RSS

Tag Archives: یادش بخیر

بچپنا ۔ بچپن کے کھیل مڈ سلائیڈ

آج چم چم کو سکول لے جاتے وقت اُس کے سوال پر ۔
 "آوا” آپ بچپن میں کیسے کھیل کھیلتے تھے ؟ ” یہ وڈیو دکھائی ۔
 ” واٹر سلائیڈ” وہ بولی ” لیکن یہ تو مٹی پر کر رہے ہیں ” 
جب میں نے بتایا کہ ہمارے وقت ، سلائیڈ ہوتی تھی مڈ سلائیڈ ہم بناتے تھے ۔
  تو پوچھا ۔” آپ کی ماما کپڑے گندے کرنے پر نہیں مارتی تھیں؟ "۔
” جب ہم گھر جاتے تو نہ ہم گندے ہوتے اور نہ ہمارے کپڑے ! 
” وہ کیسے ؟ ” اُس نے پوچھا ۔
” وہ اِس طرح کہ اس طرح کے تالاب میں ہم اپنے ملیشیا کپڑے دھوتے اور نہا کر گیلے پہن لیتے وہ سوکھ جاتے تو ہم گھر جاتے تھے۔ "
 ” ھاؤ امیزنگ ” وہ بولی ۔ 
” اینڈ ایڈونچرس ٹو ” میں بولا ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
تبصرہ کریں

Posted by پر 4 فروری, 2019 in Uncategorized

 

ٹیگز:

ناگ پَھنی !

 نوشہرہ میں پڑوسیوں اور ہمارےلان  کے درمیان  کیکٹس  کی باڑ تھی  ۔ پٹو گرم کھیلتے وقت  کرمچ کا بال کیکٹس کے پودوں میں گھس جاتی ، نکالتے وقت کئی بار ننھے ننھے کانٹے ہاتھوں میں چبھ جاتے ، اُس پر آک کے پودے کا دودھ لگا کرنکالتے ۔

فروری یا مارچ میں اُن پر ، اُن پر پھول لگے اور جون میں لال رنگ کا پھل ، امی نے بتایا اِسے ناگ پھنی کہتے ہیں ہم بہت کھاتے تھے ۔
ہم نے بھی سردیوں کے دستانے پہن کر ناگ پھنی توڑی ،کانٹوں   کی کون پرواہ کرتا ہے ،   چھری سے کانٹے ہٹائے ،چقندر کی طرح لال رنگ کا   بہت رسیلا  پھل تھا ۔ 

آج کل بوڑھے کو باغبانی کا شوق  چڑھا ہے ، لہذا ایک ماہ سے  بیجوں سے پودے اُگانے کی کوشش کر رہا ہے ۔  کچن کے کاونٹر پر گملے ، پلاسٹک کے  گلاس   ملک شیک کے خالی کپ کے علاوہ چم چم کے پرانے لنچ بکس بھی   استعمال میں لائے جا رہے ہیں، بلکہ وہ بنیادی چیز ہیں۔ یوں  کاونٹر  چھوٹے چھوٹے پودوں سے ڈھک گیا ہے ۔ 

کیکٹس کی 20 سے زیادہ قسمیں ہیں ۔ 20قسمیں وہ ہیں جو گھر میں لگائی جاتی ہیں ۔

تو آئیں سیکھتے ہیں کہ  بیجوں سے پودے کیسے لگائے جائیں ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

لیکن پہلے پڑھیں : باغبان اور کسان

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 8 اگست, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

تم فوجی ہو ؟ ملک کے لئے مرنا ہو گا!

ایک آرمی آفیسر کی بیوی کا خط ،جو وٹس ایپ کے  مختلف فورمز  میں گردش کر رہا تھا ۔ میں نے پڑھا مجھے افسوس ہوا ۔
پہلے خط  پڑھیں اور پھر ایک پرانے فوجی ، دو فوجی بچوں کے باپ  کی طرف سے اِس  پر رائے :

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
   A write up by an Army officer’s wife,
Saadia Zulfiqar:
“I’m upset, I’m angry!! This is what we risk when our husbands serve in the army. Look at the face of the boy who lost his father today. Look at the faces of the Col’s family. 

Nothing is more precious than the life of your loved ones. This is our life everyday of the week, every week of the year, and every year of our lives. Is the pay a soldier gets worth losing his life. He misses the birth of his children, their first steps, their first words, their birthday parties, their school recitals. the wife alone dealing with scraped knees, broken wrists. The parents waiting for visits , the siblings timing vacations wondering if they will be able to meet him after two years. The ever present threat of the dreaded call and the ring of the door bell in an other wise routine day. This is the reality for us army families. 
This hyperbole of “khalai Makhlooq” is all BS. And coming from people who have nothing at stake here in this country burns me up. Every one who has lost a loved one in the line of duty in these years is asking this question from these politicians; that our brother, husband, father, son has done his duty by paying the ultimate price……. what have you done?????”

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جب میرا بیٹا ، فوج کے لئے سلیکٹ ہوا تو پاکستان ملٹری اکیڈمی  جانے سے پہلے میں نے اُس کے ماں سے پوچھا ،
” بیٹے کو جانے دو گی یا روک لو گی ۔ کیوں کہ فوجیوں کی مائیں اور بہنیں نہیں ہوتیں ۔ تم خنجر چلے کسی  یہ ۔ ۔ ۔ ۔  ! کی مثال ہو ایسا نہ ہو کہ ساری زندگی پریشانی  میں گذارو !”
 بو لی،” میں نے آپ کے  ساتھ کیا   زندگی پریشانی میں گذاری  ؟    میری طرف سے اجازت ہے "
میں نے  بیوی  سے کہا ،” ٹھیک ہے پھر اِسے سٹرک آف سٹرینتھ کر دو ۔ اور بھول جاؤ ”
بیٹے سے مخاطب ہوا ،” مانی ، آج سے ہمارا رشتہ ختم ہو رہا ہے ، اب تمھاری کامیابیوں اور ناکامیوں کے متعلق تمام معلومات ، تمھارے کمانڈنے آفیسر سے مجھے ملنا چاھئیے ۔ تمھاری طرف سے ماں کو نہیں ۔”
پھر اُس کا اور میرا بیٹا اُس مخلوق میں شامل ہوگیا ، جو شہید یا غازی بن کر لوٹتے ہیں ۔ جن کی میت کو کندھا دیتے ہوئے،  بین کرنا اُن کو اپنے  خاندان تک محدود کرنا ہے، کیوں کہ فوجی کا خاندان اُس کا وطن ہوتا ہے ، جس میں رہنے والے  عوام کی حفاظت کے لئے وہ ٹریننگ سنٹر میں قدم رکھتا ہے ۔ ٹریننگ کے دوران  چار فٹ ضرب چار فٹ کا سو گز دور لگے ٹارگٹ پر  لگی 4 انچ ضرب 6 انچ کی سفید چندی  اُس کا واحددشمن ہوتی ہے ،جس کا اُس نے نشانہ لگانا ہوتا ہے ، یہ دشمن اُس کے وطن کی حدوں سے باہر ہوتا ہے تو اُس کی بندوق نیچے رہتی ہے ، لیکن جو ں ہی وہ  سرحد عبور کرکے اُس کی طرف آتا ہے  ، اُس کی بندوق  اُس کے کندھے پر ٹک جاتی ہے اُسے  یہ بھی معلوم ہے کہ اُس کی طرف بڑھنے والا  ،
چار فٹ ضرب چار فٹ کا ساکت ٹارگٹ نہیں ، بلکہ کم و بیش اُسی کی طرح ماہر نشانہ باز ہے ، جنگی امور کی چالبازیوں اور پینتروں پر دسترس رکھتا ہے  اور دونوں میں سے جو پہل کرے گا ، وہ جیت جائے گا ۔ 
ہار اور جیت  ایک فوجی  کا مقدر ہوتی ہے۔   جیت پر خوشی کے نعرے بجائے جاتے ہیں۔
بہادری سے ہارنے والا   بندوقوں کی سلامی اور بگل کی آواز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جاتا ہے ۔ لیکن ہار کو گلے میں ماتم کا ہار بنا کر نہیں لٹکایا جاتا ۔
ایک  فوجی ،  سیاست دانوں کی چالاکیوں ، بیوروکریٹس کی رشہ دوانیوں اور ملاؤں کے حیلہ و جوازات پر ذرا بھی دھیان نہیں دیتا ۔
کون کیا کر رہا ہے؟  اُسے بالکل غرض نہیں ۔
کون اسپ، تازی ہے ؟اور کون ٹم ٹم کی دلدل ۔
اُسے صرف اپنے کمانڈنگ آفیسر کے ملنے والے احکامات کی عملداری سے سروکار ہوتا ہے ۔ وہ اپنے کام کو پورا کرنے میں مگن ہوتا ہے ، اُسے دوسرے کے پھٹے میں ٹانگ اڑانے کی فرصت نہیں ۔

 اُس کی بیوی اِس لئے نہیں اُس سے شادی کرتی کی وہ گھر جھولی بھر کر پیسے لاتا اور نہ اِسے یہ خواہش ہوتی ہے کہ اُسے ہر مہینے نہ سہی سال میں ایک بار  پکنک ٹور پر کسی دوسرے ملک لے جائے ۔
اُسے اِس بات سے بھی غرض نہیں  ہوتی ، کہ اُس کی چھوٹی بہن کے شوہر نے  نوکری کے دوسرے سال کارخرید لی اور  اُس کا شوہر میجر بن کر بھی قسطوں کی موٹر سائیکل پر اُسے اتوار کے اتوار بازار لے جاتا ہے ۔ 
بس وہ یہی دعا کرتی رہتی ہے کہ ہر صبح  اُس کا شوہر  اُس کے ہاتھ سے ٹوپی  لے کر  پہن کرمسکراتا ہوا گھر سے باہر جائے  اورو فخر سے یہ گنگنائے :

میں وردی نہیں پہنتی، لیکن میں فوج میں ہوں، کیوں کہ میں اس کی بیوی ہوں 
میں اس عہدے پر ہوں جو دکھائی نہیں دیتا، میرے کندھوں پر کوئی رینک نہیں 
میں سلیوٹ نہیں کرتی، لیکن فوج کی دنیا میں میرا مسکن ہے 
میں احکام کی زنجیر میں نہیں،لیکن میرا شوہر اس کی اہم کڑی ہے 
 میں فوجی احکام کا حصہ ہوں، کیوں کہ میرا شوہر ان کا پابند ہے 
میرے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں، لیکن میری دعائیں میرا سہارا ہیں 
میری زندگی اتنی ہی جانگسل ہے، کیوں کہ میں پیچھے رہتی ہوں 
میرا شوہر، جذبہ حریت سے بھرپور، بہادر اور قابل فخر، انسان ہے 
تپتے صحرا ہوں، ریگستان ہوں، برفیلے میدان یا کھاری سمندر 
ملک کی خدمت کے لئے اس کا بلاوہ، کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتا
میرا شوہر، قربانی دیتا ہے اپنی جان کی، میں اور میرے بچے بھی 
میں سرحدوں سے دور، امیدوں کے ہمراہ، اپنے پر آشوب مستقبل کی 
میں محبت کرتی ہوں اپنے شوہر سے، جس کی زندگی سپاہیانہ ہے 
لیکن میں، فوج کے عہدوں میں نمایا ں ہوں، کیوں کہ میں فوجی کی بیوی ہوں 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مجھے یوں لگا کہ سیاست فوجی آفیسروں کی بیویوں میں سرایت کرتی جا رہی ہے  یا فوجی آفیسر کی بیوی کے نام پر یہ خاتون مستقبل کا  کو ئی سیاست دان تیار کر رہی ہے ۔کیوں ایک فوجی کی بیوی  کبھی ایسا نہیں سوچی جیسا اِس خاتون نے لکھا، اور افسوس کی بات کہ  فوجیوں نے اِس بگولوں کی طرح گردش دی ، یہ سب فوجی نہیں بلکہ سیاسی ذہنوں کے چلے ہوئے کارتوسوں  کا کارنامہ ہے ۔
بھئی اگر آپ کو اپنے شوہروں  کے مرنے کا اتنا ہی شوق ہے ، تو اپنے شوہروں کو کہیں فوج چھوڑیں  ، پراپرٹی دیلر بن جائیں یا کسی مل میں نوکری کرنا شروع کر دیں !
کرنل سہیل کی تصویر اور اُس کے بچوں کے چہرے پر پھیلے ہوئے غم کو اپنا قلم بیچنے کا ذریعہ نہ بنائیں ۔ اُنہیں معلوم ہے کہ اُن کا باپ  شہادت کےاُس رتبے پر سرفراز ہوا کہ جس کا تصور  کوئی نہیں کر سکتا ۔


 
تبصرہ کریں

Posted by پر 20 مئی, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

کواٹر ماسٹر کا گردہ مِشن

 1983 میں اِس ناچیز نے شیخوپورہ بنگلے میں ، ضیاء الحق اور اُس کے جرنیلی ساتھیوں کادو دن  کے کھانے کا انتظام و انتصرام کیا تھا ۔ ناشتے میں صرف  25 ڈشیں تھی اور سب سے ، مشکل ڈش بکرے کے 10کلو گردوں کی تھی جس کے لئے ، ناچیز ٹولنٹن مارکیٹ میں مارا مارا پھرا –

 کسی  درون خانہ رازدانِ قصائیاں ، نے بتایا ، کہ گوجرانوالہ جاؤ۔ وہاں سے  آپ کی مراد مل جائے گے ۔
 لاہور سے گجرانوالہ زقند لگائی وہاں بھی نایاب ، پھر ڈپٹی کمشنر کی مدد لی ، تو ہوٹلوں نے صدر کے نام پر گردوں کے دَر کھول دیئے ۔ 
 یہ فاتح،  ماژندران سے ہفتِ اقلیم لے کر ،کامیابی سے ” گردہ مشن ” مکمل کر کے شیخو پورہ پہنچا ۔ جہاں کمانڈنگ آفیسر نے پیٹھ تھپکی اور کہا، 

   ” کواٹر ماسٹر یو آر گریٹ ”  
فیس بُک پر پیش کی جانے والی ایک  ثنا اللہ احسن کی ایک تحریر ، جس نے  اِس بوڑھے کے ذہن کو تحت الشعور میں لمبا غوطہ لگوایا  اور بالا گوہر،  نکلوا کر لانے والا  یہ جملہ تھا ۔” اس مضمون میں مصنف نے ایوب خان اور ضیا الحق کی جو عادات اور خوراک بتائی ہے وہ انتہائی سادہ ہے۔ اس کو آپ کھابے یا کھانے پینے کا حریص نہیں کہہ سکتے” ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭  
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
تبصرہ کریں

Posted by پر 5 مئی, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز: ,

شعور سے تحت الشعور میں چھلانگ

 کل بہت سے پرانی تصاویر کے ساتھ یہ تصویر بھی وٹس ایپ ہوئی –
تصویر نے کسی ماہر غوطہ خور کی طرح  شعور سے تحت الشعور کی تاریک گہرائیوں میں چھلانگ لگائی  ۔
اور گوگل کی طرح ، اِس سے ملتی جلتی تصویر نکال لائی ۔جو  قبل از  60 کی دھائی میں بالکل اِسی طرح  سبق حفظ کرنے   کی یاد    کی اِس بوڑھے کی تھی ، بس فرق یہ ہے کہ اُس وقت مُرغا بنے اِن بچوں کے سامنے  کتاب نہیں ، بلکہ تختی  ہوتی تھی ۔ جس پر سبق ہوتا یا پھر  کوئی ” رٹّو ” بچہ پڑھتا اور ہم سب اُسے  روہانسی آواز میں دھراتے  جاتے ۔
یہ کچی پکی کا نہیں ، بلکہ پہلی  کلاس اور اُس کے بعد کا دور تھا ، کچی اور پکّی میں  تو ، نرسری یا کے جی ، کلاس کی طرح ، نہ کتاب  تھی اور نہ قاعدہ ، بس موجیں، ہی موجیں  تھیں ۔1959 کی سردیوں میں دھوپ میں سورج  تلے   زمین پر  اور گرمیوں میں ،  گورنمٹ برکی سکول  ، اے ایم سی سنٹر ایبٹ آباد کے ، گاڑیوں کے بڑے سے شیڈ   کے نیچے  بیٹھ کر کچی اور پکّی  ایک ساتھ پڑھی ۔
پھر ابّا کی ٹرانسفر    ، نوشہرہ ہو گئی ۔ دوبارہ پھر برکی سکول میں  1964 میں  چوتھی کلاس  میں واپسی ہوئی ۔

مضمون لکھا جا رہا ہے 

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 14 اپریل, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز:

گاتا جائے بنجارہ

 دُھک دَھنا دَھن دُھک !

گاتا جائے بنجارہ
دُھک دَھنا دَھن دُھک !
 

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 25 فروری, 2018 in Uncategorized

 

ٹیگز:

مسالچی یا مشعل چی !

انگریزوں کو مصالحوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ، ہاں انہیں مشعل کا استعمال آفیسرز میسوں میں ضرور کرنا ہوتا تھا ، پاکستانی کیوں کہ مصالحوں سے دلچسپی رکھتے تھے لہذا، رومن انگلش نے مشعل چی ، کو مصالحہ چی سے مسالچی” کر دیا ، جس کی جگہ ہمیشہ ایک ویٹر رکھا جاتا تھا ،

کشمیر میں پیٹرومکس جلانے کا ماہر ہونا ضروری ہوتا تھا ، ورنہ ” مینٹل ” ایک جھٹکے سے ٹوٹ جاتا تھا ۔ ہر سیکنڈ لفٹین کو  پیٹرومیکس لیمپ جلانے کی تربیت دی جاتی اور مینٹل ٹوٹنے پر ادائیگی سیکنڈ لفٹین کرتا جو ایک روپے کے چار آتے تھے ،  ہمارے سی او لیفٹنٹ کرنل  محمداسلم   (ائر ڈیفنس سے فیلڈ گنّر)  جنہوں نے مشرقی پاکستان میں 1971 کی جنگ بطور میجر لڑی ، قید ہوئے اور رہائی پر پاکستان آئے ، اُن کے پاس مشرقی پاکستان کے بہت قصے تھے  ، اُنہوں نے  یہ راز کھولا تھا ، ایسٹ پاکستان میں ” لالٹینیں ” جلانے کے لئے ایک "موشل جی” رکھا جاتا تھا ۔ اِس پوسٹ نےایک  سیکنڈ لیفٹنٹ کو ایک بہت پرانی یاد، تحت الشعور (ھارڈ ڈسک) سے شعور(ریم میوری) میں اچھال دی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
In my early days in the Army, I was once detailed as a member of a Board to carry out a review of the existing TO & E (Table of Organisation & Equipment). It was quite an education because I came to know the complete details of manpower, equipment and weapons authorised to a Field Artillery Unit. However, I could not undestand the logic of having a "Masalchi” in the Officers Mess whereas the cookhouse for other ranks, which catered for a very large dining strength did not have a "Masalchi” !

I asked a few collegues and some seniors but everyone said, ” One Masalchi less or more does not effect the combat efficiency of a unit – so just forget it”

This nagging thought stayed with me till I retired from the Army. Then, one day as I was going through a novel, "Ravi Lancers” by Brig John Masters (Retd), I came across a passage in which, the Mess Sergeant, in preparation of a Dinner for the General Officer Commanding, tells the "Mashalchi” to have all the Kerosene lamps filled with fragrant oil as well as fix new wicks.

It then dawned on me that the "Masalchi” was actually "Mashalchi” whose task in the pre-electricity days was to account for and maintain all the lamps in the Officers Mess. The lamps gave way to modern era electric lights, and the "Mashalchi” became "Masalchi” and continues till today . (unkown Veteran)

٭٭٭٭٭رنگروٹ سے آفسر تک ٭٭٭٭٭٭
 
تبصرہ کریں

Posted by پر 14 اکتوبر, 2017 in Uncategorized

 

ٹیگز:

جمہوریت اور الیکشن – پاکستان

کہا جاتا ہے ، کہ  جمہوریت  دراصل ” عوام کی کے ذریعے ، عوام کی حکومت ہوتی ہے -”

جس میں کُل ، عوام اپنے حلقے کے امیدوار کو منتخب کرتے  ہیں ۔
پاکستان کا جمہوریت کی طرف قدم ایک لمبی مگر یاد رکھنے والی داستان ہے ۔  جس کا بحیثیت ایک فوجی  1970 سے میں بھی ایک خاموش  کردار ہوں ۔ جہاں گپ ،  لنگر گپ اور سیاست پر دھواں دھار   بحث  ہوتی ہے ، اَن دیکھے اور کانوں سنیے واقعات میں حسبِ ضرورت   چاشنی بھر کر دلچسپی کا تسلسل  برقرار رکھا جاتا ہے – لیکن دیکھتی آنکھوں  سے سنتے کانوں تک کئی پیچ و خم ڈال دیئے جاتے ہیں ۔ 
 

٭-  پاکستان میں پہلے عام انتخابات صوبہ پنجاب میں مارچ 1951ء میں منعقد ہوئے۔ یہ انتخابات 197 نشستوں کے لیے منعقد ہوئے۔ کل 939 امیدواروں نے 189 نشستوں کے لیے مقابلہ کیا، جبکہ 8نشستوں پر بلامقابلہ ارکان منتخب ہوئے۔ ان انتخابات میں کل سات سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ کل رجسٹرڈ شدہ ووٹروں کی تعداد تقریباً نو ے لاکھ  تھی۔ ان انتخابات میں ٹرن آؤن بہت کم رہا، لاہور جو صدر مقام ہے میں بھی صرف %30 ٹرن آؤٹ رہا۔ یعنی 27 لاکھ  افراد نے ووٹ ڈالے اور 63  لاکھ افراد گھر میں بیٹھے رہے ۔ لیکن ایک بات قابلِ غور ہے کہ کہیں بھی ، جعلی ووٹ ڈالنے کا شور نہیں اُٹھا – شائد اُس وقت پنجاب کے لوگوں کو مغرب سے آئے ہوئے لوگوں نے چالاکیاں نہیں سکھائی تھیں ۔
٭- دسمبر 1951ء میں صوبہ سرحد میں صوبائی انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔  ہارنے والے امیدواروں نے انتخابات کے نتائج ماننے سے انکار کر دیا اور مبینہ بدعنوانی اور دھاندلی کے الزامات لگا کر پاکستان کی انتخابات کی تاریخ کو ایک نئے راستے پر ڈال دیا  ۔
٭-  اسی طرح مئی 1953ء میں صوبہ سندھ کے صوبائی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ کو شکست ہوئی اور بنگالی قوم پرست جماعت نے جیت حاصل کی۔ ہارنے والوں نے اپنی شکست کھلے دل سے قبول کرنے سے انکار کر دیا  اور  بدعنوانی اور دھاندلی کے الزامات لگائے گئے-
چاہیئے  تو یہ تھا کہ اُنہیں دھاندلی کا سدباب کرناچاہیئے  تھا ۔ ” اگلے انتخاب میں  ہم دیکھیں گے ” کی سوچ نے پاکستانی انتخابی نتائج نے ایسا زہر گھولا کہ ساری تاریخ مسموم ہو گئی ۔ جمہوریت  کا پودا ، انسانی ووٹوں  کی آبیاری سے پروان چڑھتا ہے ، جس ملک کے عوام اپنے ووٹوں کا استعمال نہ کریں  تو اُن کے ووٹ رات کی تاریکی میں نکلنے والی چڑیلیں لے اُڑتی ہیں  ۔  اور پاکستان قائد اعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت  کے بعد  پاکستان پر اقتدار کی چڑیلیں منڈلاتی رہیں  اور زمین پر  لمبے دانتوں والے مگر مچھ  –
٭-   وزیر اعظم   لیاقت علی خان    ( 14 اگست 1947  تا 16  اکتوبر 1951 ) کی شہادت  کے بعد  ،سر خواجہ ناظم الدین   (17 اکتوبر  1951 تا    17 اپریل  1953) پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔
٭-   1954 میں جب   بنگالی وزیر اعظم صاحبزادہ محمد علی بوگرا   ( 17 اپریل 1953 تا 12 اگست 1955 ) نے گورنر جنرل ملک  غلام محمدکی دعوت پر نئی وزارت تشکیل دی تو اس میں اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کو بھی شامل کیا گیا۔ یوں جنرل ایوب خان پاکستان کے وزیر دفاع بن گئے۔
٭- وزیر اعظم   چوہدری محمد علی  (12 اگست  1955 تا 12 ستمبر  1956 )  کے بعد حسین شہید سُہروردی ( 12 ستمبر  1956  تا 17 اکتوبر 1957 ) وزیر اعظم رہے ۔ پھر ابراھیم اسماعیل چندریگر ( 17 اکتوبر 1957  تا   16 دسمبر 1957 ) وزیر اعظم رہے ۔ پھر سر فیروز خان نون (  16 دسمبر 1957 تا 7 اکتوبر 1958 )  پاکستان کے وزیر اعظم رہے ۔
اُس کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان سے وزراءِ  اعظم کی بساط لپیٹ دی جو ایک دلچسپ کہانی ہے ، اور مزے کی بات یہ وزیر اعظم سنا ہے   کہ سلیکٹ تو بذریعہ ووٹ ، ممبر اسمبلی ہوئے تھے ، لیکن  بطور وزیر اعظم نامزد ( گورنرجنرل   یعنی صدر ) نے کئے ۔ آگے چلنے سے پہلے پاکستان کے اُس وقت کے گورنرجنرلز پر نظر ڈال لی جائے ۔
 یہ تو سب کو معلوم ہے کہ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل   قائد اعظم ( 14 اگست 1947  تا 11 ستمبر 1948 )  تھے ۔ جن کے وزیر اعظم لیاقت علی خان تھے ۔ جس سے آپ گورنر جنرل کی طاقت کا اندازہ  لگا سکتے ہیں ۔ یعنی ساری اسٹیبلشمنٹ کے حاکم قائد اعظم تھے ۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد    گورنر جنرل کا عہدہ، سر خواجہ ناظم الدین      ( 11 ستمبر 1948 تا 17 اکتوبر 1953 ) کے پاس رہا – وہ  وزیر اعظم منتخب  (17 اکتوبر  1951 تا    17 اپریل  1953) ہوئے تو یہ عہدہ    ، ملک غلام محمد(17 اکتوبر1951 تا   7 اگست 1955)      کے پاس آیا ۔   جہاں سے یہ عہدہ   ڈپٹی گورنر اسکندر مرزا  (کے پاس گیا  اور پھر  اُسی کے پاس   (6 اکتوبر 1955 تا 23 مارچ 1955 ) تک  رہا ۔ کیوں کہ اقتدار کے گُلی اور ڈنڈے کا جو کھیل ملک غلام محمد نے شروع کیا  وہ خود اُس کا شکار ہو گئے ۔
ہوا یوں  کہ گورنر جنرل اور وزیر اعظم کے درمیان دھینگا مشتی شروع ہوئی تو ،   پارلیمنٹ (مقننہ ) نے گورنر جنرل اور اپنے درمیان  دونوں پلڑے برابر رکھنے کے لئے ۔  1935 کا ایکٹ ( آرٹیکل 52) میں تبدیلی لے آئی جو ،  گورنر جنرل ملک غلام محمد کو پسند نہیں آیا اور جناب اس نے ،صدر اسحاق خان کی طرح  جمہوریت کا بوریا بستر گول کر کے وزیر  اعظم خواجہ ناظم الدین کو پارلیمنٹ سے باہر کا راستہ دکھایا اور  محمد علی بوگرا  ( 17 اپریل 1953 تا 12 اگست 1955) کو ملک کا وزیر اعظم نامزد کر دیا ۔
سپریم کورٹ اُن دنوں کراچی میں ہوتی تھے ، مولوی تمیز الدین کیس تو آپ نے سنا ہوگا نا ؟
بس مولوی تمیز الدین نے سپریم کورٹ میں کیس دائر کر دیا  ،  چیف جسٹس سر جارج بیکسنڈل کانسٹنٹائین  نے ،  خواجہ ناظم الدین کی  وزارت بحال کر دی ، تو  ملک صاحب نے سپریم کورٹ  کو ہی فارغ کر دیا اور جناب جسٹس منیر  محمد ( 29 جون 1954 تا  2 مئی 1960) کو چیف جسٹس سپریم کورٹ لگا دیا  –  


1958ءمیں جب ملک میں طوائف الملوکی (طوائفوں  کی ملکیت ) اپنے عروج پر پہنچ گئی تو جناب  میجر جنرل  ، گورنر جنرل ،اسکندر مرزا نے  پاکستان میں مارشل لاء لگادیا  اور خود کو گورنر جنرل سے صدارت پر متمکن کر دیا ، اور جمہوریت ختم ہو گئی- 

اتنی بڑی ہمت  کیسے ہوئی ؟ یہ دیکھنے کے لئے ہمیں  پاکستان کے جرنیلوں کی داستان بھی دیکھنا ہوگی ۔
لیکن پہلے پڑھیں :  
آئینِ پاکستان ، اسلام اور مسلح افواج
اسکندر مرزا ، برٹش فوج کا ایک ایرانی ہونہار آفیسر تھا  ۔جب وہ پاکستان بننے  کے بعد پاکستان فوج میں  ٹرانسفر کیا گیا ، تو وہ لیفٹننٹ کرنل تھا ۔برٹش گورنمنٹ میں وہ جائینٹ ڈیفینس سیکریٹری تھا ۔ چنانچہ پاکستان میں وہ  وزیر اعظم لیاقت علی خان کی گورنمنٹ میں ڈیفینس سیکریٹری ( میجر جنرل) اپائینٹ ہوا  ۔
1951 میں لیاقت علی خان  نے فیصلہ کیا کہ اب برٹش جنرلز کو پاکستان سے خدا حافظ کہا جائے اور پاکستانی میجر جنرلز کو لیفٹننٹ جنرل بنا کر پہلا پاکستانی فور سٹار جنرل  پاکستان کی افواج کا کمانڈر انچیف  بنے ، یہ سب پلاننگ  اسکندر مرزا نے بحیثیت ڈیفنس سیکریٹری کی اور   میجر جنرل  افتخار خان ،
میجر جنرل اکبر خان (رنگروٹ )  ، میجر جنرل اشفاق المجید اور  میجر جنرل این اے ایم رضا    کو لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر پروموٹ  ہونا تھا ۔    میجر جنرل  افتخار خان ، نے فور سٹار جنرل بن کر  کمانڈر انچیف کا عہدہ سنبھالنا تھامگر  فضائی حادثے میں کراچی کے پاس جان بحق ہو گئے اور  جناب  وزیر اعظم لیاقت علی خان نے  تین جرنیلوں کو نظر انداز کر کے ، میجر جنرل محمد ایوب خان (جونئیر موسٹ) کو لیفٹنٹ جنرل بنا کر ، 17 جنوری 1951 کو کمانڈر انچیف پاکستان فورسز  بنا دیا –


اسکندر مرزا نے 8 اکتوبر 1958ءکو ملک میں مارشل لا نافذ کردیا اور آئین کو معطل کردیا۔ جنرل ایوب خان مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پرفائز ہوا۔
24 اکتوبر 1958ءکو جنرل ایوب خان  کو وزیر اعظم بنا دیا گیا۔

 لیکن فقط تین دن بعد 27 اکتوبر 1958ءکو اٗس نے صدر اسکندر مرزا کو معزول کرکے صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات سنبھال لیے۔
اسکندر مرزا  کی تمام جائداد ضبط کر کے اُس کو برطانیہ جلاوطن کردیا گیا ۔ جہاں اُس کا انتقال 1969 میں ہوا ، اُسے یحییٰ خان نے پاکستان میں دفن کرنے کی اجازت نہ دی اور شاہ ایران نے اُسے پورے اعزاز کے ساتھ تہران میں دفن کروایا ۔ 


صدر ایوب خان نے نہایت تیزی سے ملکی صورتحال کو سنبھالا اُس  نے فوجی اسپرٹ سے رات دن کام کرکے ملک میں کئی مفید اصلاحات نافذ کیں ۔

٭- 27 اکتوبر 1959ءکو فوج نے صدر جنرل ایوب خان کو ملک کا اعلیٰ ترین فوجی عہدہ فیلڈ مارشل پیش کیا گیا۔ اسی روز ملک میں بنیادی جمہوریت کا نظام نافذ کردیا گیا۔
 17 فروری 1960ءکو فیلڈ مارشل ایوب خان ملک کے صدر منتخب ہوئے۔ 8 جون 1962ءکو انہوں نے مارشل لا کے خاتمے اور صدارتی طرز حکومت کے نئے آئین کے نفاذ کا اعلان کیا۔جنوری 1965ءمیں ملک میں ایک مرتبہ پھر بنیادی جمہوریت کے نظام پر مبنی صدارتی انتخابات منعقد ہوئے جس میں ایوب خان نے کامیابی حاصل کی۔
٭- ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کا نظام وضع کیا تھا۔ اس میں بنیادی کردار چوہدری خلیق الزماں تھا۔ چوہدری خلیق الزماں لکھنؤ میں کسی دوسری جگہ سے منتقل ہوئے تھے۔ چوہدری سلیم الزماں صدیقی جو 97 برس کی عمر پاکر 15 سال پہلے کراچی میں وفات پا گئے تھے، خلیق الزماں کے چھوٹے بھائی تھے۔ خلیق الزماں نے ایوب کے سیاسی گرو کی حیثیت سے انہیں بنیادی جمہوریت (بیسک ڈیموکریسی Basic Democracy) کا نظام رائج کرنے اور کراچی سے دارالحکومت منتقل کرنے کا مشورہ دیاتھا۔ بیسک ڈیمو کریسی سسٹم کے اولین انتخابات 1959ء میں منعقد ہوئے۔ مشرقی و مغربی پاکستان سے 80 ہزار بی ڈی ممبرز (Members Basic Democracy) منتخب کرائے گئے۔ جن میں 8 بی ڈی ممبرز پر مشتمل یونین کونسل ایک چیئرمین کی سربراہی میں قائم کی گئی۔
بنیادی جمہوریت کے نظام میں ، 80 ہزار مڈل اور اپر کلاس کے لوگوں کو ووٹ کا حق دیا۔ اگرچہ 110 ملین آبادی والے ملک میں یہ ایک چھوٹا ہندسہ معلوم ہوتا ہے خاص طور پر اس لیے کہ یہاں زیادہ تر لوگ نہ صرف ان پڑھ بلکہ سیاسی شعور سے مکمل طور پر ناواقف تھے۔ دیہاتی علاقوں سے بہت زیادہ سپورٹ کے علاہ بہت سے باشندے عورتوں کی الیکشن میں حصہ لینے کے خلاف تھے۔ دیہاتی علاقوں میں صدر ایوب کی اصلاحات شہری علاقوں سے بھی زیادہ فائدہ مند ثابت ہوئی تھیں۔
٭- پاکستان جیسے ملک  میں ، سیاسی  پرخاش کے فساد  کی ابتداء  اگر کہیں کہ  1964 سے شروع ہوئی تو غلط نہ ہوگا ۔ اِس سے پہلے کے اگر انتخاب پر نظر ڈالیں ، تو 1947 کے آزادی کے ریفرنڈم  میں   کوئی   سیاسی پرخاش نہ تھی جس پیمانے پر اب شروع ہوئی ہے ۔ عوام کو جھوٹے وعدوں کی امید دلانا اور حکومت کی اچھائیوں کو چھپا کر بُرائیوں کو محدب عدسے کے نیچے دکھانا، بلکہ یوں کہیں کہ  مغربی ملکوں کی جمہوریت جو پڑھے لکھے لوگوں میں مروّج تھی وہ پاکستان کی اَن پڑھ عوام  میں دھوم دھڑکوں سے  اُکسا کر   رائج کرنا  ایک اچھا رجُحان نہ تھا ۔ پاکستان کے قیام کے لئے ، یک مقصد نعرہ ” مسلم ہے تو مُسلم لیگ میں آ  " ایک مکمل اور جامع نعرہ تھا ، جو علی گڑھ کے نوجوانوں نے ایجاد کیا تاکہ ہندوؤں سے علیحد ہ تشخّص بنایا جائے ، جبکہ وہ لوگ کو خود کو دیگر مسلمانوں ، راہِ راست سے بھٹکا ہوا سمجھتے اور خُود کو راہ راست پر پابند مسلمان سمجھتے ، اُنہوں نے ، اِس نعرے کو ایک کان سے سنا اور دوسرے کان سے اُڑا دیا ۔ اور اُن کے فہم کے مطابق ،  راہ راست سے بھٹکے ہوئے لوگ مسلم لیگ کی چھتری  تلے آگئے ۔ اِن لوگوں نے دبے دبے لفظوں میں ، میڈیا کو استعمال کر کے ، کافرِ اعظم کی قیادت قبول کرنے کا شوشہ بھی چھوڑا ۔ رہی محترمہ فاطمہ جناح ، وہ تو تھی بہن، لیکن 1964  میں بڑی بُرائی (ایوب خان مسلمان) سے چھوٹی برائی ( کافر کی بہن) کو اُنہی جماعتوں نے اپنا لیڈر بنا لیا ۔ 

 ایوب کا دعویٰ کہ وہ بنیادی جمہوریت کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور  پرسکون انداز میں پاکستانیوں کی زندگی گذر رہی  ہے ،  ہر طرف سب اچھا کی رپورٹ ہے ،   کے جواب میں فاطمہ جناح نے کہا: ” یہ کونسی جمہوریت ہے؟ ایک آدمی کی جمہوریت یا پچاس آدمیوں کی جمہوریت؟ ”
جب ایوب نے کہا کہ ان کی شکست ملک میں دوبارہ بد امنی پیدا کر دے گی تو فاطمہ جناح نے کہا: ” آپ زبردستی، اتھارٹی اورڈنڈے کے زور پر ملک میں استحکام پیدا نہیں کر سکتے”

  لیکن کہا جاتا ہے کہ ،  فاطمہ جناح  نے ایوب خان سے تنگ آئے ہوئے لیڈروں کے اُکسانے پر ،  ایوب خان سے الیکشن کروانے کا مطالبہ کر دیا تھا ۔
2  جنوری 1965ء کو  محترمہ فاطمہ جناح اور صدر ایوب کے درمیان انتخابات ہوئے ۔ایوب خان نے فاطمہ جناح کو بھارتی اور امریکی ایجنٹ قرار دے دیا تھا۔ سکیورٹی اسٹیبلیشمنٹ کا یہ آزمودہ حربہ ہے۔ایوب خان  نے فاطمہ جناح کے بارے میں اس موقع پر کہا،
لوگ انہیں مادر ملت کہتے ہیں اس لیے انہیں مادر ملت ہی بن کے دکھانا چاہیے” ۔
کیوں کہ ، ایوب خان کو پریشان کرنے والی بات یہ تھی کہ فاطمہ جناح پینٹ میں بہت دلکش دکھائی دیتی تھیں۔ فاطمہ جناح جتنا زیادہ صدر ایوب پر تنقید کرتیں عوام اتنا  ہی انہیں سپورٹ کرتے۔آخری ہفتے تک جب صدارتی الیکشن صرف چند دن کی دوری پر تھے ، ان کی اپوزیشن اس قد ر عروج پر پہنچ گئی کہ انہیں اس قدر مخالفت کا سامنا پچھلے چھ سال ملا کر بھی نہیں کرنا پڑا۔کوثر نیازی نے  روایات کا سہارا لے کر عورت کی سربراہی کو مسلمانوں کے لئے نحوست قرار دیا ۔
فوجی چھڑی کے مقابلہ میں ۷۱ سالہ سفید بالوں والی فاطمہ جناح پانچ مختلف سیاسی جماعتوں کی متفقہ امیدوار تھیں، کیوں کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن تھیں جن کی بدولت پاکستان کوآزادی ملی تھی۔انتخابی نشان لالٹین تھا – لیکن پاکستانی عوام کا فاطمہ جناح کی طرف سے حکومت پر حملوں پر رد عمل بہت حیران کن تھا-
ویسے تو ہمارے الیکشنوں کے بڑے کمالات ہیں۔ یہاں مرے ہوئے لوگوں کے ساتھ ساتھ ہمارے غیر ملکی مہمان، پاکستانی شہریت نہ ہونے کے باوجود، بہت سے حلقوں میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔
 حزب مخالف کے سیاستدانوں کو اس بات کا مکمل یقین تھا کہ محترمہ کامیاب ہوں گی، لیکن الیکشن کمیشن نےصدر ایوب کامیاب قرار دے دیا ۔اور پاکستان کے الیکشنز میں ” جھرلو ” کی اصطلاح مستحکم ہو گئی ۔ فوج نے پاکستان میں ایمانداری سے الیکشن کروانے کے لئے قدم رکھ دیا ، بہت بُرا کیا ۔ 
اپنی فوجی سروس کے دوران میں نے ، 1984 کا ریفرنڈم ، 1985 کا الیکشن ، 1988 کا الیکشن،  اِن میں سکیورٹی کی ڈیوٹی کپتان اور میجر کی حیثیت سے انجام دیں ۔ 1990 اور 1997 کے الیکشنز  ،  الیکشن کمیشن کی پُرامن الیکشن کروانے میں مدد کی ۔ میڈیا اور ہارے ہوئے  نمائیندوں نے خوب دھول اُٹھائی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ، اپنی بساط کے مطابق کسی قسم بدامنی نہیں ہونے دی ۔
لیکن میں نے الیکشن کمیشن   کے مقامی مددگار نمائیندوں کی طرف سے جھرلو پھرتے بھی دیکھا اور پنکچر لگتے بھی ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پڑھیں :     
 داستانِ پنکچر   

آئینِ پاکستان ، اسلام اور مسلح افواج

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 12 اگست, 2017 in Uncategorized

 

ٹیگز: , ,

زندہ قوم کا پہلا فرد !


استادوں سے مار کھا کر آتے اور وہ بھی بُری طرح ، تو سوال ہوا ۔
"کیا شرارت کی ؟ "
اور یہ سول کرنے والی ماں ہوتی کیوں کہ اُس نے گرم اینٹ پر کپڑا لگا کر سینکنا ہوتا ، وہ بھی  مردہ قوم کی ایک فرد تھی ۔
والد نے مردہ قوم کا ثبوت دینے اپنے ہمدردوں کے ساتھ ، کبھی ماسٹر صاحب پر چڑھائی نہیں کی ، کبھی پرنسپل کے خلاف کوئی جھوٹی ایف آئی آر اِس بنا پر  نہیں کٹوائی ۔ کہ وہ   مردہ  قوم کے فرد  تھے ۔
کھیل میں آپس میں لڑائی ہونا معمولی بات تھی ۔ لیکن وہ محلاتی گالیوں سے کبھی آگے نہ بھی –
 میں نے اپنی زندگی میں زندہ قوم کا پہلا فرد دیکھا ۔
  وہ ہمارا محلہ دار تھا ۔  ہاکی کھیلنے کے دوران اُس کو میری گیند لگ گئی تو وہ لپک کر مجھے مارنے آیا ، لیکن دوستوں نے بیچ بچاؤ کروا دیا ۔ 
مغرب پڑھ کر میں مسجد سے واپس آرہا تھا ۔ کہ اُس نے مجھے روک لیا۔
” تم خود کو بدمعاش سمجھتے ہو ؟” اُس نے اپنی چپل پیروں سے نکالتے ہوئے کہا ۔
” شکل گم کرو ، کل گروانڈ میں دیکھیں گے ” ۔ میں نے جواب دیا ۔
میرے منہ پر ایک زور کا گھونسہ لگا ۔
 اُس کے بعد مجھے معلوم نہیں کیا ہوا وہ زمین پر تھا اور محلے والے ہمیں چھڑا رہے تھے – ہم دونوں کی ناکوں سے خون بہہ رہا تھا –
واپس مسجد کے نلکے سے منہ دھو کر ، گھر آگیا ، بجلی تو اُس وقت تک آئی نہیں تھی ، لالٹین کی روشنی میں والدہ نے دھیان نہیں دیا ۔ 
کہ برخوردار کی ناک سوجی ہوئی ہے – 
تب مجھے معلوم ہوا کہ زندگی کیا ہوتی ہے !
دو سال پہلے ۔ محلے کا دوست  رائیونڈ سے راولپنڈی ، مری تک پہنچا واپسی میں فون کیا ۔
” اوئے میجر ۔ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ تمھیں ملنا ہے!  "
"آجاؤ ” میں نے کہا
” نہیں کل دوپہر کو آئیں گے ابھی مری میں ہیں ” وہ بولا ۔ 
 ” کھانا ساتھ لاؤ گے ۔ یا مجھے دیگ بنوانا پڑے گی ” میں نے پوچھا ۔
” زیادہ نہ بنانا ، بس دو دیگیں کافی ہوں گی ، زردے  کی دیگ کے علاوہ ۔ ارے ہاں ہم پلاؤ اور نان کھاتے ہیں ۔”
” آجاؤ ، آجاؤ  ، اب سال بھر روزہ رکھنا پڑے گا ، تم نے روز روز کب آنا ” میں نے جواب دیا
دوسرے دن ، وہ دوست بمع جماعت  حاضر تھا  ، کھانا کھانے کے بعد  ، ایک نوجوان نے پوچھا ۔
"میرپورخاص مں آپ دونوں ایک دوسرے  سے واقف تھے ؟”
” مکہ مسجد  کے ساتھ گذرنے والی ، والی سڑک کے پار شمالی محلّے میں   یہ زندہ قوم کا فر دتھا اور جنوبی محلّے میں میں !
جَنوں کا نام خِرد رکھ دیا ۔ خِرد کا جَنوں 
جو چاہے آپ کا حُسن کرشمہ ساز کرے
 
تبصرہ کریں

Posted by پر 4 جولائی, 2017 in Uncategorized

 

ٹیگز:

کِس کِس "فوجی " کو یاد ہے؟

ریفرینڈم مشن ! 19 دسمبر 1984  
 
قادر غوری نے ، بہت پرانی یاد کو چھیڑ دیا ۔

اُس وقت آپ ڈیوٹی کہاں لگی تھی؟
میں سکھر میں تھا ۔
گھنٹہ گھر تھانے میں ہیڈ کواٹر بنایا تھا ۔
اور مزے سے ٹیوی دیکھتا رھا۔ وہ اِس طرح ، کہ دس بجے ایک خدائی فوجدار کو تھانیدار میرے پاس لایا کہ ” سر ! یہ شخص فساد کروانے کی کوشش کر رہ تھا "۔

اِس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا ، اُس نے تقریر شروع کی ،
” برگیڈئر صاحب ”
” برگیڈئر نہیں ، کیپٹن” میں نے ٹوکا ۔
” کرنل صاحب "
” کرنل نہیں ، کیپٹن” میں نے دوبارہ ٹوکا ۔
” کیپٹن صاحب ، کچھ شر پسند لوگ ، اسلامی نظام کے لئے ووٹ ڈالنے سے لوگوں کو روک رہے ہیں ، خدارا کچھ کیجئے ؟ وہ نہ پاکستان پر سوشلسٹوں کا قبضہ ہو جائے گا ۔ کرنل صاحب ۔ ۔!
” کپتان ” میں نے تیسری بار ٹوکا ، ” یہ بتاؤ تم نے ووٹ ڈال دیا ہے "
” جی سر میں نے اسلامی نظام کے لئے ووٹ ڈال دیا ہے ” وہ بولا ۔
” گڈ ، شاباش ” میں نے تعریف کی ” تھانیدار صاحب ، اِس نوجوان کو لے جا کر بند کر دیں ”
وہ نوجوان ھکا بکا رہ گیا تھانیدار نے اُسے بند کر دیا ۔
میں ٹی وی دیکھنے لگا ۔ آدھے گھنٹے بعد ، دو نوجوانوں کو محرر لے کر آیا ، ” سر یہ آپ سے ملنا چاھتے ہیں ؟
” جی کیا بات ہے ؟ ، میں نےے پوچھا ۔
” سر وہ ہمارا آدمی آپ سے ملانے کے لئے تھانیدار پولنگ سٹیشن سے لے کر آئے تھے ، واپس نہیں آیا "ایک بولا ۔
” محرر صاحب ” میں بولا ،” اِن دونوں کو بھی اندر بند کر دو ”
شام پانچ بجے تک میں بڑے آرام سے قومی وحدت کے نغمے سنتا رہا ، سکھر کے کسی بھی پولنگ سٹیشن میں کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی اور لوگوں نے دھڑا دھڑ ایک نہیں کئی کئی ووٹ ڈالے ۔ اور ہم نے ڈالنے دیا۔
کیوں کہ ایک رات پہلے فوجیوں کے لئے جو بیلٹ پیپر آئے تھے ، وہ ایک کپتان (میرا کورس میٹ ) کی کمانڈ میں ، ٹھکا ٹھک ، قبول ہے قبول ہے کی مہریں لگا رہے تھے ۔

اور پیلپز پارٹی والوں سمیت سب بشمول جماعتِ اسلامی ” جی ایچ کیو ” سے آنے والے اسلام،  کو سجدہ کر چکے تھے۔

 ٭٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭٭

رنگروٹ سے آفسر تک 

 
تبصرہ کریں

Posted by پر 22 جون, 2017 in Uncategorized

 

ٹیگز: