RSS

Tag Archives: کچوکے

وطن عزیز کا سب سے ایماندار ٹبر

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 25 جنوری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز:

واحد سچا انسان

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 23 جنوری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز:

اتحاد میں برکت ہے

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 17 جنوری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز:

بزنس میں بے انتہا برکت

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 15 جنوری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز:

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -6

وجوانو !
یہ یزیدیت کی ایک نہایت گھٹیا مثال ہے ۔
لیکن پترو کیا یہ ممکن ہے کہ محرّم کا مہینہ ہو اوریزیدیت جیت جائے ؟
 سوچو ؟؟؟؟؟؟؟
یہ کہہ کر بوڑھا اُٹھا، گم سُن   نوجوانوں کو اُس کی لاٹھی ، کی پکے فرش پر پڑھنے والی خفیف ضرب  سناٹے میں ، ٹک ، ٹک ،ٹک کر دور معدوم ہوتے سنائی دی لیکن اُن کے دماغ میں ابھرتی ہوئی گونج ، 
محرّم کا مہینہ ہو اوریزیدیت جیت جائے ؟
محرّم کا مہینہ ہو اوریزیدیت جیت جائے ؟
ماحول پر حاوی ہو گئی  !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پارٹ – 5٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭پارٹ -1 
 
تبصرہ کریں

Posted by پر 11 جنوری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز:

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -5

بوڑھا ، گویا ہوا !
 نوجوانو ! کچھ دنوں بعد ، لوہار کے  بیٹے کو ایک اور درخواست ملی ، 
” جنابِ عالی ! میرے پاس اِس شہر میں رہنے کو مکان نہیں  ، بے گھر  ہوں !”تو نوجوانو!
 لوہار کا بیٹا پھر  آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ،اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کو  گھر لازمی ملنا چاھئیے !
چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس  بے گھر نوجوان، کو گھر بنانے کے لئے ، صرف چار کنال کا پلاٹ  دان کر دیا ۔
  پہلی کہانی سنانے والے نوجوان  نے بے ساختہ کہا  ” سراسر جھوٹ ہے ، وہ تو خود کروڑ پتی تھا ۔”
مردِ دانا و بینا  نے ، نوجوان کی طرف دیکھا ، اور دل میں سوچا، 
 اچھل کود کی کمائی کھانے والا ، شراب و شباب پر اُڑانے والا ،  وہ نوجوان کسی کا پتی نہیں بن سکا تو کروڑ پتی کیسے بنتا ؟
چنانچہ اُس نے بجائے اپنی سوچ کا اظہار کرنے ، داستان کو جاری رکھا !
  نوجوانو ، آپ یہ سوچ رہے ہوگے ، کہ درخواست لوہار کے بیٹے کو کی جاتی ، تو لوہار  بیچ میں کیسے آجاتا ؟ ہے نا حیرت کی بات !
شاید آپ کی مائیں آپ کو لے کر بچپن میں علیحدہ ہوگئی ، یا آپ کے دادا نے آپ کی ماؤں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ، اِسی لئے آپ ایک  مشرقی کنبے  کے بارے میں کم جانتے ہو۔
ہمارا مشرقی کنبہ ، جس میں اولاد چاہے دنیا کی نظروں میں کتنی ہی طاقتور یا بااثر کیوں نہ ہوجائے ، اپنے باپ کو ہمیشہ اپنا سر پرست سمجھتی ہے  اور باپ خاندان کا سربراہ رہتا ہے ، جس کی ابرو کے معمولی سے  اشارے پر اولاد اُس محفل سے کھسک جاتی ہے ، جہاں باپ اُن کا موجود ہونا پسند نہ کرے !
وہ ایسے خاندان کا سربراہ نہیں ہوتا ، کہ کینسر سے مرنے والی بیوی کی خواہش پوری نہ کر سکتا ہو اور  اکلوتا بیٹا ، صرف   پیسوں نہیں بلکہ عورتوں کی خاطر،  ماں  کے بستر مرگ کو چھونے بلکہ دفنانے تک نہ آسکتا ہو ۔
  نہ نہ   نوجوانو ! نہ ۔وہ معمولی  لوہار  ، ایک مشرقی قدروں کے ا مین خاندان کا سربراہ تھا ، جس کے بیٹے ملک پر حکمرانی کرنے لگے تھے ، لیکن اپنے  کاروبار اور خاندان  کو وہی چلا رہا تھا ۔اُس کے  دونوں بیٹے ملکہ کے اعلیٰ عہدیدار تھے ، لیکن  اپنے خاندان کا وہی سرپرست تھا ، بیٹے اپنے باپ کی سرپرستی میں بے فکر تھے ۔ اُس کے پوتے پوتیاں ، نواسے نواسیاں ، ہر چیز اُس سے مانگتے ، وہ اُن کے لاڈ اُٹھاتا ۔ بیٹے اُس کے سامنے سر جھکاتے ! مغربی اقدار کے پرستاروں کو یہ بات چبھتی  تھی ، کہ جن مشرقی اقداروں کو اُنہوں نے مغربی اقدار پر قربان کر دیا وہ اُن کے ملک میں کیسے پنپ رہی ہیں ؟
تو نوجوانو! اصل بات یہ ہے ، کہ لوہار نے ملکہ کا تاج   ، ملکہ سے عوام کی قوت سے خرید لیا تھا ، جس کی اُس کے نزدیک  لوہے سے بھی کم قیمت تھی اور وہ اُس نے اپنے پوتوں کو کھیلنے کے لئے دے دیا ۔ 
وہ نوجوان یاد ہے ، نا ؟
 جو درخواستیں اٹھائے پھرتا تھا! اُس نے پہلی بار مُلک   میں نوجوانوں کو گالیوں ، طعنوں ، جھوٹ اور  ناچنے کی تربیت دینا شروع کر دی ۔ تاکہ  مشرقی ملک میں مغربی اقدار  کے  تسلط کو پھیلایا  جائے ۔  جب اُس نے دیکھا کہ اخلاقی قدروں کی کمزور لوگ اُس کے ارد گرد جمع ہو گئے ، تو اُس نے اپنے محسن و مربّی پر  الزام لگا دیا ، کیا ؟
  ” تاج ، لوہار کے بیٹے نے ،    اپنی بیٹی اور داماد کی مدد سے چرایا "
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
   پارٹ – 4٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭  پارٹ – 6
 
تبصرہ کریں

Posted by پر 10 جنوری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز:

تصویر

نئی جرسی اور پرانی جرسی

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 10 جنوری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز:

تصویر

تیس لاکھ 62 ہزار چوزے ہی چوزے

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 10 جنوری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز:

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -4

نوجوانو  !آپ  پڑھے لکھے ہو ، شرارت کے ساتھ بُردباری بھی آپ کے چہروں سے چھلک رہی ہے ،وہ محاورہ تو آپ سنے سنا ہوگا ،
دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوّے انڈے کھائیں !
لوہار کو یہ سب معلوم تھا  ،  اُسے معلوم تھا کہ ملک کی معیشت کو خون پسینہ فراہم کرنے والا، شہد کی مکھی کی طرح  طبقہ ،  ایک کمزور طبقہ ہوتا ہے ، طاقتور طبقہ وہی ہوتا ہے جو کاروباری طبقے اور عوام کے لگائے گئے ٹیکسوں پر موجیں کرتا ہے اور محلات میں رہتا ہے ، اور اپنی شان بڑھانے کے لئے خالص سونے کا تاج   اور جس میں چھین کر جوڑا ہوا ہیرا،     بادشاہ  یا ملکہ ، تخت ، تخت  والا کھیل کھیلتے ہیں ۔جس کی مدد وزیراعظم کرتا ہے  لیکن  تختہ دار پر وزیر اعظم چڑھتا   ، ملکہ اپنا تاج  سجائے بیٹھی رہتی  کیوں کہ وہ ہتھیار بند   محافظوں کے نرغے میں ہوتی ہے ، اُسے کون ہاتھ لگائے ؟  جوان  ملکہ ہو یا بوڑھی  مقدّس کہلاتی ہے ۔
تو نوجوانو !    اُس  مردم گذیدہ  بلکہ شاہان گذیدہ ، حالات کے تھپیڑوں   سے گذرنے والے  لوہار نے ،  حکمرانی تلاطم  کے سنڈاس    سے نکلنے والی باس کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا  اور اپنے  خاندان کو   حکمرانی کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا ۔ 
لیکن کیا یہ ممکن تھا ؟
مگر ایک لوہار نے ممکن بنایا ۔ اُس نے نہ صرف    اپنے بیٹوں کو ملک  کے اعلیٰ عہدوں تک ، عوام کی مدد سے پہنچایا بلکہ اپنے برے وقت کے لئے ملک سے باہر ، ملکہ  کی حواریوں کی طرح  جائدادیں بھجوانا شروع کر دیں  ، جن جائدادوں کے لئے  ملکہ کے حواری تتلیوں کے پروں میں چھپا کر سفید پوڈر  باہر بھیجا کرتے تھے  ، لوہار نے اپنی کمائی ہوئی دولت ، ملکہ کے ہی خدّاموں  کے ذریعے باہر بھجوانا شروع کر دی ۔ 
 پہلی کہانی سنانے والے نوجوان کی آنکھوں میں بے یقینی کے سائے دیکھ کر بوڑھا ، گویا ہوا !
نوجوانو ! شاید اُس وقت  آپ  نیکر پہن کر ماں کی انگلی پکڑ کر سکول جاتے ہو گے، جب  لوہار کے بیٹے کو ایک درخواست ملی ،
  لوہار کا بیٹا آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح 
ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ، اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کے خواب کو شرمندہءِ تعبیر کرنا چاھئیے !
چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس نوجوان کو اُس کے خوابوں کی تعبیر کو پورا کرنے کے لئے ، ایک چار ایکڑ زمین کا ٹکڑا دے دیا ۔
کچھ دنوں بعد ، لوہار کے  بیٹے کو ایک اور درخواست ملی ، 
” جنابِ عالی ! میرے پاس رقم نہیں  کہ میں اپنا خواب شرمندہءِ تعبیر کروں ، لاچار ہوں !”
  لوہار کا بیٹا آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ،اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کے خواب کو شرمندہءِ تعبیر کرنا چاھئیے !
 چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس نوجوان، کو اُس کے خوابوں کی تعبیر کو پورا کرنے کے لئے ، 50 کروڑ  ملکی کرنسی  جس کی مالیت، فرنگی کرنسی میں 23 کروڑ ڈالر بنی تھی ، جو آج ملکی کرنسی میں  2 ارب 80 کروڑ بنتی ہے  ۔  
کتنی  ؟    2 ارب 80 کروڑ
  پہلی کہانی سنانے والے نوجوان  نے بے ساختہ کہا  ” ناممکن  ، یہ سب جھوٹ ہے "
  ٭٭٭٭٭٭
   پارٹ – 3٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭  پارٹ – 5
 
تبصرہ کریں

Posted by پر 9 جنوری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز:

تصویر

ٹینشن نا لیں، وزیراعظم بڑا ھینڈسم ہے

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 9 جنوری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز: