ میں نے پوچھا۔

”میرا نام احمد سانی اباچہ ہے۔ میری والدہ کے وکیل نے آپ کو کچھ سامان بھجوایا ہے۔ کیا وہ آپ کو مل گیا ہے؟“۔

میں تھوڑا سا حیرت زدہ ہوا۔ ”نہیں ابھی نہیں ملا۔ لیکن تم یہاں کیسے؟  یہ میرے لئے سرپرائز ہے؟“

"میں گذشتہ رات یہاں آیا ہوں مسٹر مارک جانسن نہیں آ سکے تو انہوں نے مجھے بھیج دیا ہے۔ ہم کیسے مل سکتے ہیں؟“۔

”کل 3 بجے،میرے آفس آجاؤ۔وہاں ملاقات کریں گے“ میں ے جواب دیا۔

دوسرے دن تین بجے ایک افریقی میرے آفس میں داخل ہو ا۔ احمد اباچہ کے نام سے اپنا تعارف کرایا۔ جو باتیں اس سے معلوم ہوئیں وہ وہی تھیں جو اوپر لکھی ہوئی ہیں۔ اس نے بتایا کہ اس کا قونصلر مجھ سے مل کر تسلی کرنا چاہتا ہے۔ بہر حال اس نے مجھے یقین دلایا کہ، اس کے مطابق میں ایک شریف آدمی ہوں اور وہ مجھے اپنے والد کی طرح سمجھتا ہے۔میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کا پاسپورٹ قونصلر کے پاس ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کا پاسپورٹ گم جائے۔ اس کے پاس جو شناختی کاغذات تھے وہ اس نے ہوٹل میں رکھے ہیں۔ چائے پینے کے بعد وہ اس یقین دھانی کے بعد چلا گیا ، کہ میں اسے یا اس کی والدہ کو بحیثیت کوئی دھوکہ نہیں دوں گا وہ لوگ پہلے ہی بہت پریشان ہیں ۔

جمعہ:28مئی 2004۔  کو اسسٹنٹ قونصلر مسٹر حمزہ  جو،  اباچہ فیملی کا خفیہ دوست تھا۔سے میری ملاقات  اسلام آباد  جی ٹین،کے ایک دو سٹار ہوٹل میں ہوئی۔ جہاں  قونصلر نے مجھ سے تمام تفصیلات  دریافت کیں رقم کا انویسٹمنٹ پلان پوچھا، میں نے ان کی توقعات کے مطابق تما م تفصیلات بمع جزئیات بتائیں۔ میٹنگ برخواست ہوئی، مسٹر حمزہ۔ ہوٹل سے واپسی ٹیکسی میں گئے۔

سوموار:31 مئی 2004۔  کو  بارہ بجے،مسٹر بینسن کا فون آیا اس نے اطلاع دی کہ آپ کی کنسائینمنٹ آگئی ہے آفس کا ایڈریس بتائیں۔میں نے آفس کو ایڈریس بتایا۔ احمد اباچہ کو اطلاع دی یوں لگتا تھا کہ وہ کہیں نزدیک ہی تھا فوراً آگیا۔ آتے ہی اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں نے کورئیر کمپنی کے پیسوں کا بندوبست کر لیا ہے۔جس پر میں نے ہاں میں جواب دیا۔ وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گیا۔ ایک بجے کورئیر کمپنی والے آ گئے۔ دو افراد تھے  مسٹر بینسن  اور مسٹر جوزف، جوزف نے کہا کہ میں اس کو رقم دوں تاکہ وہ جاکر سامان لے آئے، میں نے اس سے وے بل اور شپمنٹ ڈاکومنٹ مانگے۔ اس نے بتایا کہ وہ گاڑی میں پڑے ہیں۔ اس نے بینسن کو ڈاکومنٹ لانے کا کہا۔ میں نے دو  عدد ڈسپرین کھائیں تاکہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا خون، ذرا پر سکون ہو جائے۔ کیونکہ ایک ملین  ڈالرکی ڈیل ہونے والی تھی۔

ہاں میں آپ کو ایک بات بتانا بھول گیا۔اتوار کی شام مجھے دو ای میل ملیں، ایک ارب پتی یتیم بچی کی تھی اور دوسری ایک بنک آفیسر کی تھی جس نے بنک کے اکاونٹ  میں ایک گم شدہ اکاونٹ کا سراغ لگایا جس میں ڈیڑ ھ کروڑ ڈالر، پڑے تھے۔ انہوں نے  اسے ٹھکانے لگانے کے لئے میری  مدد مانگی تھی۔ میں نے جوابی ای میل میں ان کی مدد کی حامی بھر لی۔ اب ان کے جواب کے آنے کا نتظار تھا۔ویسے بھی میرا ای میل افریقی یونین بنک کے ان عہدیداروں کے ہاتھ بھی لگ گیا تھا جو، اس قسم کے گم شدہ دفینے، پاکستان کے مختلف لوگوں کو پچھلے تین، چار سال سے بھجوا رہے، ہیں غالباً ملک کی ڈالروں میں خود کفالت کی ایک یہ بھی وجہ ہے۔خیر اپنے بیٹے کو میں بار بار جھانکتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔اسے معلوم تھا کہ ہنگامی حالات میں اس نے کیا کرنا ہے؟ بینسن کاغذات لے کر آیا۔ مجھے دیئے میں نے غور سے پڑھے۔ ایک عدد سٹیل بکس وزن 25 کلو گرام،احمد سانی اباچہ، کے نام ایک افریقی ملک سے پاکستان ترسیل کیا جاتا ہے۔ جس کے چارجز 1850امریکن ڈالر ہیں۔

"یہ کاغذات تو ”احمد“ کے نام ہیں؟ میں نے جوزف سے پوچھا۔

”مجھے نہیں معلوم۔ مجھے دیر ہو رہی ہے۔ میں نے اور کام بھی کرنے ہیں آپ رقم دیں۔“ جوزف نے اکھڑ لہجے میں جواب دیا۔
”سامان کہاں ہے ؟۔ وہ لاؤ اور رقم لے لو‘‘ میں نے حتمی لہجے میں کہا۔

”سامان قونصلیٹ کے لاکر میں ہے۔ آپ رقم دیں گے ہم جا کر سامان ریلیز کرائیں گے پھر آپ کو فون کریں گے آپ سامان لینے آ جانا“۔ جوزف نے بتایا۔

”مسٹر احمد۔ تمام کاغذات آپ کے نام ہیں۔ تو پھر میں پیسے کیوں دوں۔بہتر یہی ہے کہ اب کل یہ سامان لے آئیں اور رقم لے جائیں“۔

مسٹر بینسن  اور مسٹر جوزف  غصے میں اٹھ کر چلے گئے۔ احمد بیٹھا رہا، اس کے چہرے پر پریشانی تھی۔ وہ بڑ بڑا رہا تھا کہ میں تباہ ہوجاؤں گا اس کی فیملی تباہ ہو جائے۔ پلیز سر انہیں بلائیں۔ ورنہ وہ سامان واپس بھجوا دیں گے۔ ہمیں بہت نقصان ہو گا“۔ میں دل ہی دل میں اس کی اداکاری سے محظوظ ہو رہا تھا۔”احمد۔ وہ ایسا نہیں کر سکتے وہ کورئیر کمپنی کے ملازم ہیں۔انہیں کم ازکم دو دن سامان رکھنا چاہیئے۔

"اس بکس میں کیا ہے؟“ میں نے اچانک پوچھا۔

”دو ملین  امریکن ڈالر“احمد نے جواب دیا

”اچھا ایسا کرو تم ہوٹل جا کر ریسٹ کرو۔اب کل بات ہو گی“۔ میں نے احمد کو مشورہ دیا

وہ اٹھ کر چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی میرا پیٹا ارمغان اندر آیا-

”آپ نے انہیں جانے کیوں دیا“ اس نے پوچھا، 


”وہ اس لئے کہ ابھی اتمامِ حجت نہیں ہوا“ میں نے جواب دیا۔ 


اس کے جانے کے بعد مجھے اسسٹنٹ قونصلر مسٹر حمزہ کے موبائل سے کال آئی –
”مسٹر شاکو زی۔ آپ نے وعدے کے خلاف کام کیا ہے۔میں سخت فکر مند ہوں اور پریشان ہوں۔آپ کورئیر کمپنی کو رقم ادا کریں تاکہ وہ آپ کا سامان لاکردیں۔ ورنہ وہ ڈیمرج ڈال دیں گے“۔  
”مسٹر حمزہ مجھے معلوم ہے کہ میں نے کیا وعدہ کیا ہے۔ آپ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ وہ سامان میرا نہیں احمد کا ہے جب تک رقم میرے ہاتھ میں نہیں آتی میں کسی وعدے کا پابند نہیں۔دوسرے میں سامان اپنے آفس میں لینے کے بعدرقم ادا کروں گا“۔ میں نے رسانیت سے جواب دیا۔

”میں کو شش کروں گا کہ کورئیر کمپنی والے کل سامان آپ کے آفس لے آئیں“۔ حمزہ نے کہا اور فون بند کر دیا۔

دوسرے دن صبح  احمد میرے آفس میں آیا۔”مسٹر شاکوزی۔آپ نے رقم تیار کر لی۔ ہم نے کورئیر کمپنی سے بات کر لی ہے  وہ سامان لے آئیں گے۔سامان لیتے ہی آپ ان کو رقم دے دینا میں قونصلیٹ جارہا ہوں“۔

میں نے احمد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے کہا،”مسٹر احمد۔ جب وہ بکس لے کر آئیں گے  تو تمھارا یہاں موجود ہونا ضروری ہے۔ میں ان دونوں کو ساتھ والی آفس میں بٹھاؤں گا۔ہم دونوں اس کو کھولیں گے اور اس میں سے جو ڈالر  نکلیں گے اس میں سے میں مسٹر جوزف  کو ادئیگی کروں گا“۔

احمد سانی اباچہ ایک دم کنفیوژ ہو کر ادھر ادھر دیکھنا شروع ہو گیا۔پانچ منٹ بعد اُس کے موبائل پر فون آیا وہ آفس سے اُٹھ کر باہر سننے گیا اور آج تک نہیں آیا۔ اس کے موبائل پر جب بھی رنگ کیا تو وہ کسی اور افریقی کے پاس ہے جو مجھے، سبق سکھانے کی دھمکی دیتا ہے۔ اس واقعہ کے خاتمے کے بعد مجھے کافی ای میل آئیں۔

سب کی ایک کہانی ہے۔اداکار مختلف ہیں۔ کیا آپ نے Monoplyکھیلی ہے۔جس میں آپ بولٹن مارکیٹ۔میری ویدر ٹاور۔ایمپریس مارکیٹ۔ وغیرہ کا سودا کرتے ہیں۔جس میں آپ کا ساتھی آپ کو کروڑ پتی، بلکہ ارب پتی بناتا رہتا ہے اور آپ لٹا تے رہتے ہیں۔

آہ  ٹہریئے۔ ایک اور ای میل کی بیپ ہوئی ہے۔ یہ مسٹر عزیز عیسیٰ ہیں۔کسی افریقن یو نین بنک کی بل ایکسچینج کمپنی میں غیر ملکی ادئیگیوں کے شعبے میں مینیجر ہیں۔ انہوں نے  اکتوبر 1999میں وفات پانے والے عبدل غفار احمد کا کھوج لگایا ہے۔ وہ مجھے اطلاع دے رہے ہیں کہ10.5ملین امریکن ڈالر، بے یار و مدگار پڑے ہیں جن کا کوئی والی وارث بننے کے لئے تیار نہیں۔ مسٹر عزیز عیسیٰ آپ کو اس خزانے  کے وارث بنانا چاہتے ہیں۔ کیا آپ تیار ہیں؟ مجھے رضامندی کی ای میل بھیجیں، میں آپ کو اس مردِ  درویش کا ای میل ایڈریس مفت بھیجوں گا۔ شکریہ، شیخوزئی۔

نوٹ : میرا یہ مضمون ، روزنامہ جنگ 12 دسمبر 2004 کو سنڈے میگزیم میں شائع ہوا تھا ۔ خالد نعیم الدین 

 

 
5 تبصرے

Posted by پر 3 اگست, 2013 in Uncategorized

 

ٹیگز: , ,